اترپردیش میں جوہریونیورسٹی پرسیاسی ہنگامہ جاری ہے۔ سماجوادی پارٹی کا 28 رکنی وفد آج رام پورجائے گا۔ اس کی قیادت اپوزیشن لیڈرماتا پرساد پانڈے کریں گے۔ یہ وفد جوہریونیورسٹی کے انہدام کی کارروائی کوروکنے کا مطالبہ کرے گا۔ اس کے لئے دھرنا بھی دیا جائے گا۔ ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ (ڈی ایم) رام پورکومیمورنڈم سونپا جائے گا۔ وفد میں موجودہ اراکین اسمبلی کے ساتھ ساتھ سابق اراکین اسمبلی بھی شامل ہیں۔ واضح رہے کہ جوہریونیورسٹی کا قیام سال 2006 میں عمل میں آیا تھا اوراس کے بانی سماجوادی پارٹی کے لیڈراعظم خان ہیں۔
ضلع انتظامیہ رام پورکے ذریعہ اس پربلڈوزرکی کارروائی کی جا رہی ہے۔ اس سے متعلق سماجوادی پارٹی کے لیڈران سخت ناراض ہیں اوراعظم خان کوحمایت کرنے کے لئے رام پورجا رہے ہیں۔ سماجوادی پارٹی کا کہنا ہے کہ یونیورسٹی پربلڈوزرچلانا آئینی ڈھانچے اور’تعلیم کے حقوق‘ کومنہدم کرنے جیسا ہے۔ انتظامیہ اورحکومت کا یہ قدم سماج کے غریب، پسماندہ اوردلت طبقات کوتعلیم سے محروم کرنے جیسا ہے۔ یہاں بہت معمولی فیس پرسبھی مذاہب کے لوگ تعلیم حاصل کررہے ہیں۔
سماجوادی پارٹی کا وفد اعظم خان کی جوہریونیورسٹی کوبچانے کے لئے رام پورجائے گا۔ اس کی قیادت اپوزیشن لیڈرماتا پرساد پانڈے کریں گے۔#MohammadAliJauharUniversity #AzamKhan #SamajwadiPartyDelegation #MataPrasadPanday #RampurDevelopmentAuthority #BharatExpressUrdu@SamajwadiParty pic.twitter.com/D1BwrxtOHS
— Bharat Express Urdu (@bharatxpresurdu) July 23, 2026
جوہریونیورسٹی کی 38 عمارتوں کو منہدم کرنے کا حکم
رام پور ڈیولیپمنٹ اتھارٹی (آرڈی اے) نے محمد علی جوہر یونیورسٹی کی 38 عمارتوں کو منہدم کرنے کا حکم دیا ہے۔ افسران کا کہنا ہے کہ ان 38 عمارتوں کو بنانے سے پہلے حکومتی ضابطہ کے مطابق نقشہ پاس نہیں کرایا گیا تھا۔ یہ فیصلہ ’اتر پردیش شہری منصوبہ بندی اور ترقی ایکٹ، 1973‘ کے تحت لیا گیا ہے۔ اس کے مطابق، بغیر منظوری کی تعمیرات غیرقانونی تسلیم کی جاتی ہیں۔ حکم جاری کرنے سے پہلے انتظامیہ نے یونیورسٹی مینجمنٹ کو نوٹس بھیج کران کا موقف جاننا چاہا تھا۔
وہیں، یونیورسٹی کا کہنا ہے کہ عمارتیں پہلے ہی بن چکی تھیں، اس لئے موجودہ ضوابط کے تحت انہیں غیرقانونی نہیں ٹھہرایا جاسکتا۔ اس وقت یہ آرڈی اے کے دائرہ اختیارمیں نہیں آتا تھا، اس لئے اس سے عمارت کی تعمیر کی منظوری لینے کی ضرورت نہیں تھی۔ حالانہ اتھارٹی نے کہا کہ تعمیرکے وقت جس مجازاتھارٹی سے منظوری لینا ضروری تھا، اس کی اجازت لازمی تھی۔
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔





