Bharat Express DD Free Dish

Sanjay Raut on Ram Mandir Trust Scam Case: سنجے راوت نے رام مندر ٹرسٹ میں 2000 کروڑ روپے کے گھپلے کا لگایا الزام، مسنگ لنک پروجیکٹ پر مہاراشٹر حکومت پر کیا زبانی حملہ

سنجے راؤت نے کہا کہ رام مندر ٹرسٹ میں بدعنوانی کے الزامات سامنے آنے کے بعد اگرچہ استعفے دیے گئے ہیں، لیکن اس سے سوالات ختم نہیں ہو جاتے۔ انہوں نے پوچھا کہ رام مندر میں ہوئی لوٹ مار کا جواب کون دے گا؟

ممبئی: شیو سینا (ادھو ٹھاکرے دھڑا) کے راجیہ سبھا رکن سنجے راؤت نے منگل کے روز رام مندر ٹرسٹ اور مہاراشٹر حکومت پر سنگین الزامات عائد کرتے ہوئے رام مندر ٹرسٹ میں مبینہ مالی بے ضابطگیوں کی قانونی جانچ کا مطالبہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ صرف استعفوں سے معاملہ ختم نہیں ہوگا۔ اس کے ساتھ ہی انہوں نے مہاراشٹر کی مسنگ لنک پروجیکٹ کو لے کر بھی ریاستی حکومت پر بدعنوانی اور ناقص تعمیر کا الزام لگایا۔

رام مندر ٹرسٹ کے خلاف ایف آئی آر کا مطالبہ

سنجے راؤت نے کہا کہ رام مندر ٹرسٹ میں بدعنوانی کے الزامات سامنے آنے کے بعد اگرچہ استعفے دیے گئے ہیں، لیکن اس سے سوالات ختم نہیں ہو جاتے۔ انہوں نے پوچھا کہ رام مندر میں ہوئی لوٹ مار کا جواب کون دے گا؟ انہوں نے کہا کہ اگر 50 روپے کی چوری ہوتی ہے تو ملزم کو فوراً گرفتار کر لیا جاتا ہے، اور اگر 10 لاکھ روپے کا معاملہ ہو تو انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ (ای ڈی) کارروائی کرتا ہے، لیکن یہاں بھارتیہ جنتا پارٹی سے وابستہ افراد اور بی جے پی کی تشکیل کردہ رام مندر ٹرسٹ پر 550 کروڑ روپے کے نقد گھوٹالے کے الزامات عائد کیے گئے ہیں، جن پر گزشتہ ایک سال سے بحث جاری ہے۔

راؤت نے دعویٰ کیا کہ بعد میں بھگوان رام اور ماتا سیتا کے زیورات کی چوری کے الزامات بھی سامنے آئے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ رام مندر ٹرسٹ میں تقریباً 2 ہزار کروڑ روپے کا گھوٹالہ ہوا ہے۔ ان کے مطابق صرف استعفیٰ کافی نہیں، بلکہ پورے رام مندر ٹرسٹ کے خلاف ایف آئی آر درج ہونی چاہیے اور ٹرسٹ کو قانون کے دائرے میں لا کر جوابدہ بنایا جانا چاہیے۔ انہوں نے اسے عوام کے اعتماد کے ساتھ غداری قرار دیا۔

مسنگ لنک پروجیکٹ پر بھی حکومت کو گھیرا

سنجے راؤت نے مہاراشٹر کی مسنگ لنک پروجیکٹ کو لے کر بھی ریاستی حکومت کو نشانہ بنایا۔ انہوں نے کہا کہ اس منصوبے کو نقصان پہنچنے سے 6,700 کروڑ روپے ضائع ہو گئے۔ ان کے مطابق یہ ملک کے سب سے بڑے بدعنوانی کے معاملات میں سے ایک ہے۔ انہوں نے کہا کہ وزیر اعلیٰ دیویندر فڑنویس، جو خود کو ’انفرا مین‘ کہتے ہیں، اور نائب وزیر اعلیٰ کو اس منصوبے کی ذمہ داری قبول کرنی چاہیے۔

سیمنٹ اور مٹی سے زیادہ بھری گئی بدعنوانی 

راؤت نے الزام لگایا کہ جس کمپنی کو اس منصوبے کا ٹھیکہ دیا گیا، اسے کمیشن، کک بیک اور سیاسی فنڈنگ کا فائدہ پہنچایا گیا۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ حکومت اسمبلی میں واضح کرے کہ آخر یہ منصوبہ ناکام کیوں ہوا۔ ان کے مطابق اس کی ذمہ داری صرف بارش پر ڈالنا درست نہیں، کیونکہ ملک میں سو سو سال پرانے پل، بند اور دیگر تعمیرات آج بھی محفوظ ہیں، لیکن اگر مسنگ لنک پروجیکٹ صرف چھ ماہ میں ہی خراب ہو گیا تو اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ تعمیراتی معیار سے زیادہ بدعنوانی کو ترجیح دی گئی۔ انہوں نے طنزیہ انداز میں کہا، ’’اس منصوبے میں سیمنٹ اور مٹی کم، بدعنوانی زیادہ بھری گئی ہے۔‘‘

بھارت ایکسپریس۔



بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

Also Read