راشٹریہ سویم سیوک سنگھ (آر ایس ایس) کے اکھل بھارتیہ پرچار پرمکھ سنیل امبیکر کی جانب سے یونیورسٹی گرانٹس کمیشن (یو جی سی) کے مساوات ضوابط 2026 کو ’غیر متوازن‘ قرار دینا محض پالیسی سے متعلق ایک اعتراض نہیں ہے۔ یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے، جب حکمراں بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی)، اس کی حکومت اور اس کے سب سے بڑے نظریاتی معاون سنگھ کے درمیان فاصلہ پہلی بار اس قدر کھل کر دکھائی دے رہا ہے۔
امبیکر نے اندور میں سنگھ کی تین روزہ آل انڈیا ایگزیکٹیو میٹنگ سے قبل واضح طور پر کہا کہ متعلقہ سرکلر غیر متوازن تھا، اس سے وابستہ خدشات متعلقہ حکام تک پہنچا دیے گئے ہیں، حکومت اور یو جی سی نے ان پر توجہ دی ہے اور معاملہ عدالت میں زیر سماعت ہے۔ ان کا واضح پیغام تھا کہ آئندہ کوئی بھی قدم ایسا ہونا چاہیے، جس سے سماج متحد رہے۔
یہ بیان اس لیے اہم ہے کہ سنگھ عام طور پر حکومت کے ساتھ قریبی تال میل کی تصویر پیش کرتا ہے۔ ایسے میں جب وہ کسی پالیسی کو براہ راست ’غیر متوازن‘ قرار دیتا ہے تو یہ محض الفاظ کا انتخاب نہیں ہوتا، بلکہ ایک سیاسی اشارہ بھی ہوتا ہے۔ سنگھ کا کہنا ہے کہ حکمرانی کی رفتار اور پالیسی کے عزائم کے باعث سماجی توازن کو نقصان نہیں پہنچایا جا سکتا۔ یو جی سی کے ضوابط پر سپریم کورٹ کی روک اور حکومت کی جانب سے جائزے کے عمل نے بھی اس معاملے کی اہمیت بڑھا دی ہے، کیونکہ یہ تنازع ابھی ختم نہیں ہوا ہے۔
یو جی سی نے جنوری میں اعلیٰ تعلیمی اداروں میں مساوات کو فروغ دینے کے مقصد سے ضوابط 2026 جاری کیے تھے۔ ان کے تحت تعلیمی اداروں میں ذات پات کی بنیاد پر امتیاز روکنے کے لیے ایکوئٹی کمیٹی تشکیل دینا لازمی قرار دیا گیا تھا۔ اس کمیٹی میں دیگر پسماندہ طبقات (او بی سی)، درج فہرست ذاتوں (ایس سی)، درج فہرست قبائل (ایس ٹی)، معذور افراد اور خواتین کے نمائندوں کو شامل کرنے کی تجویز تھی۔
ان ضوابط کی مخالفت کی بنیادی وجہ یہ بتائی جا رہی ہے کہ ان میں جنرل زمرے کے طلبہ کے مفادات کے تحفظ کے لیے واضح انتظام نہیں ہے اور جھوٹی شکایات کے خلاف کسی واضح تادیبی یا سزا کے التزام کا بھی فقدان ہے۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ اس سے تعلیمی اداروں میں بداعتمادی اور تصادم کا ماحول پیدا ہو سکتا ہے۔ یہ بحث ذات پات، ریزرویشن، سماجی انصاف اور اعلیٰ تعلیم کی خودمختاری، ان چاروں حساس موضوعات کو ایک ساتھ چھوتی ہے۔ اسی لیے اسے محض تکنیکی اصلاحات کا معاملہ سمجھ کر نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔
سنگھ کی تشویش بھی اسی نکتے سے جڑی ہوئی ہے۔ امبیکر نے کہا کہ ہندوستانی سماج اتنا کمزور نہیں ہے کہ کسی ایک سرکلر سے ہل جائے، لیکن انہوں نے یہ بھی واضح کیا کہ مستقبل کا کوئی بھی فیصلہ مکمل طور پر متوازن ہونا چاہیے۔ اس بیان میں دو پیغام پوشیدہ ہیں۔ ایک طرف سماجی اتحاد کی اپیل ہے تو دوسری طرف حکومت کو واضح تنبیہ بھی کہ پالیسی بناتے وقت سماجی مساوات اور مختلف طبقات کے مفادات کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔
یو جی سی تنازع کے سیاسی اثرات اتر پردیش میں دکھائی دے سکتے ہیں
یو جی سی تنازع کا سب سے بڑا سیاسی اثر اتر پردیش میں دکھائی دے سکتا ہے۔ یہ ریاست نہ صرف ملک کی سب سے بڑی سیاسی آبادی رکھتی ہے، بلکہ یوگی آدتیہ ناتھ کی شبیہ، سنگھ کا اثر و رسوخ اور بی جے پی کا انتخابی حساب کتاب بھی یہاں سب سے زیادہ ایک دوسرے سے جڑا ہوا ہے۔ ایسے میں کوئی بھی پالیسی اگر سماج کے کسی بڑے طبقے کو نظر انداز کیے جانے یا اس کے مفادات کو نقصان پہنچنے کا احساس دلائے تو اس کے اثرات صرف تعلیمی شعبے تک محدود نہیں رہتے۔
سنگھ کے سامنے کئی سوالات کھڑے ہیں۔ یوگی آدتیہ ناتھ کو اب تک مستقل ڈی جی پی کیوں نہیں ملا؟ جب وہ اوینیش اوستھی کو چیف سکریٹری بنانا چاہتے تھے تو درگا شنکر مشرا کو ریٹائرمنٹ کے آخری دن توسیع دے کر اتر پردیش کا چیف سکریٹری کیوں بنایا گیا؟ یوگی آدتیہ ناتھ اور پنکج چودھری دونوں گورکھپور سے تعلق رکھتے ہیں، لیکن دونوں کے درمیان دوری کی باتیں طویل عرصے سے سامنے آتی رہی ہیں۔ ایسے میں پنکج چودھری کو ریاستی صدر بنانے کے فیصلے پر بھی سوال اٹھ رہا ہے کہ آخر تنظیم اور حکومت کے درمیان توازن کس کی شرائط پر قائم کیا گیا؟
یہ سوالات اس لیے اہم ہیں کہ ان کا تعلق محض انفرادی فیصلوں سے نہیں ہے۔ یہ ظاہر کرتے ہیں کہ مرکزی اقتدار، تنظیم اور ریاستی حکومت کے درمیان طاقت کی تقسیم کتنی آسان یا مشکل ہے۔ اگر وزیر اعلیٰ کی انتظامی ترجیحات، تنظیمی تقرریوں اور سیاسی ترجیحات میں بار بار اختلاف دکھائی دے تو اس کا اثر کارکنوں اور حامیوں تک بھی پہنچتا ہے۔
یوگی آدتیہ ناتھ کے حامیوں کو تشویش ہے کہ ان کی قیادت کے معاملے میں مرکز کے ساتھ کوئی فاصلہ پیدا ہو رہا ہے۔ اس تناظر میں ہریش دویدی کی مثال قابل ذکر ہے۔ وہ یوگی حکومت کی بلڈوزر کارروائی کے خلاف بستی میں دھرنے پر بیٹھے تھے، لیکن بعد میں انہیں اتر پردیش میں برہمن چہرے کے طور پر سیاسی ذمہ داری سونپی گئی۔ ناقدین سوال کرتے ہیں کہ جب یو پی بی جے پی میں پہلے ہی کئی برہمن چہرے موجود ہیں تو ایسا فیصلہ کیوں کیا گیا؟
سیاسی پیغام کے اعتبار سے یہ سوال اہمیت رکھتا ہے۔ اگر کسی رہنما کو اس کی سابقہ مخالفت کے باوجود بڑی ذمہ داری دی جاتی ہے تو بعض لوگ اسے تنظیم اور حکومت کے درمیان توازن قائم کرنے کی کوشش سمجھ سکتے ہیں۔ لیکن یوگی کے سخت حامی اسے اپنے رہنما کی سیاسی ترجیحات سے بے اعتنائی کے طور پر بھی دیکھ سکتے ہیں۔ سیاست میں علامتیں بھی اتنی ہی اہم ہوتی ہیں جتنی پالیسیاں۔
اسی طرح دھن راج ناتھوانی کو سماج وادی پارٹی کی جانب سے راجیہ سبھا بھیجنے اور رام گوپال یادو کو بی جے پی کے ایک بڑے رہنما کی جانب سے اس بارے میں مشورہ دیے جانے کی باتوں نے بھی سیاسی اشاروں کے حوالے سے بحث کو جنم دیا۔ ایسے معاملات میں حقیقت کیا ہے، یہ ایک الگ بحث ہے، لیکن ان سے پیدا ہونے والی قیاس آرائیاں ظاہر کرتی ہیں کہ لوگ اقتدار اور تنظیم کے تعلقات پر کتنی گہری نظر رکھے ہوئے ہیں۔
احتجاج اور تحریکوں پر بھی سنگھ کا موقف اہم
امبیکر کا دوسرا اہم بیان احتجاجی تحریکوں کے حوالے سے تھا۔ انہوں نے کہا کہ شہریوں کو قومی اہمیت کے معاملات پر سوال اٹھانے کا مکمل حق حاصل ہے، لیکن احتجاجی تحریکوں کو ملک مخالف عناصر کے استعمال میں نہیں آنے دینا چاہیے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ سنگھ سے یہ توقع نہیں کی جانی چاہیے کہ وہ ہر تحریک کی حمایت یا مخالفت میں کھڑا ہو۔
یہ تبصرہ نوجوانوں اور جنریشن زی کی بڑھتی ہوئی تحریکوں کے تناظر میں سامنے آیا ہے۔ سنگھ چاہتا ہے کہ جمہوری احتجاج کا حق برقرار رہے، لیکن اس کے ساتھ یہ بھی ضروری ہے کہ احتجاج کی سمت قومی مفاد کے مطابق ہو۔ اصولی طور پر یہ توازن درست دکھائی دیتا ہے، لیکن عملی طور پر اس کا امتحان اس وقت ہوتا ہے جب حکومت کی پالیسی ہی تنازع کا سبب بن جائے۔ یو جی سی کے معاملے میں یہی صورت حال سامنے آئی ہے۔ احتجاج کرنے والے لوگ حکومت کے خلاف نہیں، بلکہ حکومت کی پالیسی کے خلاف آواز اٹھا رہے ہیں۔
سنگھ کا یہ موقف اقتدار کے لیے ایک اہم اشارہ ہے۔ انتخابی کامیابی اور پارلیمانی اکثریت پالیسی بنانے کی طاقت ضرور دیتی ہے، لیکن حکمرانی کی قانونی و اخلاقی ساکھ سماجی اتفاق رائے سے قائم ہوتی ہے۔ کوئی بھی قانون یا ضابطہ اسی وقت پائیدار ہو سکتا ہے، جب وہ انصاف، وضاحت اور سماجی اعتماد کو فروغ دے۔ اگر پالیسی سازی کے عمل میں مکالمے کی جگہ حکم اور اتفاق رائے کی جگہ عجلت لے لے تو اس کی سیاسی قیمت بھی کم نہیں ہوتی۔
حکومت کے لیے سماجی اعتماد بحال کرنا ضروری
مودی حکومت کو یہ سمجھنا ہوگا کہ سنگھ کی مخالفت اپوزیشن کی سیاست نہیں ہے۔ یہ اس سماجی بنیاد کی جانب سے ایک انتباہ ہے، جس پر بی جے پی کا اقتدار قائم ہے۔ یو جی سی جیسے معاملے میں حکومت کو نہ صرف قانونی راستہ اختیار کرنا ہوگا بلکہ سماجی اعتماد بحال کرنے کے لیے سیاسی سطح پر بھی اقدامات کرنے ہوں گے۔ امبیکر کا یہ کہنا کہ آئندہ فیصلہ ’متوازن‘ ہونا چاہیے، اسی ضرورت کی نشاندہی کرتا ہے۔
حکومت کے لیے بہتر ہوگا کہ وہ یو جی سی ضوابط کے جائزے کو محض قانونی رسمی کارروائی تک محدود نہ رکھے۔ طلبہ، اساتذہ، منتظمین، سماجی تنظیموں اور ماہرین تعلیم سمیت تمام متعلقہ فریقوں کے ساتھ کھلا مکالمہ کیا جائے۔ امتیاز کے خلاف تحفظ کے انتظامات ضروری ہیں، لیکن ان کے ساتھ جھوٹی شکایات سے بچاؤ، شفاف طریقہ کار اور تمام طبقات کی عزت و وقار کے تحفظ کو بھی اتنی ہی اہمیت دی جانی چاہیے۔
سنگھ نے اپنی حد واضح کر دی ہے۔ وہ اقتدار کی حمایت کرتا ہے، لیکن اس کا تابع دار نہیں بننا چاہتا۔ یوگی آدتیہ ناتھ کے تئیں اس کی وابستگی اور مودی-شاہ کی مرکزیت پر مبنی سیاست کے درمیان یہ کشیدگی آنے والے وقت میں مزید واضح ہو سکتی ہے۔ اسی لیے یو جی سی تنازع محض تعلیمی پالیسی کا معاملہ نہیں، بلکہ بی جے پی کے اندر اقتدار کے توازن کا بھی امتحان بن گیا ہے۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔



