سپریم کورٹ نے منگل کے روز ایک عرضی کو مسترد کر دیا جس میں مرکز کو ونائک دامودر ساورکر کے نام کو نشانات اور ناموں (غیر مناسب استعمال کی روک تھام) ایکٹ 1950 (Emblems and Names (Prevention of Improper Use) Act, 1950) کے شیڈول میں شامل کرنے کی ہدایت دینے کی درخواست کی گئی تھی۔ یہ ایکٹ پیشہ ورانہ اور تجارتی مقاصد کے لیے کچھ نشانات اور ناموں کے غلط استعمال کو روکتا ہے۔
ایک ریسرچ اسکالر ڈاکٹر پنکج کمود چندر پھڈنیس کی طرف سے دائر درخواست میں کہا گیا کہ راہل گاندھی ساورکر کے خلاف مبینہ بیانات دے کر درخواست گزار کے بنیادی فرائض کی خلاف ورزی کر رہے ہیں۔ تاہم چیف جسٹس آف انڈیا بی آر گاوائی اور جسٹس آگسٹین جارج مسیح کی سربراہی میں دو ججوں کی بنچ نے کسی بھی بنیادی حقوق کی خلاف ورزی کا مشاہدہ نہیں کیا اور کہا کہ وہ اس طرح کی درخواستوں کو نہیں سن سکتی۔
سپریم کورٹ نے کہا-حکومت کو بھیجیے عرضی
سپریم کورٹ نے اس عرضی کو مسترد کرتے ہوئے کہا ’’ہمیں مداخلت کے لیے کوئی بنیاد نہیں ملی۔ مانگی گئی ریلیف نہیں دی جا سکتی۔ درخواست گزار کا کوئی بنیادی حق متاثر نہیں ہوتا ہے۔‘‘ عرضی گزار نے سپریم کورٹ سے یہ ہدایت بھی مانگی کہ لوک سبھا لیڈر آف اپوزیشن راہل گاندھی ساورکر کے خلاف اپنے مبینہ ریمارکس کی سزا کے طور پر کمیونٹی سروس کریں۔
سی جے آئی نے کہا کہ دفعہ 32 کی درخواست پر صرف اسی صورت میں غور کیا جا سکتا ہے جب بنیادی حقوق کی خلاف ورزی ہوئی ہو۔ بنچ نے کہا ’’اگر آپ چاہتے ہیں کہ نصاب میں کچھ بھی شائع کیا جائے تو یونین آف انڈیا کو اپنی نمائندگی دیں۔‘‘ درخواست گزار نے کہا کہ وہ پہلے ہی حکومت سے نمائندگی کر چکے ہیں۔ پھر بنچ نے اس کی درخواست خارج کر دی۔
بھارت ایکسپریس اردو
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

