نئی دہلی: بھارت میں ٹیکسٹ میسج کے ذریعے ہونے والے اسکیمز میں 146 فیصد کا نمایاں اضافہ ہوا ہے۔ یہ اضافہ ملک میں ڈیجیٹل فراڈ کے منظرنامے میں تیزی سے آتی تبدیلی اور اسکیم پر مبنی سائبر حملوں کے بڑھتے رجحان کی نشاندہی کرتا ہے۔ فراڈ ڈیٹیکشن کمپنی بائیو کیچ کی تازہ رپورٹ ’ڈیجیٹل بینکنگ فراڈ ٹرینڈز اِن انڈیا 2026‘ میں یہ بات سامنے آئی ہے۔ رپورٹ کے مطابق یونیفائیڈ پیمنٹس انٹرفیس (یو پی آئی)، موبائل بینکنگ، ای کامرس اور آن لائن سرمایہ کاری کے پلیٹ فارمز کے تیزی سے پھیلاؤ نے بھارت کے فراڈ ایکو سسٹم کو مزید ڈیجیٹل، بڑے پیمانے پر اور اسکیم پر مبنی بنا دیا ہے۔
فراڈ کی کوششیں کم، لیکن رقم کا حجم زیادہ
رپورٹ کے مطابق بائیو کیچ کے بھارت میں موجود صارفین کے درمیان فراڈ کی کوششوں والے سیشنز میں 12 فیصد کمی آئی، تاہم فراڈ پر مبنی ادائیگیوں کی مجموعی مالیت میں 35 فیصد اضافہ ہوا۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ سائبر جرائم پیشہ افراد اب زیادہ مالیت والے لین دین کو نشانہ بنا رہے ہیں۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ یو پی آئی، سرمایہ کاری کے اسکیمز، کسی دوسرے کی شناخت اختیار کرنے اور ڈیجیٹل گرفتاری کے نام پر ہونے والے فراڈ نے بھارت میں تیزی سے بڑھتے ہوئے ’منی میول‘ ایکو سسٹم کو فروغ دیا ہے۔
حساس معلومات کیلئے ایس ایم ایس کا استعمال
رپورٹ کے مطابق ٹیکسٹ میسج اسکیم فراڈ کے سب سے تیزی سے بڑھنے والے ذرائع میں شامل ہوگئے ہیں۔ سائبر جرائم پیشہ افراد ایس ایم ایس کے ذریعے لوگوں کو اپنی جانب راغب کر کے حساس معلومات شیئر کرنے یا جعلی لین دین کی اجازت دینے پر آمادہ کرتے ہیں۔ رپورٹ میں فراڈ کے طریقوں میں تبدیلی کا بھی ذکر کیا گیا ہے۔ جائزے کی مدت کے دوران خطرناک ادائیگی والے سیشنز دوگنا ہو گئے، جبکہ ہر فراڈ سیشن میں منتقل کی جانے والی رقم کی درمیانی قدر 1.7 گنا بڑھ گئی۔
سائبر مجرم کم وقت میں فراڈ مکمل کر رہے ہیں
رپورٹ کے مطابق فون کالز کا اوسط دورانیہ 31 فیصد کم ہوا، جبکہ سیشن کا درمیانی دورانیہ 32 فیصد کم ہو گیا۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ سائبر مجرم اپنے حملوں کو پہلے کے مقابلے میں کم وقت میں زیادہ مؤثر انداز میں مکمل کررہے ہیں۔ بائیو کیچ کے مطابق فراڈ تیزی سے خودکار ہوتا جا رہا ہے اور لاگ ان اسناد کے لیے آٹو فل ٹولز کا استعمال بڑھ رہا ہے، جس سے مجرم حملے زیادہ تیزی سے انجام دے پا رہے ہیں۔ اگرچہ بینکوں کی جانب سے بہتر نگرانی کے باعث ریموٹ ایکسس ٹروجن (آر اے ٹی) حملوں میں کمی آئی ہے، تاہم اسناد کے آٹو فل کا استعمال بڑھ رہا ہے۔ یہ صورت حال مالیاتی اداروں کے لیے وائرس کی شناخت کے نظام کو مزید مضبوط بنانے کی ضرورت کو ظاہر کرتی ہے۔
فراڈ کے دوران متاثرین سے فون پر رابطہ برقرار
رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ اب زیادہ فراڈ سیشنز کے دوران مجرم متاثرین کے ساتھ فعال فون کال پر رابطے میں رہتے ہیں۔ وہ ادائیگی کے پورے عمل کے دوران متاثرین کو قدم بہ قدم ہدایات دیتے ہیں اور انہیں مدد لینے یا لین دین کی آزادانہ طور پر تصدیق کرنے سے روکتے ہیں۔ بائیو کیچ کے مطابق بینکنگ صنعت نے مالی جرائم کی بہتر رپورٹنگ، مصنوعی ذہانت پر مبنی فراڈ کی شناخت اور بینکوں، ریزرو بینک آف انڈیا (آر بی آئی)، انڈین سائبر کرائم کوآرڈینیشن سینٹر (آئی فور سی) اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے درمیان بہتر تعاون کے ذریعے کارروائی تیز کی ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ بینکوں کو روایتی فراڈ کی شناخت کے طریقوں سے آگے بڑھ کر رویے، ڈیوائس اور حقیقی وقت کی نگرانی پر مبنی انٹیلی جنس اختیار کرنی چاہیے، تاکہ مشتبہ سرگرمیوں کی شناخت رقم صارفین کے اکاؤنٹس سے منتقل ہونے سے پہلے کی جا سکے۔ رپورٹ کے مطابق فراڈ کی روک تھام کی حکمت عملیوں کا مرکز اسکیمز کی ابتدائی مرحلے میں شناخت ہونا چاہیے، نہ کہ صرف فراڈ کے بعد مشتبہ لین دین کو روکنے پر انحصار کرنا۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔


