تحریر: ظہور حسین بٹ
ہند۔بحرالکاہل خطہ عالمی سلامتی اور اقتصادی خوشحالی میں کلیدی کردار ادا کرتا ہے کیونکہ یہ اہم تجارتی گزرگاہ ہے اور تزویراتی رجحانات کی تشکیل میں اہم حیثیت رکھتا ہے۔ فروری 2025 میں امریکہ اور ہندوستان کے سربراہان مملکت کے مشترکہ بیان میں دونوں ممالک نے یہ عزم دہرایا کہ وہ اس خطے کو آزاد، کشادہ اور محفوظ رکھنے کے لیے باہمی تعاون جاری رکھیں گے۔ اس مشترکہ ویژن میں علاقائی سلامتی اور بین الاقوامی اصولوں کی پاسداری کو خاص اہمیت حاصل ہے۔
پرتناشری باسو، جو امریکی محکمۂ خارجہ کے انٹرنیشنل وزیٹر لیڈرشپ پروگرام (آئی وی ایل پی) کی فیض یافتہ ہیں ، اس وژن میں اپنا حصہ ڈال رہی ہیں۔ آئی وی ایل پی امریکی محکمۂ خارجہ کا ایک باوقار پیشہ ورانہ تبادلہ پروگرام ہے جو مختلف شعبوں میں امریکی اور بین الاقوامی رہنماؤں کے درمیان طویل مدتی تعلقات استوار کرتا ہے۔
بحری جغرافیائی سیاست کی ماہر ہ اور کولکاتہ میں قائم آبزرور ریسرچ فاؤنڈیشن (او آر ایف) میں ’ایسوسی ایٹ فیلو برائے ہند۔بحرالکاہل‘ کی حیثیت سے باسو کا کام اس بات پر مرکوز ہے کہ اصولوں پر مبنی سمندری حکمرانی اور کثیرالملکی تعاون، خاص طور پر کواڈ ممالک کے درمیان، کس طرح علاقائی استحکام کو فروغ دے سکتے ہیں۔
’ تجارتی تعاون اور ترسیلی روابط ‘ کے موضوع پر آئی وی ایل پی میں شرکت کے دوران باسو کو یہ سمجھنے کا موقع ملا کہ علاقائی سلامتی، اقتصادی سفارت کاری اور سمندری تعاون کس طرح ایک دوسرے سے جُڑے ہوئے ہیں۔ بین الاقوامی تعلقات میں ڈاکٹریٹ کی ڈگری رکھنے والی باسو کی تحقیق مختلف کتابوں، رپورٹوں اور جرائد میں شائع ہو چکی ہے۔
پیش ہیں باسو سے انٹرویو کے منتخب اقتباسات۔
ہند۔بحرالکاہل خطے میں بحری جغرافیائی سیاست پر توجہ دینے کی تحریک آپ کو کہاں سے ملی، اور کیا آپ کے جغرافیائی محلِ وقوع نے اس حوالے سے آپ کی سوچ کو متاثر کیا؟
میری دلچسپی اُس وقت پیدا ہوئی جب میں نے یہ جاننے کی کوشش کی کہ مختلف ممالک سمندروں کو کس نظر سے دیکھتے ہیں، ان سے فائدہ اٹھاتے ہیں، اور ان پر اثر و رسوخ کے لیے کس طرح مسابقت کرتے ہیں۔ ہند۔بحرالکاہل خطہ صرف ایک سمندری خطہ نہیں، بلکہ یہ طاقت کے بدلتے توازن، نئے اتحادوں اور سمندر کے تجارتی، سلامتی اور سفارتی کردار سے جُڑا ہوا ہے۔ میں نے خاص طور پر دیکھا کہ جنوبی بحیرۂ چین جیسے مقامات کیسے تزویراتی موجودگی اور متضاد اصولوں کی آزمائش کا میدان بنتے جا رہے ہیں۔
ہندوستان کی رہائش نے میرے نقطۂ نظر کو واضح شکل دی۔ بحر ہند میں واقع ایک جزیرہ نما ملک ہونے کے ناطے، ہندوستان کا سمندری نقطۂ نظر نہ صرف تزویراتی ہے بلکہ ترقی کی خواہشات کا بھی مظہر ہے۔ میں نے نوٹ کیا کہ جنوب مشرقی ایشیا، جاپان، آسٹریلیا، امریکہ اور ’ ہند۔بحرالکاہل سمندری پہل کاری ‘ جیسے اقدامات کے ساتھ ہندوستان کی شراکت داریاں صرف صلاحیت سازی تک محدود نہیں بلکہ اصولوں کی تشکیل، استحکام کی حمایت، اور قانون پر مبنی نظم و نسق کے قیام میں بھی معاون ہیں۔
آئی وی ایل پی میں شرکت نے بحری جغرافیائی سیاست اور بین الاقوامی سمندری تعاون کے بارے میں آپ کی سوچ کو کس طرح گہرائی عطا کی؟
اس پروگرام کے ذریعے میں نے جانا کہ کس طرح بنیادی ڈھانچے، پالیسیوں اور حکمتِ عملیوں کے امتزاج سے عالمی سطح پر تزویراتی روابط قائم کرنے میں مدد ملتی ہے۔ رابطہ سازی کا معاملہ صرف بندرگاہوں اور ریلوے نظام تک محدود نہیں بلکہ یہ ایسے نظام تشکیل دینے کا معاملہ ہے جو شفافیت، لچک اور پائیداری کو فروغ دیتا ہے۔
پروگرام کے دوران میں نے امریکہ کے کئی اہم مراکزِ رسد و ترسیل کا دورہ کیا اور امریکی پالیسی سازوں سے براہِ راست گفتگو کی۔ ان تجربات نے مجھے یہ سمجھنے میں مدد دی کہ ضابطوں پر مبنی ہم آہنگی، ڈیجیٹل جدت اور تعاون کس طرح مضبوط بنیادی ڈھانچے کی بنیاد رکھتے ہیں ۔ میرے لیے سب سے نمایاں بات یہ تھی کہ بنیادی ڈھانچے، جغرافیائی اثر و رسوخ اور اقتصادی سفارت کاری کے درمیان گہرا تعلق ہے۔ میں نے دیکھا کہ تجارتی اہداف کو خارجہ پالیسی سے ہم آہنگ کیا جا سکتا ہے، اور آج کے پیچیدہ عالمی ماحول میں یہ بصیرت بہت معنی رکھتی ہے۔
او آر ایف میں آپ کی تحقیق نے ہند۔بحرالکاہل میں سمندری تعاون اور اقتصادی سفارت کاری سے متعلق پالیسی مباحث کو کس طرح تقویت دی ہے؟
او آر ایف میں میرا کام مشرقی ہند۔بحرالکاہل میں بحری جغرافیائی سیاست اور ترقیاتی تعاون کی سیاست پر مرکوز ہے۔ میری تحقیق میں علاقائی شراکت داریاں، سمندری سلامتی کی صورتِ حال، ہندوستان کا سمندری وژن، اور کواڈ جیسے کثیر فریقی پلیٹ فارم شامل ہیں۔ ایک اہم موضوع یہ رہا ہے کہ اسٹریٹجک اعتماد کیسے قائم کیا جائے اور باہم جڑے ہوئے فریم ورک کیسے تیار کیے جائیں۔
آئی وی ایل پی کے تجربے نے میری سوچ کو اس پہلو سے گہرائی دی کہ امریکہ کس طرح تجارت، بنیادی ڈھانچے اور سفارت کاری کو جوڑ کر اپنی تزویراتی موجودگی کو مضبوط بناتا ہے۔ ان مشاہدات نے میری پالیسی تحریروں کی سمت متعین کی، خاص طور پر رابطہ سازی کے ان فریم ورک کی حمایت میں جو تزویراتی، منصفانہ اور اصولوں پر مبنی ہوں، اور جو ہندوستان کے ہند۔بحرالکاہل وژن سے ہم آہنگ ہوں۔
ہند۔بحرالکاہل خطے کو درپیش فوری سمندری چیلنج کیا ہیں، اور آپ کے خیال میں امریکہ۔ہند شراکت داری ان کا مؤثر طور پر کیسے مقابلہ کر رہی ہے؟
ہند۔بحرالکاہل کو کئی فوری چیلنج درپیش ہیں، جن میں متنازعہ سمندری سرحدیں، فوجی سرگرمیوں میں اضافہ، اور ’گریزون‘ حکمتِ عملیاں شامل ہیں، یعنی وہ اقدامات جو کھلی جنگ کا حصہ نہیں ہوتے مگر دباؤ بڑھانے کے لیے استعمال کیے جاتے ہیں۔ اس کے علاوہ غیر روایتی خطرات جیسے غیر قانونی ماہی گیری بھی ساحلی ریاستوں کو متاثر کر رہی ہے۔
امریکہ۔ہند شراکت داری ان چیلنجوں سے مؤثر طور پر نمٹنے کی پوزیشن میں ہے۔ یہ شراکت داری صرف بات چیت تک محدود نہیں رہی بلکہ ’مالابار‘ جیسی مشقوں، سمندری تعاون اور بنیادی ڈھانچے کی کوششوں کے ذریعے عملی سطح پر مزید مضبوط ہوئی ہے۔ اس تعاون کی قوت تزویراتی بازدار اور صلاحیت سازی کے امتزاج میں ہے، جو اسے ایک قابلِ اعتبار اور تعمیری فریم ورک بناتا ہے۔
آپ کے خیال میں امریکہ۔ہند شراکت داری اور کواڈ کس طرح ہند۔بحرالکاہل خطے کو آزاد،کشادہ اور محفوظ بنانے میں کردار ادا کر سکتے ہیں؟
امریکہ۔ہند شراکت داری اور کواڈ مستقبل میں ہند۔بحرالکاہل کے چیلنجوں سے نمٹنے کے لیے مؤثر فریم ورک بن سکتے ہیں۔ اگرچہ ان ممالک کی ترجیحات مختلف ہو سکتی ہیں، لیکن اب ان کے درمیان سمندری معلومات کی جامع آگاہی، رابطہ سازی اور بحری قانون جیسے شعبوں میں ہم آہنگی بڑھ رہی ہے۔
اگلا اہم قدم موجودہ اقدامات کو منظم اور مربوط بنانا ہے۔ مثال کے طور پر ہند۔ بحرالکاہل خطے کی بحری حدود سے آگاہی سے متعلق پروگرام (آئی پی ایم ڈی اے) علاقائی سطح پر نگرانی کو مضبوط بناتے ہیں۔ اگر ان پروگراموں کو آسیان اور بحرِ ہند کے شراکت داروں تک وسعت دی جائے، تو اس سے علاقائی ہم آہنگی اور شراکت داری کو تقویت ملے گی۔
معاشی لچک بھی کواڈ کے مستقبل کو شکل دے گی۔ کواڈ کو سپلائی چین (رسد فراہمی کا نظام)اور بنیادی ڈھانچے کے لیے متبادل فراہم کرنے ہوں گے۔ اس سلسلے میں ہندوستان کی جغرافیائی حیثیت اور شراکت داریاں اسے ایک اہم کردار ادا کرنے والا شراکت دار بناتی ہیں۔ البتہ، بدلتی ہوئی عالمی سیاست ان شراکت داریوں کے ارتقا پر اثر ڈال سکتی ہے۔
آپ کے خیال میں گذشتہ برسوں میں امریکہ۔ہند دفاعی اور تکنیکی شراکت داری کس طرح ترقی کر رہی ہے، اور اس کا ہند۔بحرالکاہل خطے میں کیا کردار ہے؟
ہند۔امریکہ دفاعی اور ٹیکنالوجی پر مبنی شراکت داری ہند۔بحرالکاہل خطے میں استحکام کا ایک اہم ستون بن چکی ہے۔ یہ اب صرف دفاعی تجارت تک محدود نہیں رہی بلکہ اس میں مشترکہ تحقیق، پیداوار اور باہمی ہم آہنگی شامل ہو چکی ہے۔ سی او ایم کاسا، بی ای سی اے، اور صنعتی سلامتی سے متعلق ضمیمہ جیسے معاہدوں نے خفیہ معلومات کے تبادلوں اور محفوظ مواصلات کو فروغ دیا ہے۔ ’انڈس۔ایکس‘ جیسے اقدامات دفاع، خلاء، مصنوعی ذہانت اور سائبر ٹیکنالوجی میں گہرے تعاون کی نشاندہی کرتے ہیں، جو اس تیزی سے بدلتے اور مسابقتی خطے کے لیے نہایت اہم ہیں۔
’ٹائیگر ٹرائمف‘ جیسی مشترکہ مشقیں اور بڑھتا ہوا بحری اشتراک ہم آہنگی کو بہتر بناتے ہیں۔ مجموعی طور پر، یہ شراکت داری خطے میں استحکام، اصولوں کی پاسداری اور باہمی تعاون کی بنیاد بن رہی ہے، نیز سپلائی چین کے تحفظ کو مضبوط بناتی ہے۔ یہ دباؤ پر مبنی اقدامات کا تدارک کرتی ہے اور ایک آزاد، کشادہ اور مستحکم ہند۔بحرالکاہل خطے کی حمایت کرتی ہے۔
بشکریہ اسپَین میگزین، امریکی سفارت خانہ، نئی دہلی
بھارت ایکسپریس اردو
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔





