Bharat Express DD Free Dish

Ram Mandir Trust

ایئر مارشل جتیندر مشرا کا فوجی کیریئر اسٹریٹجک اور حساس ذمہ داریوں سے وابستہ رہا ہے۔ وہ ہندوستانی فضائیہ کی مغربی فضائی کمان کی قیادت کر چکے ہیں۔ آپریشن سندور کے دوران بھی مغربی کمان کی اہم ذمہ داری ان کے پاس تھی۔

کھڑگے نے وزیراعظم کے لہجے پر اعتراض کیا اور کہا کہ حکومت کے سربراہ کو سیاسی طعنوں کے بجائے بنیادی مسائل کے حل پر توجہ دینی چاہیے۔ انہوں نے کہا ’’وزیراعظم نریندر مودی کا واحد کام دوسروں پر طنز کرنا اور طنزیہ تبصرے کرنا رہ گیا ہے۔ پہلے عوام کے سامنے اپنی ساکھ ثابت کریں۔ آپ کا وہ ’56 انچ کا سینہ‘ کہاں گیا؟ آج آپ دوسروں پر تنقید کرتے ہیں، لیکن میں پوچھنا چاہتا ہوں کہ آپ نے ملک کے لیے آخر کیا کیا ہے؟‘‘

اشتہار میں کہا گیا ہے کہ امیدوار کا کسی تسلیم شدہ یونیورسٹی سے کم از کم گریجویٹ ہونا ضروری ہے۔ عمر کی حد 50 سے 70 سال مقرر کی گئی ہے جبکہ کسی بڑے سرکاری ادارے، عوامی تنظیم، کمپنی یا محکمے میں کم از کم 20 سال کا انتظامی تجربہ بھی لازمی ہوگا۔ ٹرسٹ کے مطابق امیدوار کا فعال طور پر ہندو مذہب پر عمل کرنا لازمی ہوگا۔ اس کے علاوہ ہندی اور انگریزی دونوں زبانوں پر اچھا عملی عبور بھی ضروری قرار دیا گیا ہے۔

سپریم کورٹ نے ایودھیا کے رام مندر چڑھاوا چوری معاملے سے متعلق ٹرسٹ کو نوٹس جاری کیا ہے۔ اس کے ساتھ ہی ایس آئی ٹی کی اسٹیٹس رپورٹ بھی مانگی ہے۔ عدالت عظمیٰ نے فی الحال صرف ٹرسٹ کو نوٹس جاری کیا جا رہا ہے۔ مرکز اور یوپی حکومت کو الگ سے نوٹس جاری نہیں کیا۔

سنجے راؤت نے کہا کہ رام مندر ٹرسٹ میں بدعنوانی کے الزامات سامنے آنے کے بعد اگرچہ استعفے دیے گئے ہیں، لیکن اس سے سوالات ختم نہیں ہو جاتے۔ انہوں نے پوچھا کہ رام مندر میں ہوئی لوٹ مار کا جواب کون دے گا؟

ٹرسٹ  کی میٹنگ میں یہ بات بھی رکھی گئی کہ ٹرسٹ میں جتنی بھی نئی تقرریاں ہوئیں، وہ چمپت رائے اور انل مشرا کے ذریعہ ہی کی گئی تھی۔ میٹنگ میں شامل سوامی پرمانند گری نے کہا کہ مذہب (دھرم) کی حفاظت کرنا ہمارا پہلا فریضہ ہے۔ جب لوگ عقیدت (آستھا) سے جڑتے ہیں توچھوٹی چھوٹی باتوں کا خیال رکھنا چاہئے۔ چڑھاوا چوری کے جو الزام لگے ہیں، اس سے پورا ملک مایوس ہے اور اس سے بدنامی بھی ہو رہی ہے۔

رام مندر ٹرسٹ کی یہ اہم میٹنگ مہنت نرتیہ گوپال داس کی صدارت میں منعقد ہوئی۔ میٹنگ میں چمپت رائے اورانل مشرا کے استعفیٰ پرفیصلہ لیا جانا سب سے اہم ہے۔ میٹنگ کے آغازمیں گووند دیوگری نے میٹنگ کا ایجنڈا رکھا۔ میٹنگ میں چمپت رائے اورانل مشرا موجود نہیں تھے۔ ٹرسٹ کے اراکین نے شرط رکھی تھی کہ میٹنگ تبھی ہوگی، جب یہ دونوں میٹنگ میں شامل نہیں ہوں گے۔

رام جنم بھومی تیرتھ چھیترٹرسٹ کے نئے مہامنتری کے لئے سوامی واسودیوانند سرسوتی کا نام سب سے مضبوط دعویدار کے طورپرابھر کرسامنے آیا ہے۔ مانا جا رہا ہے کہ وہ چمپت رائے کا مقام لے سکتے ہیں۔ وشوہندو پریشد اورایودھیا کے دیگرسنت مہاتما بھی انہیں ہی اس عہدے کے لئے سب سے مناسب اورموزوں تسلیم کررہے ہیں۔

رام مندر میں چڑھاوا چوری معاملے سے متعلق اٹھ رہے سوالوں کے درمیان وشو ہندو پریشد نے چمپت رائے سے خود کو الگ کرلیا ہے۔ وی ایچ پی لیڈر آلوک کمار نے کہا کہ جو ہوا وہ بہت ہی شرمناک اور توہین آمیز ہے۔

رام مندر ٹرسٹ کے جنرل سکریٹری چمپت رائے اور ٹرسٹ کے رکن انل مشرا نے استعفیٰ دے دیا، لیکن اس پر ابھی فیصلہ نہیں ہوا ہے۔ ٹرسٹ نے کہا کہ آئندہ میٹنگ میں فیصلہ ہوگا۔ خط  میں کہا گیا ہے کہ رام مندر(ایودھیا) میں گزشتہ کچھ دنوں سے پیش آنے والے واقعات سے ہم بے حد صدمے میں ہیں اورغمزدہ ہیں۔