سپوٹرا اسمبلی حلقے کے دَیارام پورہ اور کرن پور ڈانگ علاقوں میں موسلا دھار بارش نے شدید تباہی مچائی ہے۔ تیز بارش کے پانی کے بہاؤ سے علاقے کی اہم رابطہ سڑک مکمل طور پر تباہ ہو گئی ہے۔ سڑکوں پر تجاوزات کے باعث بھی درجنوں گاؤں کا رابطہ منقطع ہو گیا ہے۔صورتحال یہ ہے کہ ہنگامی حالات میں ایمبولینس اور دیگر گاڑیاں گاؤں تک نہیں پہنچ پا رہیں، جبکہ اسکولی بسوں کی آمدورفت بھی متاثر ہوئی ہے۔ اس کے نتیجے میں دیہاتیوں کو مریضوں کو چارپائی پر لٹا کر پیدل ہی مرکزی سڑک یا قریبی اسپتال تک لے جانا پڑ رہا ہے۔
پریشان دیہاتیوں نے علاقائی رکن اسمبلی ہنس راج مینا سے راستوں کی مرمت کرانے اور غیر قانونی تجاوزات ہٹانے کی اپیل کی ہے۔
چارپائی پر مریضوں کو اسپتال لے جانے کی مجبوری
دَیارام پورہ اور کرن پور ڈانگ علاقے میں راستوں کی حالت انتہائی خراب ہو چکی ہے۔ نہ اسکولی گاڑیاں گاؤں تک پہنچ پا رہی ہیں اور نہ ہی ہنگامی صورتحال میں 108 ایمبولینس یا دیگر گاڑیاں وہاں پہنچ سکتی ہیں۔مجبوری میں دیہاتی سنگین مریضوں اور حاملہ خواتین کو چارپائی پر لٹا کر پیدل ہی مرکزی سڑک یا قریبی اسپتال تک لے جانے پر مجبور ہیں۔ اس دوران کسی ناخوشگوار واقعے کا خطرہ بھی مسلسل برقرار رہتا ہے۔
2 موٹر سائیکل سوار نوجوانوں کے بہنے کی بھی اطلاع
کرن پور علاقے میں طغیانی والے نالے اور تیز پانی کے بہاؤ کے درمیان 2 موٹر سائیکل سوار نوجوانوں کے بہہ جانے کی بھی اطلاع سامنے آئی ہے۔ مقامی دیہاتیوں نے اپنی جان خطرے میں ڈال کر بروقت انہیں محفوظ نکالنے کی کوشش کی۔علاقے میں مسلسل بارش کے باعث دریا اور نالے ابل رہے ہیں اور صورتحال دن بہ دن مزید خراب ہوتی جا رہی ہے۔
ناراض دیہاتیوں نے رکن اسمبلی سے مداخلت کی اپیل کی
اس سنگین صورتحال سے پریشان اور ناراض دیہاتیوں نے علاقائی رکن اسمبلی ہنس راج مینا سے فوری مداخلت کا مطالبہ کیا ہے۔دیہاتیوں نے مطالبہ کیا ہے کہ تباہ شدہ راستوں کی جلد از جلد مرمت کرائی جائے، پکی سڑک تعمیر کی جائے اور راستے میں رکاوٹ بننے والی غیر قانونی تجاوزات فوری طور پر ہٹائی جائیں، تاکہ ہنگامی خدمات کی آمدورفت بحال ہو سکے۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔
