Bharat Express DD Free Dish

India AI Impact Summit: سربیا کے صدر الیگزینڈر ووچک کا ’اے آئی امپیکٹ سمٹ‘ پر مضمون، وزیر اعظم مودی نے کی ستائش

وزیراعظم مودی نے سربیا کے صدر الیگزینڈر ووچک کی جانب سے بھارت کے دورے اور ’اے آئی امپیکٹ سمٹ 2026‘ سے متعلق تحریر کردہ مضمون کی بھرپور تعریف کی ہے۔ وزیر اعظم نے کہا کہ صدر ووچک کا مضمون نہ صرف مصنوعی ذہانت کے میدان میں بھارت کی تیز رفتار پیش رفت کو اجاگر کرتا ہے بلکہ بھارت اور سربیا کے مضبوط ہوتے تعلقات کی بھی عکاسی کرتا ہے۔

نئی دہلی: وزیراعظم نریندر مودی نے سربیا کے صدر الیگزینڈر ووچک کی جانب سے بھارت کے دورے اور ’اے آئی امپیکٹ سمٹ 2026‘ سے متعلق تحریر کردہ مضمون کی بھرپور تعریف کی ہے۔ وزیر اعظم نے کہا کہ صدر ووچک کا مضمون نہ صرف مصنوعی ذہانت کے میدان میں بھارت کی تیز رفتار پیش رفت کو اجاگر کرتا ہے بلکہ بھارت اور سربیا کے مضبوط ہوتے تعلقات کی بھی عکاسی کرتا ہے۔ وزیر اعظم مودی نے بدھ کی صبح سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر اپنے پیغام میں لکھا کہ صدر الیگزینڈر ووچک کا یہ ایک شاندار مضمون ہے، جس میں انہوں نے اے آئی کے موضوع پر اظہار خیال کرنے کے ساتھ ساتھ بھارت سے اپنی وابستگی، ٹیکنالوجی کے شعبے میں ملک کی ترقی اور دو طرفہ رشتوں پر روشنی ڈالی ہے۔

اس سے قبل صدر ووچک نے بھی سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر اپنا مضمون شیئر کرتے ہوئے کہا کہ انہیں بھارت آکر اور ’اے آئی امپیکٹ سمٹ 2026‘ میں شرکت کر کے بے حد خوشی ہوئی۔ اپنے مضمون کے آغاز میں انہوں نے لکھا کہ دہلی پہنچتے ہی انہیں ایک خاص مسرت کا احساس ہوا، کیونکہ وہ ایک ایسے ملک میں موجود تھے جس کی وہ طویل عرصے سے تعریف کرتے آئے ہیں اور جو عالمی برادری کے لیے کامیابی کی نئی راہیں ہموار کر رہا ہے۔ صدر ووچک نے بھارت کی گوناگوں تنوع کے باوجود اتحاد برقرار رکھنے کی صلاحیت کو سراہتے ہوئے لکھا کہ دنیا کی سب سے بڑی جمہوری ریاستوں میں شامل بھارت، جہاں متعدد زبانیں، مذاہب، ثقافتیں اور روایات موجود ہیں، ایک متحرک اور زندہ دل کثرتیت کی مثال ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہی ہم آہنگی بھارت کی اصل طاقت ہے۔

اپنی ذاتی زندگی کا ذکر کرتے ہوئے سربیا کے صدر نے بتایا کہ 1990 کی دہائی میں لندن میں ملازمت کے دوران پہلی بار انہیں بھارتی شہریوں کے ساتھ قریب سے کام کرنے کا موقع ملا۔ اس تجربے نے ان کے ذہن و فکر پر گہرا اثر ڈالا اور بھارت کے تئیں ان کی وابستگی میں اضافہ کیا۔ انہوں نے لکھا کہ اس دور میں سیکھے گئے اسباق سیاست اور سفارت کاری کے شور شرابے سے کہیں بالاتر تھے اور انہوں نے ان کے کردار اور عالمی نقطہ نظر کی تشکیل میں اہم کردار ادا کیا۔ صدر ووچک نے اپنے مضمون میں اس بات پر بھی روشنی ڈالی کہ ماضی میں یورپ کے بعض حلقے بھارت اور بھارتیوں کو کم تر سمجھنے کے عادی تھے، مگر انہوں نے ہمیشہ بھارتی عوام کے عزم اور محنت کو قریب سے دیکھا۔ ان کے مطابق وقت نے ثابت کر دیا کہ بھارت کی ترقی کو نظرانداز کرنے والے غلط تھے۔

انہوں نے ورلڈ اکنامک فورم کے حالیہ اجلاس کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ وہاں ایک مباحثے میں یہ رائے سامنے آئی تھی کہ بھارت عالمی اے آئی طاقتوں میں شاید دوسرے درجے پر رہے گا، مگر وہ اس خیال سے مؤدبانہ اختلاف کرتے ہیں۔ ان کے مطابق بھارت کا اے آئی ماڈل حقیقی دنیا میں عملی اطلاق، اخلاقی معیارات اور جامع اختراع پر مبنی ہے، جو اسے منفرد بناتا ہے۔ صدر ووچک نے ’اے آئی امپیکٹ سمٹ‘ کو محض ایک کانفرنس سے بڑھ کر قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ عالمی سطح پر مصنوعی ذہانت سے متعلق بحث میں بھارت کو مرکزی مقام فراہم کرتی ہے۔ انہوں نے اس امید کا اظہار کیا کہ وزیر اعظم مودی کی قیادت میں اے آئی کو چند مخصوص طبقات تک محدود رکھنے کے بجائے اسے اجتماعی ترقی اور سماجی بہبود کا ذریعہ بنایا جائے گا، تاکہ ٹیکنالوجی کا فائدہ ہر طبقے تک پہنچ سکے۔

بھارت ایکسپریس اردو۔



بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

Also Read