مرکزی وزیر خارجہ ایس جے شنکر نے چین کے شہر چنگ ڈاؤ میں منعقدہ شنگھائی تعاون تنظیم (ایس سی او) کے وزرائے دفاع کے اجلاس میں مشترکہ اعلامیہ پر دستخط نہ کرنے کے وزیر دفاع راجناتھ سنگھ کے فیصلے کی پوری طرح حمایت کی۔ جے شنکر نے زور دیا کہ ایس سی او، جو بنیادی طور پر دہشت گردی کے خلاف جنگ کے لیے قائم کی گئی تنظیم ہے، اپنے سرکاری دستاویزات میں دہشت گردی کے معاملے کو نظر انداز نہیں کر سکتی۔ انہوں نے بالواسطہ طور پر پاکستان کو “ایک ملک” کے طور پر ذکر کیا جس نے دہشت گردی کا حوالہ شامل کرنے کی مخالفت کی، خاص طور پر 22 اپریل 2025 کو جموں و کشمیر کے پہلگام میں ہونے والے دہشت گرد حملے کا، جس میں 26 افراد ہلاک ہوئے، جن میں زیادہ تر سیاح تھے۔ جے شنکر نے کہاکہ ایس سی او اتفاق رائے سے چلتی ہے۔ لہٰذا راجناتھ جی نے واضح طور پر کہا کہ اگر اعلامیہ میں دہشت گردی کا ذکر نہ ہوا تو ہم اس پر دستخط نہیں کریں گے،جس سے بھارت کے اس معاملے پر غیر متزلزل موقف کی عکاسی ہوتی ہے۔
ایس سی او اجلاس میں بھارت، چین، پاکستان، روس اور دیگر رکن ممالک کے وزرائے دفاع شریک تھے، لیکن دہشت گردی کو واضح طور پر اجاگر کرنے پر بھارت کے اصرار کی وجہ سے اتفاق رائے نہ ہونے کے باعث مشترکہ بیان جاری نہ کیا جا سکا۔ راجناتھ سنگھ نے پہلگام حملے کو اجاگر کیا اور سرحد پار دہشت گردی کے خلاف اجتماعی اقدام کی ضرورت پر زور دیا، ساتھ ہی رکن ممالک سے مطالبہ کیا کہ وہ دہشت گردی کے مرتکب، منتظمین اور مالی معاونین کے خلاف سخت کارروائی کریں۔ انہوں نے کہا کہ دہشت گردی کسی بھی شکل میں ناقابل قبول ہے اور اسے کسی بھی نظریے یا مذہب سے جوڑ کر جائز نہیں ٹھہرایا جا سکتا۔ بھارت کے اس موقف نے اجلاس میں تناؤ پیدا کیا، کیونکہ پاکستان نے دہشت گردی کے ذکر کو شامل کرنے کی مخالفت کی، جسے بھارت نے غیر ذمہ دارانہ رویہ قرار دیا۔
جے شنکر نے مزید کہا کہ بھارت دہشت گردی کے خلاف عالمی تعاون کو مضبوط کرنے کے لیے پرعزم ہے اور وہ کسی بھی ایسی کوشش کی مخالفت کرے گا جو اس خطرے کو کمزور کرتی ہو یا اس سے توجہ ہٹاتی ہو۔ انہوں نے واضح کیا کہ بھارت ایس سی او کے اندر دہشت گردی کے خلاف ایک مضبوط اور متحد موقف کی توقع رکھتا ہے، کیونکہ یہ تنظیم کا بنیادی مقصد ہے۔ انہوں نے کہا، “ہمارے لیے یہ اصول کا معاملہ ہے۔ ہم دہشت گردی کے خلاف صفر رواداری کی پالیسی پر عمل پیرا ہیں، اور ہم توقع کرتے ہیں کہ ہمارے شراکت دار بھی اسی عزم کا مظاہرہ کریں گے۔بھارت کے اس موقف نے نہ صرف اجلاس کے نتائج کو متاثر کیا بلکہ خطے میں دہشت گردی سے نمٹنے کے لیے ایک واضح پیغام بھی دیا۔
بھارت ایکسپریس۔
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔



