Bharat Express DD Free Dish

Sambhal Jama Masjid President Zafar Ali arrest: سنبھل جامع مسجد کے صدرظفرعلی کی کیوں ہوئی گرفتاری؟ پولیس نے اس طرح بنایا ملزم

سنبھل میں ہوئے تشدد کے سلسلہ میں جامع مسجد کے صدرظفرعلی کو پولیس نے گرفتارکیا ہے۔ ان پر24 نومبرکوہوئے سروے کے دوران بھیڑکو مشتعل کرنے کا الزام ہے، جس میں چارلوگوں کی موت ہوگئی تھی۔ پولیس نے 80 سے زیادہ لوگوں کوگرفتار کیا ہے اور 6 چارج شیٹ داخل کی ہے۔

سنبھل شاہی جامع مسجد کے صدر ایڈوکیٹ ظفر علی کو پولیس نے گرفتار کرلیا ہے۔

سنبھل تشدد معاملے میں اب تک سب سے بڑی گرفتاری کی گئی ہے۔ شاہی جامع مسجد کے صدرایڈوکیٹ ظفرعلی کوتشدد بھڑکانے کے الزام میں سنبھل پولیس نے گرفتارکرلیا ہے۔ ظفرعلی پرالزام ہے کہ جس دن 24 نومبرکوجامع مسجد میں سروے کیا جا رہا تھا، تبھی انہوں نے بھیڑکومشتعل کیا۔ انہوں نے لوگوں سے کہا کہ پولیس نے فائرنگ کی ہے، جس کے بعد وہاں موجود بھیڑمشتعل ہوگئی۔ اس تشدد میں 4 افراد کی موت ہوگئی تھی۔

پولیس نے گرفتارکرکے ظفرعلی کوچندوسی کورٹ میں پیش کیا۔ عدالت میں پیشی کے دوران ظفرعلی تشدد بھڑکانے سے انکارکیا۔ اس کے بعد عدالت نے انہیں دودنوں کی عدالتی حراست میں جیل بھیجنے کا حکم دیا۔ فی الحال ظفرعلی مرادآباد کی جیل میں بند ہیں۔

گھرسے 100 میٹردورہے مسجد

اس سے پہلے پولیس نے ظفرعلی کواتوارکی صبح 11 بجے گھرسے پوچھ گچھ کے لئے تھانے لے گئی۔ تقریباً 4 گھنٹے پولیس نے ان سے کوتوالی میں پوچھ گچھ کی۔ پوچھ گچھ کے بعد ظفرعلی کوگرفتارکرلیا گیا۔ ظفرعلی کا گھرمسجد سے صرف 100 میٹردور ہے۔ اس لئے کشیدگی کو دیکھتے ہوئے علاقے میں دو سوسے زیادہ جوان تعینات کئے گئے تھے۔ پانچ تھانوں کی پولیس جامع مسجد علاقے میں تعینات ہے۔ گرفتاری کے بعد ظفرعلی کوریپیڈ ری ایکشن فورس کے تقریباً 50 جوانوں اورپولیس والوں کی سیکورٹی میں پولیس کی گاڑی میں بٹھایا گیا، جس وقت ظفرعلی کوچندوسی کے اے ڈی جے کورٹ لے جایا جا رہا تھا، سڑک کے دونوں طرف آراے ایف کے جوان مستعد رہے۔ ان کے علاوہ پولیس کے کئی سینئرافسران بھی کسی بھی صورتحال سے نمٹنے کے لئے راستے میں اورعدالت میں تعینات تھے۔

80 لوگوں کو کیا جاچکا ہے گرفتار

سنبھل کوتوالی کے انچارج سپرنٹنڈنٹ دیپک راٹھی کی طرف سے درج کرائے گئے ایف آئی آرمیں ظفرعلی پربی این ایس کی دفعہ، جھوٹے شواہد بنانے کی دفعہ 230 اور231 بھی ہیں۔ دفعہ 230 میں سزائے موت اوردفعہ 231 میں عمرقید تک کی سزا ہے۔  اس سے پہلے بھی 23 مارچ کو ظفرعلی کوحراست میں لیا گیا تھا، لیکن 2 گھنٹے کی پوچھ گچھ کے بعد انہیں چھوڑ دیا گیا تھا۔ ظفرعلی نے بھی الزام لگایا ہے کہ پولیس نہیں چاہتی ہے کہ ظفرعلی پیر کو عدالتی کمیشن کے سامنے لکھنؤ میں اپنے بیان درج کرائیں۔ اسی لئے ان کو گرفتارکیا گیا ہے۔ اس تشدد کے معاملے میں اب تک 80 افراد کو گرفتارکیا جاچکا ہے۔ 37 ملزم نامزد ہیں، 3750 سے زیادہ نامعلوم ہیں۔ ابھی تک 6 معاملے میں چارج شیٹ داخل کی جاچکی ہے۔



بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

Also Read