کنال کامرا کو نہیں ملی مہلت
ممبئی: اسٹینڈ اپ کامیڈین کنال کامرا، جنہوں نے مہاراشٹر کے نائب وزیر اعلیٰ ایکناتھ شندے کا نام لیے بغیر ان کے خلاف متنازعہ تبصرہ کیا تھا، منگل کو پوچھ گچھ کے لیے پولیس کے سامنے پیش نہیں ہوئے۔ انہوں نے ایک ہفتے کا وقت مانگا ہے۔ کنال کامرا کو ممبئی کے کھار پولیس اسٹیشن نے طلب کیا تھا اور منگل کے روز تفتیشی افسر کے سامنے پیش ہونے کو کہا تھا۔ لیکن وہ حاضر نہیں ہوئے۔ کامرہ نے نیوز ایجنسی آئی اے این ایس سے فون پر بات کرتے ہوئے اس کی وجہ بھی بتائی۔
کامیڈین نے آئی اے این ایس کو بتایا کہ وہ فی الحال ممبئی سے باہر ہیں جس کی وجہ سے وہ پولیس کے سامنے پیش نہیں ہوسکے۔ انہوں نے کہا کہ انہیں ممبئی آنے اور پولیس کے سامنے پیش ہونے کے لیے ایک ہفتے کا وقت درکار ہے۔ کنال کامرا نے ممبئی پولیس کو خط بھیج کر ایک ہفتے کا وقت مانگا ہے۔
کھار پولیس نے منگل کے روز ہی کامرہ کو سمن بھیجا تھا۔ گھر پر نہ ملنے پر انہیں واٹس ایپ پر سمن بھیجا گیا۔ انہیں صبح 11 بجے تفتیشی افسر کے سامنے پیش ہونے کو کہا گیا۔ کھار پولیس کی ایک ٹیم بھی ان کے گھر گئی اور ان کے والدین کو بھی سمن کی کاپی پیش کی۔
اس سے قبل کنال کامرا نے پیر کے روز انسٹاگرام پر ایک پوسٹ میں ہیبی ٹیٹ کلب میں توڑ پھوڑ کی مذمت کی اور کہا کہ وہ اپنے تبصروں پر معافی نہیں مانگیں گے۔ کامیڈین نے ایک انسٹاگرام پوسٹ میں لکھا تھا، ’’ہیبی ٹیٹ محض ایک پلیٹ فارم ہے۔ ہر قسم کے شوز کے لیے ایک جگہ ہے۔ ہیبی ٹیٹ (یا کوئی اور مقام) میری کامیڈی کے لیے ذمہ دار نہیں ہے، نہ ہی اس کے پاس اس بات پر کوئی کنٹرول ہے کہ میں کیا کہتا یاکرتا ہوں۔ نہ ہی کوئی سیاسی پارٹی ایسا کرتی ہے۔‘‘
انہوں نے مزید لکھا تھا، ’’کسی کامیڈین کے الفاظ کی وجہ سے کسی مقام پر حملہ کرنا اتنا ہی احمقانہ ہے جتنا کہ ٹماٹر لے جا رہے ایک ٹرک کو اس لیے پلٹ دینا، کیونکہ پیش کیا گیا بٹر چکن آپ کو پسند نہیں آیا۔‘‘
انہیں مل رہی دھمکیوں کے بارے میں کامرانے کہا تھا ، ’’ہمارے اظہار رائے کی آزادی کا حق صرف طاقتوروں اور امیروں کی چاپلوسی کے لیے استعمال نہیں ہونا چاہیے، اگرچہ آج کا میڈیا ہمیں اس کے برعکس یقین دلائے۔ ایک طاقتور عوامی شخصیت کی قیمت پر مذاق کو برداشت نہ کر پانے کی آپ کی نااہلی میرے حق کی نوعیت کو نہیں بدلتی۔ جہاں تک مجھے معلوم ہے، ہمارے سیاسی لیڈران اور ہماری سیاسی نظام کے کارکنان کامذاق اڑاناقانون کے خلاف نہیں ہے۔ حالانکہ، اپنے خلاف کی گئی کسی بھی قانونی کارروائی کے لیے پولیس اور عدالت کے ساتھ تعاون کرنے کے لیے تیار ہوں۔
انہوں نے لکھا تھا، ’’لیکن، کیا قانون ان لوگوں کے خلاف منصفانہ اور یکساں طور پر لاگو ہو گا ،جنہوں نے طےکیا ہے کہ کسی مذاق سے ناراض ہونے پر توڑ پھوڑ کرنامناسب ردعمل ہے؟ اور بی ایم سی کےان غیر منتخب ممبران کے خلاف جو آج بغیر کسی پیشگی اطلاع کے ہیبی ٹیٹ پہنچے اور ہتھوڑوں سےجگہ کو توڑ دیا؟‘‘
کامرہ نے لکھا تھا ، ’’ جو میرا نمبر لیک کرنے یا مجھے مسلسل کال کرنے میں مصروف ہیں، مجھے یقین ہے کہ اب تک آپ کو احساس ہو گیا ہوگا کہ تمام نامعلوم کالز میرے وائس میل پر جاتی ہیں ،جہاں آپ کو وہی گانا سنایا جائے گا جس سے آپ نفرت کرتے ہیں۔‘‘
بھارت ایکسپریس۔
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔
