نئی دہلی: ہندوستان کے ریل اور لاجسٹکس نظام کے لیے منگل کا دن اہم رہا۔ وزیر اعظم نریندر مودی نے ملک بھر میں ڈیڈیکیٹڈ فریٹ کوریڈور (DFC) نیٹ ورک کی تکمیل کو ایک بڑی کامیابی قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس سے ملک میں مال کی نقل و حمل پہلے کے مقابلے میں زیادہ تیز اور سستی ہوگی۔ اس کا فائدہ صرف صنعتوں اور کاروباری شعبے تک محدود نہیں رہے گا بلکہ کسان بھی اپنے پھل، سبزیاں اور پھول جیسے زرعی محصولات بڑے بازاروں تک کم وقت میں پہنچا سکیں گے۔ وزیر اعظم نے وڈودرا میں منعقدہ پروگرام کے دوران مغربی ڈیڈیکیٹڈ فریٹ کوریڈور کے تین اہم حصے ملک کے نام وقف کیے۔ ان تینوں حصوں کی مجموعی لمبائی 326 روٹ کلومیٹر ہے اور ان کی تعمیر پر 20,700 کروڑ روپے سے زیادہ خرچ کیے گئے ہیں۔
مال گاڑیوں کے لیے الگ راستے سے بڑھے گی رفتار
وزیر اعظم مودی نے کہا کہ ڈیڈیکیٹڈ فریٹ کوریڈور ہندوستان کی بدلتی ہوئی معیشت اور بڑھتی ہوئی مال برداری کی ضروریات کے لیے انتہائی اہم ہے۔ اب تک مال گاڑیوں اور مسافر ٹرینوں کو بڑی حد تک ایک ہی ریلوے نیٹ ورک استعمال کرنا پڑتا تھا، جس کی وجہ سے دونوں طرح کی ٹرینوں کی رفتار اور آپریشن متاثر ہوتے تھے۔ اب الگ فریٹ کوریڈور دستیاب ہونے سے مال گاڑیوں کے لیے راستہ زیادہ آسان اور تیز ہو گیا ہے۔ وزیر اعظم کے مطابق اس وقت مشرقی اور مغربی فریٹ کوریڈور پر روزانہ 430 سے زیادہ مال گاڑیاں چل رہی ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ مال برداری کے وقت میں بھی نمایاں کمی آئی ہے۔ جہاں پہلے مال گاڑی کو 100 کلومیٹر کا فاصلہ طے کرنے میں تقریباً ساڑھے چھ گھنٹے لگتے تھے، وہیں اب یہی فاصلہ نصف سے بھی کم وقت میں طے کیا جا سکتا ہے۔
ٹرکوں کے مقابلے میں بھی کم وقت لگے گا
سڑک کے ذریعے مال برداری کے مقابلے میں بھی ڈیڈیکیٹڈ فریٹ کوریڈور اہم تبدیلی لانے والا ہے۔ وزیر اعظم نے بتایا کہ جس مال کو ٹرکوں کے ذریعے منزل تک پہنچانے میں تقریباً 30 گھنٹے لگتے تھے، اسے فریٹ کوریڈور کے ذریعے تقریباً 10 سے 12 گھنٹے میں پہنچانا ممکن ہوگا۔ مال کی نقل و حمل میں وقت کی یہ بچت کاروباری شعبے کے لیے انتہائی اہم سمجھی جا رہی ہے۔ کم وقت میں سامان پہنچنے سے نہ صرف لاجسٹکس کی لاگت کم ہو سکتی ہے بلکہ کمپنیوں کی مسابقتی صلاحیت بھی بہتر ہوگی۔
کسانوں کو بڑے بازاروں تک تیز رسائی
ڈیڈیکیٹڈ فریٹ کوریڈور کا براہ راست فائدہ زرعی شعبے کو بھی ملنے کی امید ہے۔ پھل، سبزیاں اور پھول جیسی جلد خراب ہونے والی اشیا کو اگر کم وقت میں منڈیوں تک پہنچایا جائے تو ان کے خراب ہونے کا امکان کم ہو جاتا ہے۔ اس سے کسانوں کو اپنی پیداوار کی بہتر قیمت ملنے کے امکانات بڑھ سکتے ہیں۔ وزیر اعظم نے کہا کہ مشرقی اور مغربی ہندوستان کے کسان اب اپنے زرعی محصولات ملک کے بڑے بازاروں تک پہلے کے مقابلے میں زیادہ تیزی سے پہنچا سکیں گے۔ تیز تر نقل و حمل سے زرعی سپلائی چین مضبوط ہونے اور پیداوار کے ضیاع میں کمی آنے کی بھی امید ہے۔ اس کے علاوہ کسانوں کو اپنی پیداوار دور دراز کی منڈیوں تک پہنچانے کے زیادہ مواقع مل سکیں گے۔
صنعتوں اور تجارت کو بھی فائدہ
