PM Modi Hails DFC Completion as a Success: فریٹ کوریڈور سے بدل جائے گی مال برداری کی تصویر، کسانوں سے صنعتوں تک سب کو ہوگا فائدہ: وزیر اعظم نریندر مودی
وزیر اعظم نے وڈودرا میں منعقدہ پروگرام کے دوران مغربی ڈیڈیکیٹڈ فریٹ کوریڈور کے تین اہم حصے ملک کے نام وقف کیے۔ ان تینوں حصوں کی مجموعی لمبائی 326 روٹ کلومیٹر ہے اور ان کی تعمیر پر 20,700 کروڑ روپے سے زیادہ خرچ کیے گئے ہیں۔
Indian Railways News: بھارتی ریلوے نے ہائی ڈینسٹی روٹ پر تیسری ریلوے لائن کے لیے 440 کروڑ روپے کے منصوبے کو منظوری دے دی
بھارتی ریلوے نے جنوبی مشرقی ریلوے کے نمپورا ویسٹ آؤٹر کیبن اور مدناپور کے درمیان 14.52 کلومیٹر طویل تیسری ریلوے لائن بچھانے کے لیے 440 کروڑ روپے کے منصوبے کو منظوری دے دی ہے۔ اس منصوبے کا مقصد مصروف ریلوے کوریڈور کی گنجائش میں اضافہ کرنا اور مسافر و مال بردار ٹرینوں کی آمد و رفت کو مزید ہموار بنانا ہے۔
Indian Railways Revises Ticket Cancellation Rules: ٹکٹ کینسل کرنے سے پہلے ہو جائیں ہوشیار! جیب خالی کر سکتے ہیں بھارتی ریلوے کے نئے رولز
ریلوے نے مسافروں کو یہ سہولت بھی دی ہے کہ وہ ٹرین کے مقررہ وقت سے 30 منٹ پہلے تک اپنا بورڈنگ اسٹیشن تبدیل کر سکتے ہیں۔ اس سے خاص طور پر بڑے شہروں کے مسافروں کو فائدہ ہوگا، جہاں ایک سے زیادہ ریلوے اسٹیشن موجود ہوتے ہیں۔
Indian Railways: عجیب واقعہ! ٹرین میں سیٹ کنفرم، لیکن پورا ڈبہ ہی غائب…، کوچ لگانا بھول گیا ریلوے، مسافر پریشان
اڈیشہ کے سنبل پور ریلوے اسٹیشن پر اس وقت عجیب و غریب صورتِ حال پیدا ہو گئی جب سنبل پور–ناندیڑ ایکسپریس اپنے مقررہ سفر پر ایک مکمل اے سی تھری ٹئیر کوچ کے بغیر ہی اسٹیشن پر پہنچ گئی۔ اس غیر معمولی واقعے کے باعث تقریباً 57 ایسے مسافر شدید پریشانی میں مبتلا ہو گئے جن کے پاس باقاعدہ کنفرم ریزرویشن ٹکٹ موجود تھے۔
Vande Bharat Sleeper Train: وزیر اعظم مودی آج وندے بھارت سلیپر ٹرین کو دکھائیں گے ہری جھنڈی، ریلوے سفر میں ایک نئے دور کا آغاز
وزیر اعظم مودی آج ملک کی پہلی وندے بھارت سلیپر ٹرین کو ہری جھنڈی دکھا کر روانہ کریں گے، جسے بھارتی ریلوے کی تاریخ میں ایک اہم اور فیصلہ کن قدم کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ اب تک وندے بھارت ٹرینیں صرف چیئر کار سہولت کے ساتھ چل رہی تھیں، تاہم سلیپر ورژن کے آغاز سے طویل فاصلے کے رات کے سفر میں بڑی تبدیلی آنے کی امید ہے۔
Vande Bharat Sleeper Train: نئے سال پر ریلوے کا بڑا تحفہ: پہلی وندے بھارت سلیپر کا روٹ فائنل، جانئے کب چلے گی پہلی بلیٹ ٹرین
نئے سال کے موقع پر بھارتی ریلوے نے مسافروں کو ایک تاریخی تحفہ دینے کا اعلان کیا ہے۔ طویل انتظار کے بعد ملک کی پہلی وندے بھارت سلیپر ٹرین کو پٹری پر اتارنے کی تیاریاں مکمل کر لی گئی ہیں۔ ریلوے وزیر اشونی ویشنو کے مطابق اس جدید سلیپر ٹرین کا روٹ بھی فائنل ہو چکا ہے اور یہ کولکاتا سے گوہاٹی کے درمیان چلائی جائے گی۔
Indian Railways’ major plan: بھارتی ریلوے کی بڑی تیاری، اگلے پانچ برسوں میں دہلی، ممبئی، چنئی سمیت 48 اسٹیشنوں کی صلاحیت ہوگی دگنی
ٹرمینل کی صلاحیت بڑھانے کے منصوبے کے دوران، ٹرمینل کے آس پاس کے اسٹیشنوں کو بھی مدنظر رکھا جائے گا تاکہ مجموعی صلاحیت میں توازن برقرار رہے۔ مثال کے طور پر پونے کے معاملے میں، پونے اسٹیشن پر پلیٹ فارم اور اسٹیبلنگ لائنوں میں اضافے کے ساتھ ساتھ ہڈپسر، کھڈکی اور آلندی میں بھی صلاحیت بڑھانے پر غور کیا گیا ہے۔
Good News: تہواروں کے موقع پر ریلوے نے بڑھائی ٹرینوں کی گنجائش، کرسمس اور نئے سال کے لیے اسپیشل ٹرینیں
کرسمس اور نئے سال 2026 کے موقع پر مسافروں کی بڑھتی ہوئی بھیڑ کو مدنظر رکھتے ہوئے بھارتی ریلوے نے بڑے پیمانے پر انتظامات کیے ہیں۔ ریلوے نے ملک بھر کے آٹھ مختلف زونز میں 244 سے زائد خصوصی ٹرینیں چلانے کا اعلان کیا ہے، تاکہ تہواروں کے دوران مسافروں کو آسان، محفوظ اور آرام دہ سفر کی سہولت فراہم کی جا سکے۔
Railways Minister Ashwini Vaishnaw: گزشتہ 11 سالوں میں ٹرین حادثات میں 93 فیصد کمی، ریلوے کے حفاظتی بجٹ میں تین گنا اضافہ
ریلوے وزیر اشونی ویشنو نے جمعہ کو راجیہ سبھا میں بتایا کہ ملک میں ٹرین حادثات کی تعداد میں گزشتہ ایک دہائی کے دوران تاریخی کمی درج کی گئی ہے۔ وزیر کے مطابق مالی سال 2025-26 میں صرف 11 ٹرین حادثے رپورٹ ہوئے ہیں۔ یہ کمی تقریباً 93 فیصد ہے، جو ریلوے کی سکیورٹی اصلاحات کی بڑی کامیابی سمجھی جا رہی ہے۔
Indian Railways Massive Safety Drive : ریلوے کی بڑی حفاظتی مہم: سال 2022 سے اکتوبر 2025 تک 8 ہزار سے زائد ریلوے پلوں کی مرمت ہوئی: اشوِنی ویشنو
ریلوے کی سلامتی اور بنیادی ڈھانچے کو بہتر بنانے کے لیے اٹھائے گئے اقدامات کے تحت وزارتِ ریلوے نے بتایا کہ سال 2022 سے اکتوبر 2025 تک مجموعی طور پر 8,039 ریلوے پلوں کی مرمت، بحالی، مضبوطی یا دوبارہ تعمیر انجام دی گئی ہے۔ یہ تعداد اس بات کا ثبوت ہے کہ ریلوے ملک بھر میں اپنے نیٹ ورک کو زیادہ محفوظ بنانے کے لیے مسلسل بڑے پیمانے پر کام کر رہی ہے۔





