سپریم کورٹ آف انڈیا نے سہارا گروپ کی کوآپریٹو سوسائٹیز میں سرمایہ کاری کرنے والے متاثرہ ڈپازٹرز کو مزید ₹5000 کروڑ روپے کی ادائیگی کی منظوری دے دی ہے۔ یہ رقم SEBI-Sahara ریفنڈ اکاؤنٹ سے جاری کی جائے گی، جس میں اب بھی پچھلے عدالتی احکامات کے تحت غیر استعمال شدہ رقم موجود ہے۔ جسٹس سوریہ کانت اور جسٹس جوئے مالیا بگچی پر مشتمل بینچ نے سالیسیٹر جنرل تشار مہتا کی گزارشات پر غور کے بعد یہ حکم جاری کیا۔ ادائیگی مارچ 2023 کے حکم میں وضع کردہ طریقۂ کار کے مطابق ہوگی اور اس عمل کی نگرانی سپریم کورٹ کے ریٹائرڈ جج جسٹس آر سبھاش ریڈی کریں گے۔
یہ رقم پچھلے سال منظور شدہ ₹5000 کروڑ کی رقم کے علاوہ ہے۔ عدالت میں پیش کردہ اعداد و شمار کے مطابق اب بھی ریفنڈ اکاؤنٹ میں ₹24,979.67 کروڑ موجود ہیں۔ اب تک 26 لاکھ سے زائد تصدیق شدہ ڈپازٹرز کو مجموعی طور پر ₹5053 کروڑ واپس کیے جا چکے ہیں، جب کہ مزید 13.3 لاکھ افراد کی درخواستیں زیرِ تصدیق ہیں جن کے دعووں کی مجموعی مالیت ₹27,800 کروڑ سے تجاوز کر چکی ہے۔ حکام کے اندازے کے مطابق دعویٰ کرنے والوں کی تعداد 32 لاکھ تک پہنچ سکتی ہے۔ تصدیق اور ادائیگی کے اس وسیع عمل کو دیکھتے ہوئے سپریم کورٹ نے ادائیگی مکمل کرنے کی آخری تاریخ 31 دسمبر 2026 تک بڑھا دی ہے۔ نئی ڈیڈ لائن سے متعلقہ حکام کو مزید وقت ملے گا تاکہ وہ شفافیت اور درستگی کے ساتھ تمام واجبات ادا کر سکیں۔
عدالت کے حکم کے مطابق ایک ہفتے کے اندر یہ رقم سنٹرل رجسٹرار آف کوآپریٹو سوسائٹیز کو منتقل کی جائے گی، جو اہل سرمایہ کاروں کو براہ راست رقم تقسیم کرے گا۔ واضح رہے کہ SEBI-Sahara کیس 2012 سے زیرِ بحث ہے، جب عدالت نے سہارا انڈیا ریئل اسٹیٹ کارپوریشن لمیٹڈ اور سہارا ہاؤسنگ انویسٹمنٹ کارپوریشن لمیٹڈ کو غیر قانونی طور پر جمع کی گئی رقم 15 فیصد سود کے ساتھ واپس کرنے کا حکم دیا تھا۔ عدالت نے اس فیصلے کو چھوٹے سرمایہ کاروں کے حق میں ایک اہم قدم قرار دیا ہے اور کہا ہے کہ ادائیگی کا عمل مکمل شفافیت، تصدیق اور عدالتی نگرانی کے ساتھ مکمل کیا جائے گا۔ عدالت کو امید ہے کہ اضافی فنڈنگ اور مہلت سے سہارا ریفنڈ کے طویل عرصے سے التواء مسئلے کا حل ممکن ہو سکے گا۔
بھارت ایکپسریس اردو
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

