مغربی بنگال اسمبلی انتخابات 2026 میں صرف 80 نشستوں تک محدود ہونے کے بعد ترنمول کانگریس (ٹی ایم سی) نے اب بطورِ اہم اپوزیشن جماعت اپنی نئی حکمت عملی تیار کر لی ہے۔ ریاست میں وزیر اعلیٰ سویندو ادھیکاری کی قیادت میں بی جے پی حکومت کے قیام کے بعد ٹی ایم سی سربراہ ممتا بنرجی نے اسمبلی کے اندر حکومت کا مقابلہ کرنے کے لیے اپنے چار سب سے قابلِ اعتماد ساتھیوں کی ’چوکڑی‘ میدان میں اتار دی ہے۔ پارٹی کے قومی جنرل سیکریٹری ابھیشیک بنرجی نے 18ویں بنگال اسمبلی کے لیے ٹی ایم سی کی نئی مقننہ قیادت کا باضابطہ اعلان کر دیا ہے۔ بھوانی پور سیٹ سے انتخاب ہارنے کے باعث ممتا بنرجی خود حزب اختلاف کی لیڈر بننے کی اہل نہیں رہیں، جس کے بعد انہوں نے اپنے پرانے اور وفادار لیڈروں پر بھروسہ ظاہر کیا ہے۔
وہ 4 بڑے چہرے جنہیں دیدی نے دی کمان
- شوبھندیب چٹوپادھیائے
بالی گنج اسمبلی حلقے سے رکن اسمبلی شوبھندیب چٹوپادھیائے کو بنگال اسمبلی میں حزب اختلاف کےلیڈرمقرر کیا گیا ہے۔ وہ مغربی بنگال کی پارلیمانی تاریخ میں مسلسل 10 بار ایم ایل اے منتخب ہونے والے واحد لیڈر ہیں۔1998 میں وہ ٹی ایم سی کے پہلے منتخب رکن اسمبلی بنے تھے۔ 2021 میں جب ممتا بنرجی نندی گرام سے ہار گئی تھیں، تب شوبھندیب نے ہی وزیر اعلیٰ کے لیے اپنی بھوانی پور نشست خالی کی تھی۔سابق وزیر زراعت اور پارلیمانی امور رہنے والے شوبھندیب سیاست کے علاوہ ٹریڈ یونین لیڈر، شاعر، ادیب، کوہ پیما اور باکسر بھی رہ چکے ہیں۔
- فرہاد حکیم
کولکاتا پورٹ اسمبلی حلقے سے ایم ایل اے اور ٹی ایم سی کے نمایاں مسلم چہرے فرہاد حکیم کو اسمبلی میں چیف وہپ مقرر کیا گیا ہے۔فرہاد حکیم کو ممتا بنرجی کا سب سے قریبی ساتھی اور ’کرائسز مینیجر‘ مانا جاتا ہے۔ اسمبلی میں پارٹی کے تمام اراکین کو متحد رکھنا، نظم و ضبط برقرار رکھنا اور اہم معاملات پر پارٹی لائن پر عمل کروانا ان کی ذمہ داری ہوگی۔
- نینا بندیوپادھیائے
خواتین قیادت کو اہمیت دیتے ہوئے چورنگی اسمبلی حلقے سے ایم ایل اے نینا بندیوپادھیائے کو اپوزیشن کا مشترکہ نائب لیڈر بنایا گیا ہے۔نینا ایک معروف بنگالی اداکارہ ہیں اور ٹی ایم سی کے سینئر لوک سبھا رکن سودیپ بندیوپادھیائے کی اہلیہ ہیں۔ وہ 2014 کے ضمنی انتخاب سے لے کر 2016، 2021 اور 2026 تک مسلسل چورنگی نشست جیتتی آ رہی ہیں۔
- اسیمہ پاترا
ہگلی ضلع کی دھنیہ کھالی (ایس سی) نشست کی نمائندگی کرنے والی اسیمہ پاترا کو بھی ڈپٹی لیڈر کی اہم ذمہ داری دی گئی ہے۔58 سالہ اسیمہ پاترا ممتا بنرجی کی قریبی لیڈروں میں شمار ہوتی ہیں۔ وہ 2016 سے 2021 تک بنگال حکومت میں تکنیکی تعلیم کی وزیرِ مملکت (آزادانہ چارج) رہ چکی ہیں۔ 2026 کے سخت انتخاب میں بھی انہوں نے بی جے پی امیدوار برنالی داس کو شکست دے کر اپنی نشست برقرار رکھی۔
’آزاد پنچھی‘ ممتا بنرجی کا پلان-B
انتخابی نتائج کے بعد ممتا بنرجی نے خود کو ’آزاد پنچھی‘ قرار دیا تھا۔ ان کے پاس اب براہِ راست کوئی آئینی عہدہ موجود نہیں ہے۔ انہوں نے واضح کیا ہے کہ اب ان کی پوری توجہ قومی سطح پر ’انڈیا‘ اتحاد کو مضبوط بنانے پر ہوگی۔بنگال میں بی جے پی کی مکمل اکثریتی حکومت کا مقابلہ کرنے کے لیے ممتا بنرجی نے بائیں بازو کی جماعتوں، طلبہ اور نوجوانوں سے بھی متحد ہو کر مشترکہ پلیٹ فارم بنانے کی اپیل کی ہے۔اب دیکھنا یہ ہوگا کہ دیدی کی یہ ’چوکڑی‘ اسمبلی کے اندر سویندو ادھیکاری کی جارحانہ حکومت کے سامنے اپوزیشن کی کتنی مضبوط دیوار کھڑی کر پاتی ہے۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

