Bharat Express DD Free Dish

Satish Gautam on AMU Holi Controversy: علی گڑھ مسلم یونیورسٹی میں ہولی کھیلنے سے کوئی روکے گا تو اس کو اوپر پہنچا دیں گے:ایم پی ستیش گوتم

اے ایم یو پراکٹر محمد وسیم علی نے کہاکہ روایتی طور پر تمام تہوار بشمول عید، ہولی اور دیوالی سبھی ہاسٹلوں میں منائے جاتے ہیں۔ کسی خاص گروپ کے لیے خصوصی تقریب منعقد کرنے کی کوئی مثال نہیں ہے۔ اس وقت، ہم ایک نئی مثال قائم کرنا مناسب نہیں سمجھتے۔

اتر پردیش کی علی گڑھ مسلم یونیورسٹی (اے ایم یو) میں ہولی منانے کو لے کر ہنگامہ جاری ہے۔ کچھ طلباء نے اے ایم یو میں ہولی ملن پروگرام کی اجازت مانگی تھی جسے یونیورسٹی انتظامیہ نے مسترد کر دیا تھا۔ ادھر علی گڑھ سے بی جے پی کے رکن پارلیمنٹ ستیش گوتم نے اے ایم یو میں ہولی ملن منانے کے حوالے سے بیان دیا ہے۔

علی گڑھ سے بی جے پی کے رکن پارلیمنٹ ستیش گوتم نے کہا کہ علی گڑھ مسلم یونیورسٹی میں ہولی بہت دھوم دھام سے منائی جائے گی۔ اس کے لیے کسی کی اجازت کی ضرورت نہیں۔ اگر کوئی ہندو طلبہ کو ہولی منانے سے روکتا ہے یا ہراساں کرتا ہے تو میں اس کے لیے حاضر ہوں۔ میرے دور میں اے ایم یو میں ہولی بہت دھوم دھام سے منائی جائے گی اگر کوئی طلباء سے مار پیٹ کرے گا تو اس کو اوپر پہنچا دیا جائے گا۔

اس سے قبل کرنی سینا کے ارکان نے اے ایم یو حکام پر کیمپس میں ‘ہندو طلبہ کو ہولی ملن کی تقریبات منعقد کرنے کی اجازت دینے سے انکار’ کرنے کا الزام لگایا تھا۔ کرنی سینا کے ارکان نے یونیورسٹی سے ہولی ملن تقریب کے لیے بدھ کو درخواست کی تھی۔ کرنی سینا کے ممبران نے ضلع کلکٹریٹ تک مارچ کیا اور وزیر اعظم نریندر مودی کے نام ایک میمورنڈم پیش کیاگیا۔ ایڈیشنل ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ (اے ڈی ایم) نگر امیت کمار کو پیش کردہ میمورنڈم میں اس معاملے میں وزیر اعظم سے مداخلت کی درخواست کی گئی۔

اس معاملے کے بارے میں اے ایم یو پراکٹر محمد وسیم علی نے کہاکہ روایتی طور پر تمام تہوار بشمول عید، ہولی اور دیوالی سبھی ہاسٹلوں میں منائے جاتے ہیں۔ کسی خاص گروپ کے لیے خصوصی تقریب منعقد کرنے کی کوئی مثال نہیں ہے۔ اس وقت، ہم ایک نئی مثال قائم کرنا مناسب نہیں سمجھتے، کیونکہ اس سے کسی بھی بہانے سے اس طرح کی اجازتوں کا غلط استعمال ہو سکتا ہے۔

بھارت ایکسپریس۔



بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

Also Read