نئی دہلی : سنبھل تشدد معاملے کے ملزم ملا افروز کی قومی سلامتی قانون (این ایس اے) کے تحت حراست کو سپریم کورٹ نے منسوخ کر دیا ہے۔ عدالت نے غیر قانونی حراست کے لیے اتر پردیش حکومت پر 10 لاکھ روپے کا جرمانہ بھی عائد کیا ہے۔
پولیس حراست میں دیے گئے مبینہ اعتراف کو بنایا گیا تھا بنیاد
سپریم کورٹ نے کہا کہ ملا افروز پر این ایس اے لگانے کی بنیاد پولیس حراست میں دیا گیا اعترافی بیان تھا۔ اسی کی بنیاد پر یہ خدشہ ظاہر کیا گیا تھا کہ وہ دوبارہ تشدد کر سکتا ہے یا عوامی نظم و نسق کو متاثر کر سکتا ہے۔ عدالت نے واضح کیا کہ پولیس حراست میں دیے گئے مبینہ اعترافی بیان کی بنیاد پر کسی شخص کو احتیاطی حراست میں رکھنے کا حکم نہیں دیا جا سکتا۔جسٹس دیپانکر دتہ اور جسٹس شیل ناگو کی بنچ نے ملا افروز کی حراست منسوخ کرتے ہوئے کہا کہ عدالت سے باہر دیا گیا اعترافی بیان کسی شخص کو احتیاطی حراست میں لینے کی بنیاد نہیں بن سکتا۔ بنچ نے کہا کہ حراست کا حکم دینے والے افسران کو معاملے کے تمام حالات و واقعات پر غور کرنا چاہیے۔
گرفتاری میں 54 دن کی تاخیر پر بھی سوال
سپریم کورٹ نے ملا افروز کی گرفتاری میں 54 دن کی تاخیر پر بھی سوال اٹھایا۔ بنچ نے کہا کہ جب واقعے کے پہلے ہی دن سے سی سی ٹی وی فوٹیج دستیاب تھی تو ملزم کو گرفتار کرنے میں اتنی تاخیر کیوں ہوئی؟عدالت نے حراست میں لینے والے افسران کی جانب سے حالات پر مناسب غور نہ کرنے اور اپنے اختیارات کے غلط استعمال کو بھی معاملے کا اہم پہلو قرار دیا۔
یوپی حکومت پر 10 لاکھ روپے جرمانہ
سپریم کورٹ نے غیر قانونی احتیاطی حراست کا حکم جاری کرنے پر اتر پردیش حکومت پر 10 لاکھ روپے کا جرمانہ عائد کیا ہے۔ عدالت نے کہا کہ متعلقہ حکام نے معاملے کے حالات پر مناسب غور نہیں کیا اور اپنے اختیارات کا درست استعمال نہیں کیا۔
کیا ہے پورا معاملہ؟
سنبھل تشدد معاملے میں ملا افروز ملزم ہیں۔ سنبھل میں شاہی جامع مسجد کے عدالت کے حکم پر سروے کے بعد تشدد بھڑکا تھا۔ اس تشدد میں 4 افراد کی موت ہوئی تھی۔واقعے کے تقریباً 54 دن بعد ملا افروز کو گرفتار کیا گیا تھا۔ ان کی گرفتاری پولیس حراست میں دیے گئے اعترافی بیان کی بنیاد پر کی گئی تھی۔ تاہم بعد میں الہ آباد ہائی کورٹ نے انہیں ضمانت دے دی تھی۔13 اکتوبر 2025 کو ملا افروز کے خلاف قومی سلامتی قانون (این ایس اے) کے تحت حراستی حکم جاری کیا گیا تھا۔ الہ آباد ہائی کورٹ نے اس حکم کو برقرار رکھا، جس کے بعد ملا افروز نے سپریم کورٹ سے رجوع کیا تھا۔ اب سپریم کورٹ نے ان کی این ایس اے کے تحت حراست کو منسوخ کر دیا ہے۔
بھارت ایکسپریس اردو
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

