Bharat Express DD Free Dish

TikTok ban not lifted: بھارت میں ٹک ٹاک پر پابندی برقرار،سوشل میڈیا پر پھیلنے والی خبریں صرف افواہ ہیں: حکومتی ذرائع

حالیہ دنوں میں بھارت اور چین کے تعلقات میں کچھ نرمی کے آثار دیکھے گئے ہیں، خاص طور پر چینی وزیر خارجہ وانگ یی کے دورہ بھارت اور وزیر اعظم نریندر مودی سے ملاقات کے بعد۔ اس کے باوجود، حکومتی ذرائع نے واضح کیا کہ ٹک ٹاک پر پابندی برقرار رہے گی۔

بھارت میں چین کی شارٹ ویڈیو پلیٹ فارم ٹک ٹاک پر پابندی کے حوالے سے گردش کرنے والی خبروں پر حکومتی ذرائع نے واضح کردیا ہے کہ اس ایپ پر سے پابندی ہٹانے کا کوئی حکم جاری نہیں کیا گیا۔ الیکٹرونکس اور انفارمیشن ٹیکنالوجی کی وزارت کے ذرائع نے کہا کہ “حکومت ہند نے ٹک ٹاک کو پابندیوں سے باہر کرنے کا کوئی فیصلہ نہیں کیا۔ اس حوالے سے پھیلنے والی کوئی بھی خبر جھوٹی اور گمراہ کن ہے۔

یہ وضاحت اس وقت سامنے آئی جب کچھ صارفین نے دعویٰ کیا کہ وہ اپنے ڈیسک ٹاپ براؤزرز کے ذریعے ٹک ٹاک کی ویب سائٹ تک رسائی حاصل کر پا رہے ہیں۔ اس سے یہ قیاس آرائیاں شروع ہوئیں کہ ٹک ٹاک شاید بھارت میں واپس آ رہا ہے۔ تاہم، حکومتی ذرائع نے ان افواہوں کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ ویب سائٹ تک رسائی کسی تکنیکی وجہ سے ہو سکتی ہے، لیکن ایپ ابھی تک گوگل پلے اسٹور یا ایپل ایپ اسٹور پر دستیاب نہیں ہے۔

ٹک ٹاک پر پابندی جون 2020 میں انفارمیشن ٹیکنالوجی ایکٹ کی دفعہ 69A کے تحت عائد کی گئی تھی، جب بھارت نے سیکورٹی اور قومی خودمختاری کے خدشات کی بنا پر ٹک ٹاک سمیت 59 چینی ایپس کو بلاک کر دیا تھا۔ یہ فیصلہ مشرقی لداخ کی گلوان وادی میں ہندوستانی اور چینی فوجیوں کے درمیان پرتشدد جھڑپوں کے تناظر میں کیا گیا تھا۔

حالیہ دنوں میں بھارت اور چین کے تعلقات میں کچھ نرمی کے آثار دیکھے گئے ہیں، خاص طور پر چینی وزیر خارجہ وانگ یی کے دورہ بھارت اور وزیر اعظم نریندر مودی سے ملاقات کے بعد۔ اس کے باوجود، حکومتی ذرائع نے واضح کیا کہ ٹک ٹاک پر پابندی برقرار رہے گی جب تک کہ کوئی باضابطہ حکم جاری نہ ہو۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر ٹک ٹاک کو بھارت میں واپسی کی اجازت دی جاتی ہے تو اسے ڈیٹا سیکورٹی اور رازداری سے متعلق سخت شرائط پر عمل کرنا ہوگا۔فی الحال، ٹک ٹاک کی واپسی کے بارے میں کوئی حتمی پیش رفت نہیں ہوئی ہے، اور صارفین کو سرکاری اعلانات پر نظر رکھنی چاہیے۔

بھارت ایکسپریس۔



بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

Also Read