Bharat Express DD Free Dish

IPAC Case: آئی پیک معاملے پرسپریم کورٹ آف انڈیا کا سخت سوال، کیا بنگال میں ناکام ہوچکا ہے آئینی نظام؟ ای ڈی سے وضاحت طلب

عدالت کی یہ آبزرویشن اس لیے اہم سمجھی جا رہی ہے کیونکہ بھارتی آئین کے آرٹیکل 356 کے تحت کسی ریاست میں آئینی نظام کی ناکامی صدر راج نافذ کرنے کی بنیاد بن سکتی ہے۔ فی الحال اس معاملے کی سماعت جاری ہے اور اگلی سماعت جمعہ کو مقرر کی گئی ہے۔

 

نئی دہلی: سپریم کورٹ آف انڈیا نے جمعرات کو آئی پیک (انڈین پولیٹیکل ایکشن کمیٹی) معاملے کی سماعت کے دوران سخت ریمارکس دیتے ہوئے انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ (ای ڈی) سے سوال کیا کہ کیا وہ مغربی بنگال میں آئینی ڈھانچے کی مکمل ناکامی کا دعویٰ کر رہی ہے؟ عدالت نے کہا کہ اگر ایسا ہے تو اس کے دور رس نتائج برآمد ہو سکتے ہیں۔ یہ ریمارکس اس وقت سامنے آئے جب عدالت ای ڈی کی اس عرضی پر سماعت کر رہی تھی، جس میں آئی پیک کے خلاف کارروائی کے دوران وزیر اعلیٰ ممتا بنرجی پر جانچ میں مداخلت کا الزام لگایا گیا ہے۔ سماعت کے دوران عدالت نے ای ڈی کے موقف پر سنجیدہ تشویش کا اظہار کیا۔

سالیسٹر جنرل کی وضاحت—آئینی ناکامی کا دعویٰ نہیں

ای ڈی کی جانب سے پیش ہوتے ہوئے سالیسٹر جنرل تشار مہتا نے عدالت کو بتایا کہ ایجنسی صرف ریاست میں قانون و انتظام کی بگڑتی صورتحال کی بات کر رہی ہے، نہ کہ آئینی ڈھانچے کی مکمل ناکامی کی۔ انہوں نے واضح کیا کہ ای ڈی ایسی کوئی دلیل پیش نہیں کررہی۔

آرٹیکل 356 کا حوالہ، معاملے کی اہمیت میں اضافہ

عدالت کی یہ آبزرویشن اس لیے اہم سمجھی جا رہی ہے کیونکہ بھارتی آئین کے آرٹیکل 356 کے تحت کسی ریاست میں آئینی نظام کی ناکامی صدر راج نافذ کرنے کی بنیاد بن سکتی ہے۔ فی الحال اس معاملے کی سماعت جاری ہے اور اگلی سماعت جمعہ کو مقرر کی گئی ہے۔ واضح رہے کہ انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ نے 8 جنوری کو آئی پیک کے دفتر اور پرتیک جین کی رہائش گاہ پر چھاپہ مارا تھا، جو مبینہ کوئلہ اسمگلنگ گھوٹالے سے جڑی منی لانڈرنگ جانچ کا حصہ تھا۔ ای ڈی نے الزام لگایا کہ ممتا بنرجی چھاپے کے دوران وہاں پہنچیں اور اہم شواہد ہٹا دیے، جبکہ ٹی ایم سی حکومت نے ان کارروائیوں کو سیاسی قرار دیتے ہوئے انتخابات سے قبل پارٹی کو کمزور کرنے کی کوشش بتایا ہے۔

بھارت ایکسپریس اردو۔



بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

Also Read