Bharat Express DD Free Dish

علی گڑھ جارہے سماجوادی پارٹی کے رکن پارلیمنٹ رام جی لال سمن نظربند، گھر کے باہر حامیوں کے ساتھ دھرنے پربیٹھ گئے

اترپردیش سے راجیہ سبھا رکن پارلیمنٹ رام جی لال سمن کو آگرہ میں پولیس نے آگرہ میں گھرمیں نظربند کردیا ہے، جس کے بعد وہ اب ہڑتال پربیٹھ گئے ہیں۔

سماجوادی پارٹی کے رکن پارلیمنٹ رام جی لال سمن

علی گڑھ میں دلت نوجوان سے مارپیٹ کے معاملے میں علی گڑھ جارہے سماجوادی پارٹی کے رکن پارلیمنٹ رام جی لال سمن کو پولیس نے گھر پر ہی روکا۔ پولیس نے سمن رام جی لال سمن کوسیکورٹی کا حوالہ دیتے ہوئے نوٹس بھی دیا ہے۔ میڈیا سے روبرو ہوئے سماجوادی پارٹی کے رکن پارلیمنٹ نے پولیس کے ذریعہ روکے جانے پررام جی لال سمن کا کہنا تھا کہ بی جے پی حکومت دلتوں پرظلم کررہی ہے، جو دلتوں پرمسلسل بڑھ رہے مظالم کو ظاہرکرتا ہے۔ ہماری سیکورٹی کے نام پرگھرمیں نظربند کیا جا رہا ہے جبکہ خرافاتی لوگ اورغنڈے کھلے عام گھوم رہے ہیں۔

جیسے ہی رام جی لال سمن علی گڑھ کے لئے گھرسے نکلے پولیس نے بیریکیٹنگ لگا کرروک دیا۔ اس دوران سماجوادی پارٹی کے رکن پارلیمنٹ رام جی لال سمن نے پولیس سے کہا کہ آپ سیکورٹی کے نام پرہمیں نظربند کررہے ہیں۔ آپ ہماری سیکورٹی کی فکرنہ کریں۔ بھگوان بھروسے چھوڑدیں۔

رام جی لال سمن نے کہا- ہمارے کارکنان تلوارے نکلے تو…

اس دواران لال جی سمن نے یہ بھی کہا کہ لوگ گھرتک آکرجان لیوا حملہ کررہے ہیں۔ کھلے عام  تلواریں لہرا رہے ہیں۔ ایسے لوگ کھلے عام گھوم رہے ہیں۔ اگرہمارے کارکنان تلوار لے کرنکلیں گے توہم جانتے ہیں کہ آپ ان کے ساتھ کیا کریں گے؟ کافی بحث ہونے کے بعد بھی جب پولیس نے نہیں نکلنے دیا تو لال جی سمن اپنے حامیوں کے ساتھ سڑک پرہی بیٹھ گئے۔

رام جی لال سمن نے واضح طورپرکہا کہ پولیس یا تو ہمیں علی گڑھ متاثرہ فیملی سے ملنے جانے دیا جائے یا متاثرہ فیملی کو ہم سے گھرپر لاکر ملائے تاکہ ہم قومی صدراکھلیش یادو سے متاثرہ فیملی کی ملاقات کراسکیں۔ فی الحال سماجوادی پارتی کے رکن پارلیمنٹ اپنے حامیوں کے ساتھ گھر کے باہر دھرنے پربیٹھے ہوئے ہیں۔

بھارت ایکسپریس اردو۔



بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

Also Read