نریندر مودی نے منگل (7 اپریل) کو خواتین کو بااختیار بنانے کے حوالے سے اپنی حکومت کے عزم کو دہراتے ہوئے کہا کہ پالیسی سازی اور فیصلوں کے ہر سطح پر خواتین کو ترجیح دی گئی ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ صرف نمائندگی دینا کافی نہیں بلکہ اس کا حقیقی اثر نظر آنا بھی اتنا ہی ضروری ہے۔ وزیر اعظم نے کہا کہ ناری شکتی وندن ایکٹ کے ذریعے بھارت خواتین کی قیادت والے نظامِ حکومت کی سمت تیزی سے آگے بڑھ رہا ہے، جو ترقی یافتہ بھارت کی تعمیر میں اہم کردار ادا کرے گا۔
خواتین کی شمولیت پر خصوصی زور
وزیر اعظم نے یہ بات مرکزی وزیر انپورنا دیوی کے اس مضمون کے حوالے سے کہی، جس میں قانون ساز اداروں میں خواتین کی شمولیت بڑھانے اور جامع حکمرانی کو مضبوط بنانے کی ضرورت پر زور دیا گیا تھا۔ سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر ردعمل دیتے ہوئے وزیر اعظم مودی نے کہا کہ نمائندگی کا مطلب صرف تعداد بڑھانا نہیں بلکہ فیصلہ سازی کے عمل میں خواتین کے مؤثر کردار کو یقینی بنانا ہے۔ انہوں نے دہرایا کہ ان کی حکومت نے ہر شعبے میں ناری شکتی کو مضبوط بنانے کے لیے مسلسل کوششیں کی ہیں۔
کیا ہے ناری شکتی وندن ایکٹ؟
ناری شکتی وندن ایکٹ 2023 میں منظور ہونے والی ایک آئینی ترمیم ہے، جس کے تحت لوک سبھا اور ریاستی اسمبلیوں میں خواتین کو 33 فیصد ریزرویشن دیا جائے گا۔ اس قانون کو نافذ کرنے کے لیے حلقہ بندی (ڈیلمیٹیشن) کا عمل مکمل ہونا ضروری ہے، جس کے بعد ہی اسے مؤثر طور پر نافذ کیا جا سکے گا۔
2029 سے پہلے نافذ کرنے کی تیاری
حکومت اس قانون کو 2029 سے پہلے نافذ کرنے کے امکانات پر بھی غور کر رہی ہے۔ اسی مقصد کے تحت پارلیمنٹ کے بجٹ اجلاس کو 16 سے 18 اپریل تک بڑھانے کا فیصلہ کیا گیا ہے تاکہ ضروری آئینی ترامیم پر بحث کی جا سکے۔ حکام کے مطابق اگر حلقہ بندی سے پہلے اسے نافذ کرنا ہے تو ایک اور آئینی ترمیم لانا پڑ سکتی ہے۔
تمام جماعتوں سے تعاون کی اپیل
وزیر اعظم مودی نے تمام سیاسی جماعتوں سے اس معاملے پر تعاون کی اپیل کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ صرف ایک قانون نہیں بلکہ ملک کی خواتین کے اعتماد کو مضبوط کرنے کا ایک موقع ہے۔ انہوں نے جماعتی سیاست سے بالاتر ہو کر اس تاریخی اقدام میں شامل ہونے کی اپیل کی۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔


