Urdu Conclave 2026

Anti-Sikh Riots: راؤاز ایونیو کورٹ نے 1984 سکھ مخالف فسادات معاملے میں سجن کمار کو کیا بری، عدالت نے کہا-الزام نہیں ہو اثابت

ناناوتی کمیشن کی رپورٹ کے مطابق 1984 کے فسادات کے سلسلے میں دہلی میں پانچ سو ستاسی ایف آئی آر درج کی گئی تھیں، جن میں دو ہزار سات سو تیتیس افراد کی جان گئی۔ ان میں سے کئی مقدمات شواہد کی کمی کے باعث بند ہوئے جب کہ بڑی تعداد میں ملزمان کو بری کر دیا گیا۔

1984 کے سکھ مخالف فسادات سے جڑے ایک معاملے میں کانگریس کے سابق رکن پارلیمنٹ سجن کمار کو جمعرات کے روز بڑی قانونی راحت ملی ہے۔ دہلی کی راؤاز ایونیو نے انہیں اس مقدمے میں بری کر دیا، جس میں ان پر جنک پوری اور وکاس پوری علاقوں میں ہجوم کو تشدد کے لیے اکسانے کا الزام عائد کیا گیا تھا۔ یہ فیصلہ خصوصی جج دِگ وِنے سنگھ نے سنایا۔عدالت نے اس معاملے میں گزشتہ سال دسمبر میں تمام فریقین کی دلائل مکمل ہونے کے بعد فیصلہ محفوظ کر لیا تھا، جو بائیس جنوری کو سنایا گیا۔ فیصلے کے اعلان کے بعد عدالت میں موجود ایک متاثرہ خاندان کی خاتون رکن جذبات پر قابو نہ رکھ سکیں اور روتے ہوئے کہا کہ انہیں انصاف کیوں نہیں ملا اور جن کے گیارہ افراد قتل ہوئے، ان کے لیے عدالت نے سجن کمار کو بری کیوں کر دیا۔

متاثرہ خاندان کی ایک اور خاتون نے کہا کہ انہوں نے اپنے خاندان کے دس افراد کھوئے ہیں اور وہ اس فیصلے کے خلاف سپریم کورٹ سے رجوع کریں گی۔ ان کے مطابق، سجن کمار کو سخت ترین سزا ملنی چاہیے تھی۔اس کیس کی شروعات فروری دو ہزار پندرہ میں اس وقت ہوئی تھی، جب ایک خصوصی تفتیشی ٹیم نے 1984 کے فسادات کے دوران دہلی کے جنک پوری اور وکاس پوری علاقوں میں ہوئے تشدد سے متعلق شکایات کی بنیاد پر سجن کمار کے خلاف دو الگ الگ ایف آئی آر درج کی تھیں۔ پہلی ایف آئی آر جنک پوری سے متعلق تھی، جس میں الزام لگایا گیا تھا کہ یکم نومبر انیس سو چوراسی کو سوہن سنگھ اور ان کے داماد اوتار سنگھ کا قتل کیا گیا اور اس تشدد کو بھڑکانے میں سجن کمار کا کردار تھا۔ قابل ذکر بات یہ ہے کہ عدالت نے دستیاب شواہد اور گواہوں کے بیانات کی بنیاد پر انہیں اس الزام میں قصوروار نہیں مانا اور بری کر دیا۔

اگرچہ اس مقدمے میں بری ہونے کے بعد بھی سجن کمار جیل میں ہی رہیں گے۔ گزشتہ سال پچیس فروری کو ایک ٹرائل کورٹ نے انہیں دہلی کے سرسوتی وہار علاقے میں فسادات کے دوران جسونت سنگھ اور ان کے بیٹے ترن دیپ سنگھ کے قتل کے معاملے میں عمر قید کی سزا سنائی تھی۔ عدالت نے کہا تھا کہ جرم سنگین ضرور ہے، لیکن یہ نایاب ترین میں نایاب کیس نہیں ہے، اس لیے سزائے موت نہیں دی جا سکتی۔عدالت نے یہ بھی واضح کیا تھا کہ سرسوتی وہار کا معاملہ تشدد کے ایک مسلسل سلسلے کا حصہ تھا، جس پر سجن کمار کو اس سے قبل سترہ دسمبر دو ہزار اٹھارہ کو دہلی ہائی کورٹ عمر قید کی سزا سنا چکی ہے۔ اس کیس میں انہیں سابق وزیر اعظم اندرا گاندھی کے قتل کے بعد پالم کالونی میں فسادات کے دوران پانچ افراد کی ہلاکت کا ذمہ دار قرار دیا گیا تھا۔

ناناوتی کمیشن کی رپورٹ کے مطابق 1984 کے فسادات کے سلسلے میں دہلی میں پانچ سو ستاسی ایف آئی آر درج کی گئی تھیں، جن میں دو ہزار سات سو تیتیس افراد کی جان گئی۔ ان میں سے کئی مقدمات شواہد کی کمی کے باعث بند ہوئے جب کہ بڑی تعداد میں ملزمان کو بری کر دیا گیا۔ صرف چند ہی مقدمات میں سزائیں ہو سکیں، جن میں سجن کمار سمیت متعدد افراد کو قتل کے جرم میں قصوروار ٹھہرایا گیا تھا۔

بھارت ایکسپریس اردو



بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

Also Read