بہار اسمبلی انتخاب سے پہلے ووٹر لسٹ میں ترمیم کو لے کر سیاسی ہنگامہ برپا ہے۔ الیکشن کمیشن نے ووٹر لسٹ میں ترمیم کا اعلان کیا ہے، جس کا کئی اپوزیشن پارٹیاں مخالفت کر رہی ہیں۔ وہیں اب ترنمول کانگریس (ٹی ایم سی) کی رکن پارلیمنٹ مہوا موئترا نے اس معاملے میں سپریم کورٹ کا دروازہ کھٹکھٹایا ہے۔
الیکشن کمیشن کے فیصلے کو سپریم کورٹ میں کیا چیلنج
مہوا موئترا نے الیکشن کمیشن کے اس فیصلے کو سپریم کورٹ میں چیلنج کیا ہے۔ مہوا نے اسے آئین کی خلاف ورزی قرار دیا ہے۔ سپریم کورٹ میں دائر عرضی میں مہوا نے کہا ہے، ’’آئین کی دفعہ 32 کے تحت مفاد عامہ کی عرضی دائر کی گئی ہے۔ یہ عرضی الیکشن کمیشن کے 24 جون 2025 کو جاری کیے حکم کے خلاف ہے جس میں ووٹنگ لسٹ میں نظرثانی کرنے کی بات کہی گئی ہے۔ یہ حکم دفعہ 14، 19 (1) (اے) اور 325 و 328 کی خلاف ورزی ہے۔ اس سے بڑی تعداد میں ووٹر اپنی حق رائے دہی کا استعمال نہیں کر سکیں گے، جس سے نہ صرف جمہوریت کا وقار مجروح ہوگا بلکہ شفاف انتخابی نظام پر سوال کھڑے ہوں گے۔
بنگال سمیت دیگر ریاستوں میں بھی روک لگانے کا مطالبہ
سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر پوسٹ کرتے ہوئے مہوا نے لکھا، ’’بہار میں ایس آئی آر منعقد کرنے کے لیے الیکشن کمیشن کے نوٹیفکیشن کو چیلنج دیتے ہوئے سپریم کورٹ میں عرضی دائر کی ہے اور بنگال سمیت دیگر ریاستوں میں بھی ایس آئی آر منعقد کرنے پر روک لگانے کا مطالبہ کیا ہے۔‘‘
Just filed writ petition in Supreme Court challenging @ECISVEEP notification to conduct SIR in Bihar & seeking a stay on conducting the same in other states including Bengal pic.twitter.com/Mawp9ZrgzQ
— Mahua Moitra (@MahuaMoitra) July 5, 2025
عرضی میں اعتراض ظاہر کیا گیا کہ ملک میں یہ پہلی بار ہو رہا ہے کہ جس نے پہلے کئی بار ووٹنگ کیے ہیں تب بھی اسے اپنی شہریت ثابت کرنے کو کہا جا رہا ہے۔ عرضی دہندہ کا کہنا ہے کہ ووٹر لسٹ سے نام ہٹانے یا جوڑنے کا عمل صرف RER ضابطہ، 1960 کے ضابطے 21 اے اور ضابطے 13 پڑھے جانے والے فارم 7 کے تحت ہی کی جا سکتی ہے۔
واضح رہے کہ الیکشن کمیشن کی طرف سے ایسے ہی عمل دوسری ریاستوں میں نافذ کرنے کی بھی تیاری کی جا رہی ہے۔ مغربی بنگال میں اگلے سال اسمبلی انتخابات ہونے والے ہیں۔ الیکشن کمیشن کے عمل پر اپوزیشن سیاسی جماعتیں مسلسل سوال کھڑی کر رہی ہیں۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

