اسپیشل ڈی جی لا اینڈ آرڈر، لکھنو پرشانت کمار۔ (تصویر: اے این آئی)
UP News: اترپردیش کے تمام حصوں سے مسلسل غیرقانونی طریقے سے مذہب تبدیلی کے معاملے کو دیکھتے ہوئے پرشانت کمار، اسپیشل ڈی جی لاء اینڈ آرڈر نے زبردستی مذہب تبدیلی کرائے جانے کے معاملوں میں سخت کارروائی کرنے کی بات کہی ہے۔ انہوں نے غازی آباد میں گیمنگ کے ذریعہ سامنے آئے مذہب تبدیلی کے معاملے میں کہا کہ لوگ اپنی مرضی سے مذہب تبدیل کریں تو کوئی پریشانی نہیں، اگر زبردستی کرایا جائے تو کارروائی کی جائے گی۔
نیوزایجنسی اے این آئی کو دیئے گئے بیان میں اسپیشل ڈی جی لاء اینڈ آرڈر، لکھنؤ پرشانت کمارنے کہا کہ ”اترپردیش میں مذہب تبدیلی قانون 27.11.2020 سے نافذ ہے۔ حکومت کے ذریعہ جوایکٹ لایا گیا تھا، اس پرسختی سے عمل کرایا جا رہا ہے۔ جو بھی لوجہاد کے دائرے میں مذہب تبدیلی پرزوردے رہے ہیں، ان کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی کرنے کے لئے حکومت پابند عہد ہے۔“ اپنے بیان میں انہوں نے مزید کہا ”مذہب تبدیلی کے واقعات بھی وقتاً فوقتاً منظرعام پرآتے رہتے ہیں، جیسا کہ غازی آباد کے ایک بچے کوگیمنگ کے ذریعہ مذہب تبدیل کرنے کی ترغیب دینے کا معاملہ سامنے آیا ہے، پوچھ گچھ کرکے اہم ملزم کوانکوائری کے بعد دوسری ریاست میں لا کر مزید کارروائی کی جا رہی ہے۔“ اس کے ساتھ کہا ”اپنی مرضی سے مذہب تبدیل کرنے میں کوئی حرج نہیں، لیکن اگرزبردستی کی گئی تو کارروائی کی جائے گی۔“
उत्तर प्रदेश में धर्मांतरण का कानून 27.11.2020 से लागू है। सरकार द्वारा जो एक्ट लाया गया था उसका सख्ती से अनुपालन कराया जा रहा है। जो भी लव जिहाद के दायरे में लाते हुए धर्मांतरण को जोर दे रहे हैं उनके खिलाफ विधि संबंधित कार्रवाई करने के लिए सरकार संकल्पित है। सामान्य धर्मांतरण के… pic.twitter.com/7uHOlH47Mm
— ANI_HindiNews (@AHindinews) June 17, 2023
واضح رہے کہ حال ہی میں غازی آباد میں میں 12 سے 20 سال تک کی عمر کے بچوں کو گیم میں جتا دینے اور نمبر بڑھا دینے کے ساتھ ہی پیسوں کا لالچ دے کر مذہب تبدیلی کا الزام لگا تھا۔ اس معاملے میں ایک عالم دین کے ساتھ ہی خان شہنواز مقصود عرف بدو کوگرفتار کیا گیا ہے۔ پولیس اپنی حراست میں لے کر خان شہنواز مقصود عرف بدو سے کئی نکات پر پوچھ گچھ کر رہی ہے۔ اسی کے ساتھ پولیس اس پورے ریکیٹ کی تہہ تک جانے کی کوشش کر رہی ہے۔
بھارت ایکسپریس۔
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

