مہاراشٹر میں ہفتے کے روز اس وقت سیاسی تنازع کھڑا ہو گیا جب نیشنلسٹ کانگریس پارٹی (شردچندر پوار گروپ) کے ایم ایل اے جتیندر اوہاد نے سناتن دھرم کو ’’بھارت کی تباہی‘‘ کی وجہ قرار دیا اور اس سناتن دھرم کے نظریے کو ’’بگڑا ہوا‘‘ (perverted) کہا۔ یہ بیان 2008 مالیگاؤں بم دھماکہ کیس میں بی جے پی لیڈر پرگیہ سنگھ ٹھاکر، لیفٹیننٹ کرنل پرساد پروہت اور دیگر پانچ افراد کی رہائی کے بعد سامنے آیا ہے۔
اے این آئی کی خبر کے مطابق جتیندر اوہادنے کہا کہ ’’سناتن دھرم نے بھارت کو برباد کیا۔ کبھی کوئی مذہب سناتن دھرم کے نام سے تھا ہی نہیں۔ ہم ہندو دھرم کے ماننے والے ہیں۔ یہ سناتن دھرم ہی تھا جس نے ہمارے چھترپتی شیواجی مہاراج کی تاجپوشی کو روکنے کی کوشش کی۔ اسی سناتن دھرم نے چھترپتی سمبھاجی مہاراج کو بدنام کیا۔ اسی سناتن دھرم کے پیروکاروں نے ذات پات کے خلاف سرگرم کارکن جیوتی با پھولے کو قتل کرنے کی کوشش کی۔‘‘
انھوں نے مزید کہا ’’انھوں نے ساوتری بائی پھولے پر گوبر اور گندگی پھینکی۔ یہی سناتن دھرم شاہو مہاراج کے قتل کی سازش میں ملوث تھا۔ اسی نے ڈاکٹر بی آر امبیڈکر کو پانی پینے یا اسکول جانے کی بھی اجازت نہیں دی۔‘‘ جتیندر اوہاد نے کہا کہ ڈاکٹر امبیڈکر نے ہی سناتن دھرم کے خلاف آواز بلند کی، منوسمرتی کو نذر آتش کیا اور اس کے جابرانہ رسم و رواج کو رد کیا۔۔۔ہمیں ہی کھل کر کہنا چاہیے کہ سناتن دھرم اور اس کی سناتنی سوچ بگڑی ہوئی ہے۔‘‘
بی جے پی سخت ردعمل کا کیا اظہار
دریں اثنا بی جے پی لیڈر سمبت پاترا نے اتوار کو جتیندر اوہاد کے بیان پر سخت ردعمل ظاہر کیا۔ انھوں نے کہا کہ ’’انھوں (جتیندر اوہاد) نے کہا کہ سناتن دھرم نے بھارت کو برباد کیا اور ایسا کوئی مذہب کبھی تھا ہی نہیں۔ آپ نے سچ کو گالی دی ہے، [ہندو دیوتا] شیو کے خلاف بات کی ہے اور بھارت کی خوبصورتی کی توہین کی ہے ۔‘‘ سمبت پاترا نے سوال اٹھایا کہ ’’میں آج شرد پوار جی اور ان کی بیٹی سپریا سولے سے، جو رکن پارلیمان بھی ہیں، یہ پوچھنا چاہتا ہوں: کیا یہ آپ کی پارٹی کا سرکاری مؤقف ہے یا صرف جتیندر اوہاد کی ذاتی رائے؟‘‘
بھارت ایکسپریس اردو
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

