Bharat Express DD Free Dish

CJI B R Gavai at CAT Conference: ’’عدلیہ دولت سے نہیں، انصاف و آزادی کی محبت سے چلنی چاہیے‘‘ آل انڈیا سینٹرل ایڈمنسٹریٹو ٹریبیونل کانفرنس سے چیف جسٹس بی آر گوئی کا خطاب

دسویں آل انڈیا سی اے ٹی کانفرنس میں چیف جسٹس کا خطاب، شفافیت، جوابدہی اور عوامی اعتماد پر زور، زیر التواء مقدمات پر تشویش، بی آر گوئی نے کہا کہ ’’جج اور وکیل انصاف نامی سنہری پرندے کے دو پروں کی طرح ہیں، دونوں کے تعاون کے بغیر عدلیہ نہیں چل سکتی۔‘‘

چیف جسٹس آف انڈیا بی آر گوئی نے دسویں آل انڈیا سینٹرل ایڈمنسٹریٹو ٹریبیونل (CAT) کانفرنس میں خطاب کرتے ہوئے کہا کہ عدلیہ کی بقا اسی وقت معنی خیز ہے جب اس میں شفافیت، جوابدہی اور عوامی اعتماد برقرار رہے۔ انہوں نے کہا کہ سی اے ٹی نے گزشتہ چار دہائیوں میں سروس تنازعات کے حل کے ایک مؤثر پلیٹ فارم کے طور پر اپنی شناخت بنائی ہے۔

 سی اے ٹی کی 41 سالہ کامیابیاں اور چیلنجز

چیف جسٹس نے بتایا کہ سی اے ٹی کی بنیاد 41 سال پہلے رکھی گئی تھی اور اس نے تقریباً 94 فیصد مقدمات میں فیصلے دیے ہیں۔ چھ لاکھ مقدمات میں سے چار لاکھ کا نپٹارا ہوچکا ہے۔ تاہم انہوں نے اس پر تشویش ظاہر کی کہ زیر التواء مقدمات کی تعداد 2017 میں 44 ہزار تھی جو اب ایک لاکھ سے تجاوز کر گئی ہے۔

بار بار اپیل اور فلٹرنگ میکانزم کی تجویز

چیف جسٹس گوئی نے کہا کہ سی اے ٹی کے فیصلوں کے خلاف ہائی کورٹس میں بڑی تعداد میں عرضیاں دائر ہونا ایک بڑا مسئلہ ہے۔ اس سے مقدمات لمبے ہوتے ہیں۔ انہوں نے تجویز دی کہ ایک فلٹرنگ یا سرٹیفیکیشن سسٹم بنایا جائے تاکہ یہ طے ہو سکے کہ کون سا مقدمہ اپیل کے لائق ہے اور کون سا نہیں۔

تقرری، تربیت اور شفاف نظام کی ضرورت

چیف جسٹس نے کہا کہ سی اے ٹی میں عدالتی اور انتظامی اراکین شامل ہوتے ہیں، جو اس کی طاقت ہے، لیکن دونوں کے لیے الگ الگ تربیت ضروری ہے۔ انہوں نے ایک مربوط تقرری عمل اور واضح اہلیت کے اصول وضع کرنے پر زور دیا تاکہ شفافیت بڑھے اور عوامی اعتماد مزید مستحکم ہو۔

’دولت نہیں، انصاف کی محبت‘ – چیف جسٹس کا پیغام

چیف جسٹس نے کہا کہ کچھ ججوں کے رویے سے عدلیہ کی شبیہ متاثر ہوئی ہے، جس پر میڈیا اور سوشل میڈیا میں بحث ہوتی ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ ججوں کو دولت نہیں بلکہ انصاف کے جذبے سے زندگی گزارنی چاہیے۔ ان کے بقول: ’’جج اور وکیل انصاف نامی سنہری پرندے کے دو پروں کی طرح ہیں، دونوں کے تعاون کے بغیر عدلیہ نہیں چل سکتی۔‘‘

اپیل کلچر پر قانون وزیر کی تنقید

مرکزی قانون وزیر ارجن رام میگھوال نے اپنے خطاب میں کہا کہ اکثر محکمے ٹریبیونل کے درست فیصلوں کے باوجود معمول کے طور پر اپیل دائر کر دیتے ہیں، جو غیر ضروری ہے۔ انہوں نے کہا کہ ’’بغیر سوچے سمجھے اپیل کرنے کی روش‘‘ پر نظرثانی ہونی چاہیے تاکہ عدالتی نظام پر غیر ضروری بوجھ نہ بڑھے۔

بھارت ایکسپریس اردو۔



بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

Also Read