تمل ناڈو کے ضلع شیوگنگا میں ایک خوفناک سڑک حادثے میں 12 افراد ہلاک اور 40 سے زائد زخمی ہو گئے۔ بتایا جا رہا ہے کہ یہ حادثہ دو بسوں کے آمنے سامنے ٹکرانے کے نتیجے میں پیش آیا۔ واقعے کی اطلاع ملتے ہی پولیس موقع پر پہنچی اور ریسکیو و ریلیف آپریشن شروع کر دیا۔ پولیس کے مطابق حادثے کی اصل وجہ ابھی تک واضح نہیں ہو سکی۔ اتوار کو ضلع کے کنگم گوڑی کے قریب دو بسوں میں زبردست ٹکر ہوئی۔ ٹکر اتنی شدید تھی کہ سڑک پر چیخ و پکار مچ گئی۔ اس حادثے میں موقع پر ہی 12 افراد جان سے ہاتھ دھو بیٹھے جبکہ 40 سے زیادہ زخمی ہو گئے۔ کئی مسافر بس کے اندر پھنس گئے تھے جنہیں نکالنے کے لیے پولیس اور مقامی لوگوں کو سخت جدوجہد کرنی پڑی۔حادثہ اتوار کی شام اس وقت پیش آیا جب دونوں بسیں ایک تنگ سڑک پر مخالف سمتوں سے آرہی تھیں۔ اچانک دونوں میں آمنے سامنے ٹکر ہو گئی اور دونوں بسیں بری طرح تباہ ہو گئیں۔ آس پاس کے لوگ زور دار آواز سنتے ہی موقع پر پہنچے اور زخمیوں کو نکالنے کے لیے کھڑکیاں اور دروازے توڑنے شروع کر دیے۔ کچھ مسافر بے ہوش پڑے تھے، کچھ درد سے چیخ رہے تھے اور ماحول انتہائی دل دہلا دینے والا تھا۔
حادثے کی وجہ ابھی تک واضح نہیں
پولیس کے مطابق یہ واضح نہیں ہو سکا کہ حادثہ اوور اسپیڈنگ، کم Visibility یا ڈرائیور کی تھکن کی وجہ سے ہوا، لیکن ابتدائی اشارے انہی اسباب کی طرف جاتے ہیں۔ زخمیوں کو فوری طور پر شیوگنگا اور کرائیکوڈی کے اسپتالوں میں داخل کرایا گیا جہاں کئی افراد کی حالت تشویشناک ہے۔ کئی مسافروں کو فریکچر، سر میں چوٹ اور سنگین چوٹیں آئی ہیں۔
تمل ناڈو میں حادثات میں اضافہ
اس حادثے نے ایک بار پھر تمل ناڈو میں بڑھتے سڑک حادثات کے سنگین مسئلے کو اجاگر کر دیا ہے۔ گزشتہ چند ماہ میں تریچی، سیلم اور وللوپورم جیسے اضلاع میں حادثات کے واقعات میں مسلسل اضافہ ہوا ہے۔ چند دن پہلے ہی تِنکاسی میں دو پرائیویٹ بسوں کی ٹکر میں چھ لوگ جاں بحق ہو گئے تھے۔ اسی وجہ سے لوگ سوال اٹھا رہے ہیں کہ سڑکوں پر ہونے والی اتنی اموات آخر کب رکیں گی؟
بھارت ایکسپریس اردو۔
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔





