نئی دہلی: ریلوے وزیر اشونی ویشنو نے جمعہ کو راجیہ سبھا میں بتایا کہ ملک میں ٹرین حادثات کی تعداد میں گزشتہ ایک دہائی کے دوران تاریخی کمی درج کی گئی ہے۔ وزیر کے مطابق مالی سال 2025-26 میں (نومبر 2025 تک) صرف 11 ٹرین حادثے رپورٹ ہوئے ہیں، جبکہ 2004 سے 2014 کے درمیان یہی تعداد 1711 تھی، یعنی ہر سال اوسطاً 171 حادثے۔ یہ کمی تقریباً 93 فیصد ہے، جو ریلوے کی سکیورٹی اصلاحات کی بڑی کامیابی سمجھی جا رہی ہے۔
وزیر نے ایوان کو بتایا کہ 2014-15 میں ٹرین حادثات کی تعداد 135 تھی، جو اب گھٹ کر 2024-25 میں 31 رہ گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ’’مسافروں کی حفاظت بھارتی ریلوے کی اولین ترجیح ہے‘‘ اور اسی کے تحت مسلسل تکنیکی بہتری، ٹریک مینٹیننس، جدید سگنل سسٹم اور حفاظتی آلات پر توجہ دی گئی ہے۔
تحقیقات اور سکیورٹی ذمہ داریاں
ریلوے وزیر کے مطابق، کسی بھی غیر معمولی واقعے کی فوری اور گہری جانچ کی جاتی ہے۔ اگر تکنیکی خرابیاں نہ پائی جائیں تو ریاستی پولیس کی مدد لی جاتی ہے۔ زیادہ پیچیدہ معاملات میں سی بی آئی اور این آئی اے سے بھی رہنمائی حاصل کی جاتی ہے۔ تاہم، بنیادی تحقیقات کی ذمہ داری ہمیشہ ریاستی پولیس کی ہوتی ہے، کیونکہ ریلوے پٹر یوں، پلوں، سرنگوں اور قانون و نظم سے متعلق معاملات آئینی طور پر ریاستوں کے دائرے میں آتے ہیں۔ سنہ 2023 اور 2024 میں ریلوے ٹریک سے چھیڑ چھاڑ یا تخریب کاری کے تمام واقعات میں متعلقہ ریاستوں کی پولیس، جی آر پی اور دیگر قانون نافذ کرنے والی ایجنسیوں نے مقدمات درج کیے، تفتیش کی اور ملزمان کو گرفتار کر کے ان کے خلاف قانونی کارروائی کی گئی۔
سکیورٹی بجٹ میں بڑا اضافہ
اشونی ویشنو نے بتایا کہ ریلوے کا حفاظتی بجٹ بھی مسلسل بڑھایا جا رہا ہے۔ 2013-14 میں سکیورٹی بجٹ 39,463 کروڑ روپے تھا، جو رواں مالی سال میں بڑھ کر 1,16,470 کروڑ روپے ہوگیا ہے۔ یہ تقریباً تین گنا اضافہ ہے، جو اس بات کی علامت ہے کہ حکومت ریلوے سکیورٹی کو مضبوط بنانے کے لیے بڑے پیمانے پر سرمایہ کاری کر رہی ہے۔ ریلوے وزارت کے مطابق اس بجٹ سے جدید ٹیکنالوجی، آٹومیشن، انٹیگریٹڈ سکیورٹی سسٹم، ٹریک اپ گریڈیشن اور حادثہ روک تھام کے دیگر اقدامات کو مزید تقویت ملے گی۔ وزیر نے کہا کہ ’’حفاظت کے میدان میں پچھلے 10 برس میں جو اصلاحات ہوئی ہیں، ان کے نتیجے میں ٹرین سفر پہلے سے کہیں زیادہ محفوظ بنا ہے‘‘۔
بھارت ایکسپریس اردو
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔



