اسدالدین اویسی کی پارٹی آل انڈیا مجلس اتحاد المسلمین (اے آئی ایم آئی ایم) کی مدھیہ پردیش میں واحد ہندو خاتون کونسلر ارونا اپادھیائے نے پارٹی سے استعفیٰ دے دیا ہے۔حیدرآباد میں واقع اے آئی ایم آئی ایم کے مرکزی دفتر کو 14 جولائی کو لکھے گئے خط میں، انہوں نے کہا کہ وہ ذاتی وجوہات کی بناء پر کور کمیٹی اور پارٹی کی رکنیت سے استعفی دے رہی ہیں۔ ارونا اپادھیائے نے صحافیوں کو بتایا کہ وہ کسی دوسری پارٹی میں شامل نہیں ہونے جا رہی ہیں، لیکن کھرگون میونسپل کونسل کی آزاد کونسلر کے طور پر کام جاری رکھیں گی۔
انہوں نے کہا کہ تبدیلی مذہب اور مسلسل ہراساں کیے جانے کے الزامات کی وجہ سے استعفیٰ دیا ہے۔ ارونا کے شوہر اور کچھ دوسرے لوگوں نے مبینہ طور پر اس پر لوگوں کو اسلام قبول کرنے کا الزام لگایا تھا۔غور طلب ہے کہ گزشتہ کچھ دنوں سے کونسلر اے آئی ایم آئی ایم کی خاتون لیڈر ارونا اپادھیائے خاندانی جھگڑے کی وجہ سے پریشان تھیں۔ پارٹی کی رکنیت کو اس طرح چھوڑنے کی وجہ سے وہ ایک بار پھر سرخیوں میں ہیں۔ خط میں ارونا نے لکھا کہ “میں ارونا اپادھیائے، وارڈ نمبر 2 کونسلر، میونسپلٹی کھرگون نے آپ کی پارٹی ایم آئی ایم کے ٹکٹ پر الیکشن لڑی اور جیتی، میں اپنی ذاتی وجوہات کی وجہ سے کور کمیٹی اور پارٹی کی رکنیت سے استعفیٰ دے رہی ہوں اور میں آزادانہ طور پر کونسلر کی حیثیت سے اپنی ذمہ داریاں ادا کرتی رہوں گی۔ اس لیے میرا استعفیٰ قبول کیا جائے۔
آپ کو بتادیں کہ 2022 کے بلدیاتی انتخابات میں وہ ان چار امیدواروں میں سے ایک تھیں جو اسد الدین اویسی کی قیادت والی پارٹی کے ٹکٹ پر جیتی تھیں۔ اپادھیائے کی جیت نے سب کی توجہ اپنی طرف مبذول کر لی تھی کیونکہ وہ ‘وارڈ 2’ سے جیتی تھیں، جس میں 70 فیصد مسلم آبادی تھی۔مسلم اکثریتی سیٹ ہونے کے باوجود ایم آئی ایم نے ہندو امیدوار کو میدان میں اتارا اور کامیاب بھی بنایا۔لیکن اب انہوں نے ایم آئی ایم کا ساتھ چھوڑ دیا ہے۔
بھارت ایکسپریس۔
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔
