Bharat Express DD Free Dish

Arvind Kejriwal Defamation Case: ہتک عزت معاملے میں اروند کیجریوال نے سپریم کورٹ میں تسلیم کی اپنی غلطی، جانئے کیا ہے پورا معاملہ

دہلی کے وزیراعلیٰ اروند کیجریوال پر یوٹیوبر دھرو راٹھی کا ویڈیو شیئرکرنے کے معاملے میں 2018 میں یہ معاملہ درج ہوا تھا۔ دہلی ہائی کورٹ نے کیس کو منسوخ کرنے سے انکار کردیا تھا، اسی کے خلاف اروند کیجریوال سپریم کورٹ پہنچے ہیں۔

دہلی کے وزیر اعلیٰ اروند کیجریوال۔ (فائل فوٹو)

دہلی کے وزیراعلیٰ اروند کیجریوال نے ہتک عزت سے متعلق ایک معاملے میں سپریم کورٹ میں سماعت کے دوران اپنی غلطی تسلیم کرلی ہے۔ اروند کیجریوال نے سپریم کورٹ سے یوٹیوبردھرو راٹھی کا ایک ویڈیو ری ٹوئٹ کرنے کے معاملے میں درج ہتک عزت معاملے کو منسوخ کرنے کی بھی اپیل کی ہے۔ اس معاملے میں پیر کے روز آئندہ سماعت ہوئی۔ اروند کیجریوال کی طرف سے پیش سینئروکیل ایڈوکیٹ ابھیشیک منوسنگھوی نے کہا کہ میرے موکل سے غلطی ہوگئی تھی۔ میں مانتا ہوں۔ سپریم کورٹ نے نوٹس جاری سے انکار کرتے ہوئے کہا کہ مدعا علیہ وکاس پانڈے اگرآپ کی معافی قبول کرلیں تو ہم معاملے کو بند کرسکتے ہیں۔

سپریم کورٹ نے مدعاعلیہ کے وکیل سے پوچھا کیا آپ معاف کر رہے ہیں۔ اس کے بعد وکیل نے کہا کہ میں اجازت لے کربتاؤں گا۔ سپریم کورٹ نے نچلی عدالت سے کہا کہ کوئی سخت حکم جاری نہیں کرے گا۔ عدالت 11 مارچ کو اس معاملے آئندہ سماعت کرے گا۔ گزشتہ سماعت میں دہلی ہائی کورٹ نے معاملے میں اروند کیجریوال کو طلب کرنے کی نچلی عدالت کو برقراررکھا تھا۔ عدالت نے کہا تھا کہ کیجریوال کے ایکس (ٹوئٹر) پراہم فالورس ہیں اوروہ ویڈیو کو ری ٹوئٹ کرنے کے نتائج کو سمجھتے ہیں۔ عدالت نے کہا تھا کہ توہین آمیز کنٹنٹ کو ری ٹوئٹ کرنا ہتک عزت کے مساوی ہے۔ یہ معاملہ وکاس سانکرتیاین عرف وکاس پانڈے کے ذریعہ دائرکیا گیا تھا، جو وزیراعظم نریندرمودی کا حامی ہونے کا دعویٰ کرتا ہے اورسوشل میڈیا پیج ‘آئی سپورٹ نریندرمودی’ کا بانی ہے۔

دراصل، اروند کیجریوال پریوٹیوبردھرو راٹھی کے ویڈیو والے ایک ویڈیو کو ری ٹوئٹ کرنے کے معاملے میں سال 2018 میں یہ معاملہ درج ہوا تھا۔ اس ویڈیو میں وکاس سانکرتین نام کے شخص کے بارے میں توہین آمیزباتیں کہی گئی تھیں۔ دہلی ہائی کورٹ نے یہ کہتے ہوئے مقدمہ منسوخ کرنے سے انکار کردیا تھا کہ ٹوئٹرپرکیجریوال کو بڑی تعداد میں لوگ فالو کرتے ہیں۔ انہوں نے شکایت کنندہ کے خلاف کہی گئی توہین آمیزباتوں کی تصدیق کئے بغیراسے ری ٹوئٹ کیا اور کروڑوں لوگوں تک پھیلایا۔

بھارت ایکسپریس۔



بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

Also Read