وارانسی: ماگھ ماہ کی اماوسیہ کے موقع پر انتظامیہ سے کشیدگی کے بعد شنکراچاریہ سوامی اویمکتیشورانند سرسوتی بغیر اسنان کیے ماگھ میلہ سے واپس لوٹ آئے۔ واپسی کے بعد انہوں نے انکشاف کیا کہ روانگی کے وقت انتظامیہ کی جانب سے انہیں اسنان کے لیے خصوصی سہولیات اور لالچ دیے گئے۔ حالانکہ، انہوں نے ایسی تمام پیشکشوں کو صاف طور پر مسترد کر دیا۔
سوامی اویمکتیشورانند سرسوتی نے کہا کہ مذہب اور بھگوا کے نام پر لاکھوں ہندوؤں کے جذبات سے کھلواڑ کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا، ’’اسنان کا معاملہ اب ختم ہو چکا ہے، لیکن ماگھ کے آتے ہی اس پر دوبارہ بحث شروع ہو جائے گی۔ اصل سوال نقلی ہندوؤں کو بے نقاب کرنے کا ہے۔ ملک کے تمام ہندوؤں کے ساتھ ایک بڑا فریب کیا جا رہا ہے۔ اس فریب کے ذمہ دار وہ لوگ اور ان کے حمایتی ہیں جو خود کو سنت، یوگی، روحانی پیشوا اور ایشور کے برابر پیش کرتے ہیں۔‘‘
اب ہم گورکشا کے مسئلے پر کریں گے بات
معافی کے معاملے پر بات کرتے ہوئے شنکراچاریہ نے کہا کہ جب وہ پریاگ سے روانہ ہوئے تھے تب ہی تمام باتیں واضح کر دی گئی تھیں اور ہر تفصیل تحریری شکل میں موجود تھی۔ انہوں نے کہا، ’’یہاں پہنچنے کے بعد بھی میڈیا سے گفتگو کے دوران ہم نے تمام حقائق واضح کیے۔ اب ہم گورکشا کے مسئلے پر بات کریں گے۔‘‘
اسنان کے بدلے مختلف سہولیات کا دیا لالچ
سوامی اویمکتیشورانند نے الزام لگایا کہ انتظامیہ نے روانگی کے وقت انہیں اسنان کے بدلے مختلف سہولیات کا لالچ دیا۔ انہوں نے کہا، ’’معافی مانگنے کا بھی ایک طریقہ ہوتا ہے۔ معافی، معافی ہی ہوتی ہے، اس میں معافی مانگنا شامل ہوتا ہے۔ وہ ہمیں لبھانے کی کوشش کر رہے تھے۔ کہا جا رہا تھا کہ آپ اس طرح اسنان کیجیے، ہم آپ پر پھول نچھاور کریں گے، آنے والے برسوں کے لیے آپ کے لیے ایس او پی بنائیں گے، چاروں شنکراچاریہ کے لیے معیاری طریقہ کار تیار کریں گے۔‘‘
معافی مانگیے جن پر لاٹھیاں چلائی گئیں
انہوں نے مزید کہا، ’’ان کی جانب سے ایسی پیشکشیں آئیں جنہیں ہم نے صاف طور پر مسترد کر دیا۔ ہم نے واضح الفاظ میں کہا کہ ہماری صرف ایک ہی شرط ہے۔ معافی مانگیے، اُن سنتوں، ششیوں، برہماچاریوں، ماؤں، بھائیوں اور بزرگوں سے معافی مانگیے جن پر آپ نے لاٹھی چلائی ہے۔‘‘
بھارت ایکسپریس۔
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔


