سپریم کورٹ نے جمعہ کو اپنے حکم میں تمل ناڈو بی جے پی کے ایک وکیل کی طرف سے دائر ایک PIL کو مسترد کر دیا، جس میں تمل ناڈو، مغربی بنگال اور کیرالہ حکومت کو قومی تعلیمی پالیسی (این ای پی) نافذ کرنے کی ہدایت دینے کی درخواست کی گئی تھی۔ عدالت نے نوٹ کیا کہ وہ کسی بھی ریاست کو NEP اختیار کرنے پر مجبور نہیں کر سکتی۔
سپریم کورٹ نے یہ بھی کہا کہ ہم اس درخواست پر کوئی حکم نہیں دے سکتے ہیں لیکن ’’مناسب کارروائی کے تحت اس کی جانچ کریں گے‘‘۔ انھوں نے مزید کہا ’’ ہم براہ راست کسی ریاست کو قومی تعلیمی پالیسی 2020 جیسی پالیسی اپنانے پر مجبور نہیں کر سکتے۔‘‘ واضح رہے کہ اس پی آئی ایل پر سپریم کی دو ججوں پر مشتمل بنچ سماعت کر رہی تھی، جس میں جسٹس جے بی پاردی والا اور جسٹس آر مہادیون شامل ہیں۔
بی جے پی لیڈر جی ایس منی نے دائر کی تھی پی آئی ایل
عدالت نے واضح کیا کہ اگر قومی تعلیمی پالیسی سے متعلق کسی ریاست کی کارروائی یا بے عملی سے کسی بنیادی حقوق کی خلاف ورزی ہوتی ہے، تبھی وہ مداخلت کرے گی۔ واضح رہے کہ تمل ناڈو میں مقیم وکیل اور بی جے پی لیڈر جی ایس منی نے سپریم کورٹ میں PIL دائر کرتے ہوئے تمل ناڈو، کیرالہ اور مغربی بنگال میں مرکزی حکومت کی NEP سہ زبانی نصاب کی پالیسی نافذ کرنے کی ہدایت دینے کی درخواست کی تھی۔
منی نے اپنی PIL میں کہا کہ تمل ناڈو، کیرالہ اور مغربی بنگال کو چھوڑ کر تمام ریاستی حکومتوں نے مرکزی حکومت کی سب سے اہم قومی تعلیمی پالیسی، سہ زبانی نصاب کی پالیسی کو اپنایا اور نافذ کیا ہے۔ عرضی میں مزید کہا گیا کہ تمل ناڈو، کیرالہ اور مغربی بنگال کے وزرائے اعلیٰ نے مرکزی حکومت کے NEP کی مسلسل مخالفت کی ہے اور کہا ہے کہ وہ اسے قبول نہیں کر سکتے۔
بی جے پی لیڈر نے اپنی پی آئی ایل میں کہا تھا ’’مفت تعلیم آئین کی طرف سے دیا گیا ایک بنیادی حق ہے۔ اس منصوبے کو قبول کرنے سے انکار کرکے ریاستی حکومت متعلقہ اسکولی بچوں کو مفت تعلیم کے بنیادی حق سے انکار کر رہی ہے۔‘‘ اسی لیے انھوں نے سپریم کورٹ سے اس معاملے میں مداخلت کرنے اور ان تینوں ریاستی حکومتوں کو مرکزی حکومت کی قومی تعلیمی پالیسی یعنی سہ لسانی نصاب کو فوری طور پر لاگو کرنے کا حکم جاری کرنے کی اپیل کی۔
بھارت ایکسپریس اردو
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔


