Bharat Express DD Free Dish

DMK-AIADMK In TN Alliance Talks-Sources: کیا تمل ناڈو میں دیکھنے کو مل سکتا ہے بڑا سیاسی الٹ پھیر؟ وجے کو روکنے کے لیے ڈی ایم کے اور اے آئی اے ڈی ایم کے اتحاد کی قیاس آرائیاں تیز

سیاسی حلقوں میں یہ بحث زور پکڑ رہی ہے کہ ریاست کی دو بڑی حریف جماعتیں، ڈی ایم کے اور اے آئی اے ڈی ایم کے، ممکنہ طور پر ایک اتحاد قائم کر سکتی ہیں تاکہ ٹی وی کے کو اقتدار میں آنے سے روکا جا سکے۔ اگر یہ اتحاد حقیقت کا روپ دھارتا ہے تو اسے تمل ناڈو کی سیاست میں ایک غیر معمولی اور تاریخی پیش رفت تصور کیا جائے گا۔

چنئی: تمل ناڈو کی سیاست میں اس وقت ایک بڑا سیاسی اتھل پتھل دیکھنے کو مل رہا ہے، جہاں حالیہ اسمبلی انتخابات کے نتائج نے روایتی سیاسی توازن کو بدل کر رکھ دیا ہے۔ اداکار سے سیاستدان بننے والے وجے کی جماعت ٹی وی کے نے غیر متوقع طور پر 108 نشستیں جیت کر سب سے بڑی پارٹی کے طور پر ابھر کر سب کو حیران کر دیا ہے۔ تاہم، حکومت بنانے کے لیے درکار 118 نشستوں کی اکثریت کسی بھی پارٹی کو حاصل نہیں ہوسکی۔ اسی صورتحال کے درمیان سیاسی حلقوں میں یہ بحث زور پکڑ رہی ہے کہ ریاست کی دو بڑی حریف جماعتیں، ڈی ایم کے اور اے آئی اے ڈی ایم کے، ممکنہ طور پر ایک اتحاد قائم کر سکتی ہیں تاکہ ٹی وی کے کو اقتدار میں آنے سے روکا جا سکے۔ اگر یہ اتحاد حقیقت کا روپ دھارتا ہے تو اسے تمل ناڈو کی سیاست میں ایک غیر معمولی اور تاریخی پیش رفت تصور کیا جائے گا، کیونکہ دونوں جماعتیں ماضی میں ہمیشہ ایک دوسرے کے خلاف برسر پیکار رہی ہیں۔

ذرائع کے مطابق وجے نے گورنر سے ملاقات کر کے حکومت سازی کا دعویٰ پیش کیا تھا اور 113 اراکین اسمبلی کی حمایت کا خط بھی پیش کیا۔ تاہم گورنر کی جانب سے واضح کیا گیا کہ حکومت بنانے کے لیے کم از کم 118 اراکین کی حمایت ضروری ہے۔ اس کے بعد وجے نے مزید وقت کی درخواست کی تاکہ وہ مطلوبہ تعداد پوری کر سکیں۔ اب سیاسی منظرنامہ اس بات پر مرکوز ہے کہ آیا ٹی وی کے مطلوبہ حمایت حاصل کر پائے گی یا مخالف جماعتیں مل کر کوئی نیا اتحاد تشکیل دیں گی۔ ریاست کی 234 رکنی اسمبلی میں ٹی وی کے کی موجودہ پوزیشن اسے سب سے بڑی جماعت تو بناتی ہے، مگر واضح اکثریت نہ ہونے کے باعث حکومت سازی میں مشکلات درپیش ہیں۔ اطلاعات کے مطابق وجے نے دو نشستوں پر کامیابی حاصل کی تھی، لیکن ایک نشست چھوڑنے کے بعد پارٹی کی مجموعی طاقت 107 تک محدود ہو سکتی ہے، جس سے اکثریت کا حصول مزید مشکل ہو جائے گا۔

ابتدائی طور پر یہ قیاس کیا جا رہا تھا کہ وجے 7 مئی کو وزیر اعلیٰ کے عہدے کا حلف اٹھا لیں گے اور کانگریس کی حمایت بھی انہیں حاصل ہو جائے گی، مگر عددی برتری نہ ہونے کے باعث حلف برداری کی تقریب ملتوی ہونے کے امکانات بڑھ گئے ہیں۔ اس غیر یقینی صورتحال نے ریاستی سیاست کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے۔ سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ اگر ڈی ایم کے اور اے آئی اے ڈی ایم کے واقعی اتحاد کرتے ہیں تو یہ صرف ایک وقتی سیاسی حکمت عملی ہو سکتی ہے، جس کا مقصد وجے کی بڑھتی ہوئی مقبولیت کو روکنا ہوگا۔ تاہم ایسے اتحاد کے دیرپا ہونے پر شکوک و شبہات بھی ظاہر کیے جا رہے ہیں، کیونکہ دونوں جماعتوں کے درمیان نظریاتی اور سیاسی اختلافات کافی گہرے ہیں۔

دوسری جانب عوامی سطح پر بھی اس بدلتے ہوئے سیاسی منظرنامے پر گہری نظر رکھی جا رہی ہے۔ ووٹرز کے لیے یہ صورتحال خاصی دلچسپ اور غیر متوقع ہے، جہاں ایک نئی سیاسی قوت کے ابھرنے نے پرانی جماعتوں کو نئی حکمت عملی اپنانے پر مجبور کر دیا ہے۔ ماہرین کے مطابق آنے والے دنوں میں سیاسی جوڑ توڑ مزید تیز ہو سکتی ہے اور یہی طے کرے گی کہ تمل ناڈو میں حکومت کس کے ہاتھ میں جائے گی۔ فی الحال تمام نظریں اس بات پر مرکوز ہیں کہ آیا وجے اپنی حکومت بنانے میں کامیاب ہوتے ہیں یا پھر روایتی حریف جماعتیں متحد ہو کر ایک نیا سیاسی باب رقم کرتی ہیں۔

بھارت ایکسپریس اردو۔



بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

Also Read