صنعتی شعبے کے لیے بھی فریٹ کوریڈور کو اہم قرار دیا جا رہا ہے۔ خام مال اور تیار مصنوعات کو کم وقت میں ایک جگہ سے دوسری جگہ پہنچانے سے کمپنیوں کی کارکردگی بہتر ہو سکتی ہے۔ نقل و حمل کے وقت اور اخراجات میں کمی سے صنعتی مصنوعات کی مسابقتی صلاحیت میں اضافہ ہوگا۔ حکومت کا خیال ہے کہ اس کا مثبت اثر درآمدات اور برآمدات سے متعلق کاروبار پر بھی پڑے گا، کیونکہ بندرگاہوں تک کارگو کی تیز رسائی سے بین الاقوامی تجارت کے لیے لاجسٹکس نظام مزید مؤثر ہوگا۔
جے این پی اے تک آسان ہوگی مال کی آمدورفت
مغربی ڈیڈیکیٹڈ فریٹ کوریڈور کے جن حصوں کو اب فعال کیا گیا ہے، ان میں سانوَند نارتھ-مکرپورہ، نیو امبرگاؤں-نیو سفالے اور نیو سفالے-جے این پی اے کے درمیان کے حصے شامل ہیں۔ ان کے شروع ہونے سے ملک کی اہم بندرگاہوں میں شامل جواہر لال نہرو پورٹ اتھارٹی (جے این پی اے) تک مال کی براہ راست اور تیز آمدورفت آسان ہو جائے گی۔ اس سے درآمدات اور برآمدات سے متعلق کارگو کو کم وقت میں بندرگاہ تک پہنچانے میں مدد ملے گی۔ اس کے ساتھ ممبئی کے مصروف ریلوے نیٹ ورک پر بھی مال برداری کا دباؤ کم ہونے کی امید ہے۔
ایک ٹرین میں 250 سے زیادہ ٹرکوں کے برابر مال
ڈیڈیکیٹڈ فریٹ کوریڈور پر چلنے والی ڈبل اسٹیک کنٹینر ٹرینیں اس نظام کی بڑھتی ہوئی صلاحیت کی مثال ہیں۔ وزیر اعظم نے جے این پی ٹی سے وڈودرا کے درمیان چلنے والی ایسی ہی ایک ٹرین کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ اس نے ایک سفر میں 250 سے زیادہ ٹرکوں کے برابر مال منتقل کیا۔ اس طرح ایک ہی ٹرین کے ذریعے بڑی مقدار میں سامان طویل فاصلے تک پہنچانا ممکن ہو رہا ہے۔ اس سے سڑکوں پر بھاری مال بردار گاڑیوں کی تعداد کم کرنے اور مال کی نقل و حمل کو زیادہ مؤثر بنانے میں مدد مل سکتی ہے۔
پروگرام کے دوران وزیر اعظم نے جوبٹ-ٹانڈا روڈ ریلوے لائن کو بھی ملک کے نام وقف کیا۔ یہ چھوٹا اودے پور-دھار ریلوے منصوبے کا حصہ ہے۔ اس کے ذریعے مدھیہ پردیش کے علی راج پور سمیت دور دراز اور قبائلی علاقوں کو قومی ریلوے نیٹ ورک سے جوڑنے میں مدد ملے گی۔ اس کے علاوہ نیو سانوَند نارتھ، نیو مکرپورہ، نیو امبرگاؤں اور نیو جے این پی ٹی سے نئی مال گاڑی خدمات کا آغاز بھی کیا گیا۔ وڈودرا اور ٹانڈا روڈ کے درمیان نئی مسافر ٹرین کو بھی ہری جھنڈی دکھائی گئی۔
ریل، سڑک اور بندرگاہوں کو جوڑنے پر زور
حکومت ڈیڈیکیٹڈ فریٹ کوریڈور کو صرف ایک نئی ریلوے لائن کے طور پر نہیں دیکھ رہی بلکہ اسے ملک کے ملٹی موڈل ٹرانسپورٹ نظام کا اہم حصہ قرار دیا جا رہا ہے۔ اس کا مقصد ریل، سڑک، بندرگاہ اور نقل و حمل کے دیگر ذرائع کو بہتر انداز میں ایک دوسرے سے جوڑنا ہے۔ وزیر اعظم مودی نے کہا کہ تیز تر نقل و حمل کے ساتھ ایندھن کی بچت، مال برداری کی کم لاگت اور ماحولیات کو ہونے والا فائدہ بھی اس منصوبے کے اہم پہلو ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ڈیڈیکیٹڈ فریٹ کوریڈور ہندوستان کی بڑھتی ہوئی اقتصادی سرگرمیوں اور مال برداری کی ضروریات کو پورا کرنے میں اہم کردار ادا کرے گا۔ اس نیٹ ورک کے مکمل طور پر فعال ہونے سے کسانوں، صنعتوں، تاجروں، درآمد کنندگان اور برآمد کنندگان سمیت معیشت کے مختلف شعبوں کو تیز، سستی اور زیادہ مؤثر مال برداری کی سہولت ملنے کی امید ہے۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔



