نئی دہلی— ملک بھر میں آوارہ کتوں کے بڑھتے ہوئے حملوں پر تشویش ظاہر کرتے ہوئے سپریم کورٹ نے ازخود نوٹس لے لیا ہے۔ خاص طور پر بچوں اور بزرگوں کو نشانہ بنائے جانے کے واقعات پر عدالت نے گہری فکر کا اظہار کیا ہے۔ دہلی کے سلطان پوری علاقے میں ایک 6 سالہ بچی کی آوارہ کتے کے حملے کے بعد موت واقع ہونے کے معاملے نے اس بحران کو پھر سے اجاگر کر دیا ہے۔
سپریم کورٹ کی دو رکنی بنچ، جس میں جسٹس جے بی پاردیوالا اور جسٹس آر مہادیون شامل تھے، نے ایک انگریزی اخبار میں شائع رپورٹ کے حوالے سے ازخود نوٹس لیا۔ بنچ نے کہا کہ اخبار میں چھپی خبر میں کتے کے کاٹنے سے متعلق نہایت ہی چونکا دینے والے اعداد و شمار شامل تھے، جس کے مطابق دہلی اور اس کے مضافاتی علاقوں میں روزانہ سینکڑوں افراد کتے کے حملوں کا شکار ہو رہے ہیں، جس کے نتیجے میں ریبیز جیسے مہلک وائرس کے پھیلنے کا شدید خطرہ لاحق ہے۔
عدالت نے CJI کو پیش کرنے کی ہدایت دی
بنچ نے کہا: ہم اس خبر پر ازخود نوٹس لیتے ہیں۔ اس معاملے کی سنگینی کو دیکھتے ہوئے یہ فیصلہ اور متعلقہ نیوز رپورٹ چیف جسٹس آف انڈیا کے سامنے پیش کی جائے تاکہ مناسب ہدایت دی جا سکے۔ عدالت نے اس بات پر زور دیا کہ عوام کی صحت سے جڑے ایسے حساس موضوعات کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔
سلطان پور میں آوارہ کتے کے حملے سے بچی کی موت
سپریم کورٹ کی مداخلت کی ایک اہم وجہ وہ سانحہ ہے جو دہلی کے سلطان پور کے پٹھ خرد گاؤں میں پیش آیا۔ یہاں 24 دن قبل ایک آوارہ کتے کے حملے میں شدید زخمی ہونے والی 6 سالہ بچی نے 23 جولائی کو دم توڑ دیا۔ ابتدائی علاج کے باوجود بچی کی حالت بگڑتی گئی اور بالآخر وہ جانبر نہ ہو سکی۔
2024 میں 37 لاکھ سے زیادہ حملے، 54 مشتبہ اموات
پارلیمنٹ میں گزشتہ ہفتے پیش کردہ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق، صرف 2024 میں ملک بھر میں کتوں کے کاٹنے کے 3717336 معاملات درج کیے گئے۔ ان میں سے 54 افراد کی موت ریبیز کے شبہ میں ہوئی۔ یہ اعداد و شمار مرکزی وزیر ایس پی سنگھ بگھیل نے لوک سبھا میں تحریری جواب کے طور پر پیش کیے۔
حکومتی مشن کی ضرورت
بڑھتے ہوئے حملوں اور ریبیز کے بڑھتے خطرے کے پیش نظر ماہرین کا کہنا ہے کہ مرکزی اور ریاستی حکومتوں کو مل کر ایک منظم اور ہنگامی قومی مشن کے تحت آوارہ کتوں کے مسئلے پر قابو پانے کی ضرورت ہے، تاکہ شہریوں خاص طور پر بچوں اور بزرگوں کی جان محفوظ رہ سکے۔
بھارت ایکسپریس اردو
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

