Bharat Express DD Free Dish

The Presidential Buggy, a Coin Toss: برطانوی دور سے جڑی شاہی بگھی کی دل چسپ تاریخ، یوم جمہوریہ پر دروپدی مرمو نے غیر ملکی مہمانوں کے ساتھ کی شاندار سواری

1947 میں بھارت اور پاکستان کی تقسیم کے وقت اس بگھی کو لے کر بھی پیچیدگی پیدا ہوئی تھی۔ یہ فیصلہ کرنا تھا کہ یہ قیمتی شاہی بگھی کس ملک کو دی جائے۔ اس کا فیصلہ سکّہ اچھال کر کیا گیا۔

صدراتی محل سے 77ویں یوم جمہوریہ کی تقریبات کا آغاز ہوتے ہی ایک بار پھر تاریخی اور شاہی بگھی نے سب کی توجہ اپنی جانب مبذول کر لی۔ صدرجمہوریہ دروپدی مرمو، یوم جمہوریہ کی پریڈ کے مہمان خصوصی یورپی کونسل کے صدر انتونیو کوسٹا اور یورپی کمیشن کی صدر ارسولا وان ڈیر لیئن کے ساتھ اسی شاہی بگھی میں سوار ہو کر کرتویہ پاتھ کی جانب روانہ ہوئیں۔ یہ بگھی 1950 سے یوم جمہوریہ کی روایت کا حصہ رہی ہے، جب بھارت کے پہلے صدر ڈاکٹر راجندر پرساد اسی بگھی پر سوار ہو کر تقریب میں شریک ہوئے تھے۔ آزادی سے قبل برطانوی دور میں وائسرائے اس بگھی کو شاہی سواری کے طور پر استعمال کرتے تھے۔

اس شاہی بگھی کے کناروں پر سونے کی تہہ چڑھی ہوئی ہے اور اس پر قومی نشان اشوک استنبھ سنہری نقش کے ساتھ کندہ ہے۔ بگھی کو آگے کھینچنے کے لیے عموماً چھے گھوڑے استعمال کیے جاتے ہیں اور ان کے ساتھ فوجی سارتھی کی حیثیت سے چلتے ہیں۔ موقع اور روایت کے مطابق بعض اوقات چار گھوڑوں کا بھی استعمال کیا جاتا ہے۔ یوم جمہوریہ کے علاوہ بیٹنگ ریٹریٹ اور دیگر اہم سرکاری تقاریب میں بھی اس شاہی بگھی کو استعمال میں لایا جاتا ہے۔

شاہی بگھی کی تاریخ

1947 میں بھارت اور پاکستان کی تقسیم کے وقت اس بگھی کو لے کر بھی پیچیدگی پیدا ہوئی تھی۔ یہ فیصلہ کرنا تھا کہ یہ قیمتی شاہی بگھی کس ملک کو دی جائے۔ اس کا فیصلہ سکّہ اچھال کر کیا گیا۔ بھارت کی جانب سے ایچ ایم پٹیل اور پاکستان کی جانب سے چودھری محمد علی کے درمیان دیگر قیمتی اثاثوں کے ساتھ اس بگھی پر بھی فیصلہ ہوا۔ اس وقت وائسرائے کے باڈی گارڈز کی تقسیم بھی دو تہائی بھارت اور ایک تہائی پاکستان کے حق میں ہوئی۔ اطلاعات کے مطابق، لیفٹیننٹ کرنل ٹھاکر گووند سنگھ اور پاکستانی فوج کے یعقوب خان کے درمیان سکّہ اچھالا گیا، جس کے نتیجے میں یہ شاہی بگھی بھارت کے حصے میں آئی۔

1984 میں روایت ٹوٹ گئی

1984 میں وزیراعظم اندرا گاندھی کے قتل کے بعد سیکورٹی وجوہات کے پیش نظر شاہی بگھی کا استعمال بند کر دیا گیا اور اس کی جگہ بلٹ پروف گاڑی نے لے لی۔ قابل ذکر بات یہ ہے کہ 2014 میں صدر پرنب مکھرجی نے ایک بار پھر اس روایت کو زندہ کیا۔ اس کے بعد سابق صدر رام ناتھ کووند اور سابق صدر پرتبھا پاٹل بھی مختلف عوامی تقاریب کے دوران اس شاہی بگھی میں سوار نظر آئیں۔ آج بھی یہ بگھی بھارت کی جمہوری روایت، وقار اور تاریخی تسلسل کی ایک شان دار علامت سمجھی جاتی ہے۔

بھارت ایکسپریس اردو



بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

Also Read