سپریم کورٹ نے جمعرات کے روز صدر اور گورنروں کے ذریعے ریاستی بلوں پر کارروائی میں تاخیر سے متعلق صدارتی ریفرنس پر اپنا مشاورتی فیصلہ سناتے ہوئے کہا کہ بلوں پر منظوری کے لیے وقت کی پابندی مقرر کرنا یا ’’درخواستِ مفروضی منظوری (Deemed Assent)‘‘ نافذ کرنا آئین کے خلاف ہے اور اختیارات کی علیحدگی کے اصول کو نقصان پہنچاتا ہے۔ چیف جسٹس بی آرگوئی کی سربراہی میں پانچ رکنی آئینی بنچ نے قرار دیا کہ اپریل میں جاری فیصلے میں جو وقت کی حد طے کی گئی تھی اور جو ’’ڈی امڈ اسینٹ‘‘ کا تصور پیش کیا گیا تھا، وہ عدالت کی طرف سے صدر اور گورنر کے اختیارات پر دخل اندازی کے مترادف ہے۔ بنچ نے کہا کہ آئین بلوں کی منظوری کے معاملے میں لچک فراہم کرتا ہے اور عدلیہ کو کسی بھی ادارے کا کردار تبدیل کرنے کی اجازت نہیں دیتا۔
سپریم کورٹ کے اہم نکات
عدالت نے کہا کہ وہ آئین کے آرٹیکل 200 اور 201 کے تحت صدر یا گورنر کو بل پر کارروائی کے لیے کسی وقت کی حد کا پابند نہیں بنا سکتی۔ آئین نے جان بوجھ کر اس عمل کو لچکدار رکھا ہے اور عدالتی ڈیڈ لائن اختیارات کی علیحدگی کے اصول کے خلاف ہے۔ بنچ نے واضح کیا کہ آرٹیکل 142 کے تحت سپریم کورٹ کے غیر معمولی اختیارات صدر اور گورنر کے آئینی اختیارات پر غالب نہیں آ سکتے۔ یہ دونوں ادارے اپنے دائرہ اختیار میں آزادانہ کام کرتے ہیں۔ عدالت نے کہا کہ اگر کارروائی میں غیر معمولی اور بلاجواز تاخیر ہو تو عدالت محدود مداخلت کر سکتی ہے اور گورنر کو مناسب وقت میں فیصلہ کرنے کا حکم (mandamus) دے سکتی ہے، مگر عدالت اختیار یا میرٹ میں مداخلت نہیں کرے گی۔
آرٹیکل 200 کے تحت گورنر کے تین ہی اختیارات ہیں:
بل کو منظوری دینا
منظوری روک کر بل کو صدر کے پاس بھیجنا
بل کو مشوروں کے ساتھ اسمبلی کو دوبارہ غور کے لیے واپس کرنا
عدالت نے کہا کہ ’’ڈی امڈ اسینٹ‘‘ جیسی عدالتی اختراع آئین کے خلاف ہے۔ گورنر ’’سپر چیف منسٹر‘‘ نہیں بن سکتے اور ریاست میں دو ایگزیکٹو نہیں ہو سکتے۔ عدالت نے یہ بھی کہا کہ بل قانون بننے سے پہلے عدالتی نظر ثانی کے دائرے میں نہیں آتے۔ صدر اور گورنر کا بل کے مرحلے پر کردار قابلِ سماعت نہیں۔
دلائل
سالیسیٹر جنرل تشار مہتا نے دلیل دی کہ گورنر کے فیصلے میں عدالتی مداخلت اختیارات کی تقسیم کے اصول کی خلاف ورزی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر کوئی بل ’’صدمہ انگیز طور پر غیر آئینی‘‘ ہو تو گورنر اسے روک سکتے ہیں۔ اٹارنی جنرل آر وینکٹ رمانی نے کہا کہ آرٹیکل 200 میں اصلاح یا نئی صورت گری عدالت کا کام نہیں، بلکہ آئینی ڈھانچے کا احترام ضروری ہے۔ آخر میں عدالت نے کہا کہ غیر فعالیت ناقابل قبول ہے لیکن سخت وقت کی پابندی بھی آئینی نہیں۔ اختیارات کی علیحدگی چیک اینڈ بیلنس کے ساتھ برقرار رہنی چاہیے۔
بھارت ایکسپریس اردو
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

