سپریم کورٹ
نئی دہلی: سپریم کورٹ نے جمعہ کے روزاسکولوں میں لڑکیوں کے لئے علیحدہ بیت الخلا اورسینیٹری پیڈ کے حوالے سے ایک اہم فیصلہ جاری کیا۔ سپریم کورٹ نے حکم دیا کہ تمام سرکاری اورپرائیویٹ اسکول طالبات کے لیے علیحدہ ٹوائلٹ اورسینیٹری پیڈ فراہم کریں۔ تمام حکومتوں کوتین ماہ کے اندراندرعمل کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔ یہ اہم فیصلہ سپریم کورٹ میں دائرکی گئی ایک پٹیشن کی بنیاد پردیا گیا ہے، جس میں لڑکیوں کواسکولوں میں پیریڈس کے دوران درپیش مسائل کوحل کیا گیا ہے۔
سپریم کورٹ نے کہا کہ آئین کے آرٹیکل 21 کے تحت زندگی کے حق کی ضمانت دی گئی ہے، اس میں ماہواری کی صحت (ماسک دھرم) کا حق بھی شامل ہے۔ اس اہم آبزرویشن کے ساتھ عدالت نے اپنے حکم میں کئی دیگراہم نکات کی طرف بھی اشارہ کیا۔ سپریم کورٹ نے کہا کہ یہ فیصلہ نہ صرف سسٹم میں شامل لوگوں کے لئے ہے بلکہ ان کلاس رومزکے لیے بھی ہے، جہاں لڑکیاں مدد لینے سے کتراتی ہیں۔ یہ ان اساتذہ کے لیے بھی ہے، جومدد کرنا چاہتے ہیں، لیکن وسائل کی کمی کی وجہ سے ایسا کرنے سے قاصرہیں۔
عدالت نے معاشرہ کے ہرطبقہ سے متعلق دیا یہ حکم
سپریم کورٹ نے کہا کہ یہ حکم ان والدین کے لیے بھی ہے، جواپنی خاموشی کے اثرات کومحسوس نہیں کرپاتے ہیں اورمجموعی طورپرمعاشرے کے لیے یہ ظاہرکرنے کے لئے ہے کہ ترقی کا اندازہ اس بات سے لگایا جاتا ہے کہ ہم سب سے زیادہ کمزوروں کی حفاظت کیسے کرتے ہیں۔ عدالت نے اپنے حکم میں کہا کہ ہم ہراس لڑکی کویہ پیغام دینا چاہتے ہیں جو شاید اس لئے اسکول نہیں جا سکتی ہے کیونکہ اس کے جسم کوبوجھ سمجھا جاتا ہے، لیکن اس میں اس کی کوئی غلطی نہیں ہے۔ عدالت نے کہا کہ یہ الفاظ عدالتوں اورقانونی جائزہ رپورٹوں سے بالاترہوکر معاشرے کے ہرطبقہ تک پہنچنا چاہئے۔
عدالت نے اپنے حکم میں کیا کہا؟
تمام ریاستوں اورمرکزکے زیرانتظام علاقوں کواس بات کویقینی بنانا چاہئے کہ ہرسرکاری یا پرائیویٹ اسکول میں صنفی طورپرالگ الگ بیت الخلاء اورپانی کی سہولیات موجود ہوں۔ تمام نئے اسکولوں میں پرائیویسی کویقینی بنایا جانا چاہئے، جبکہ معذورافراد کے حقوق کا بھی احترام کیا جانا چاہئے۔ تمام ریاستوں اورمرکزکے زیرانتظام علاقوں کواس بات کویقینی بنانا چاہئے کہ ہر اسکول کے بیت الخلا کمپلیکس میں بائیوڈیگریڈیبل سینیٹری نیپکن دستیاب ہوں۔ ماہواری (پیریڈ) کی ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لئے ماہواری کے حفظان صحت کے انتظام کے مراکزقائم کئے جائیں، جواضافی یونیفارم اوردیگرضروری سامان سے لیس ہوں۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔


