Bharat Express DD Free Dish

Dr. Rajeshwar Singh slams Congress over RSS ban demand: ’’آر ایس ایس قوم کی رگوں میں ہے، اسے مٹانا ہندوستان کو مٹانے کے مترادف‘‘، ڈاکٹر راجیشور سنگھ آر ایس ایس پر پابندی کا مطالبہ کرنے پر کانگریس کو دیا سخت جواب

ڈاکٹر راجیشور سنگھ نے راشٹریہ سویم سیوک سنگھ کو بھارت کی خدمت، حفاظت اور ثقافت کا محافظ قرار دیتے ہوئے اس کی تاریخی خدمات کو اجاگر کیا۔

سروجنی نگر کے ایم ایل اے ڈاکٹر راجیشور سنگھ۔

کرناٹک حکومت میں وزیر اور کانگریس صدر ملکارجن کھرگے کے بیٹے پریانک کھرگے کی جانب سے راشٹریہ سویم سیوک سنگھ (آر ایس ایس) پر پابندی عائد کرنے کی دھمکی کے بعد ملک بھر میں سخت ردعمل دیکھنے میں آ رہا ہے۔ اس بیان پر شدید ردعمل دیتے ہوئے سروجنی نگر سے بی جے پی کے رکن اسمبلی اور سینئر رہنما ڈاکٹر راجیشور سنگھ نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر ایک سخت اور تفصیلی بیان جاری کیا ہے۔

ڈاکٹر راجیشور سنگھ نے اپنے بیان میں کہا کہ ’’آر ایس ایس محض ایک تنظیم نہیں بلکہ یہ قوم کی بیداری اور بھارت کی روح ہے۔ جس تنظیم کو ختم کرنے کی بات کی جا رہی ہے، وہ اسی دھرتی سے جنم لینے والی، بھارت ماتا کی خدمت میں ہمہ وقت مصروف تنظیم ہے۔‘‘ انہوں نے اس بیان کو کانگریس کی نظریاتی دیوالیے پن اور بھارت مخالف سوچ کا عکاس قرار دیا۔ ان کے مطابق یہ وہی ذہنیت ہے جو صدیوں سے بھارتی تہذیب کو کچلنے کی کوشش کرتی آئی ہے اور آج وہی کوشش کانگریس کے پلیٹ فارم سے کی جا رہی ہے۔

ڈاکٹر راجیشور سنگھ نے راشٹریہ سویم سیوک سنگھ کو بھارت کی خدمت، حفاظت اور ثقافت کا محافظ قرار دیتے ہوئے اس کی تاریخی خدمات کو اجاگر کیا۔ انھوں نے کہا کہ آر ایس ایس کوئی سیاسی پارٹی نہیں بلکہ یہ بھارت کی دھڑکن ہے، جس کے پاس ایک کروڑ سے زائد تربیت یافتہ رضاکار ہیں، 61,045 شاخیں ہیں، 80 سے زائد ذیلی تنظیمیں ہیں، 55,000 سے زیادہ دیہاتوں میں سرگرم ہے اور 40 سے زائد ممالک میں موجودگی اس کی وسعت کا منہ بولتا ثبوت ہے۔

ڈاکٹر راجیشور سنگھ نے ڈالی آر ایس ایس کے کارناموں پر روشنی

اپنے بیان میں انھوں نے یاد دلایا کہ تاریخ گواہ ہے کہ جب بھی ملک پر کوئی بحران آیا، آر ایس ایس سب سے آگے کھڑا رہا۔ 1947 کی تقسیم کے دوران تنظیم نے تین ہزار سے زائد راحت کیمپ قائم کر کے پناہ گزینوں کی مدد کی۔ 1962 میں چین کے ساتھ جنگ کے وقت سنگھ کے رضاکاروں نے فوج کا بھرپور ساتھ دیا۔ ایمرجنسی کے دوران ہزاروں سنگھ کارکنان نے جمہوریت کی حفاظت کے لیے جیلوں میں اذیتیں برداشت کیں۔ گوا اور دادرا نگر حویلی جیسے علاقوں کی آزادی میں بھی سنگھ کا اہم کردار رہا۔

ڈاکٹر سنگھ نے آر ایس ایس کو سماجی خدمت کا قابلِ اعتماد نام قرار دیا اور بتایا کہ سیوا بھارتی کے ذریعے 35,000 ایکل ودیالیہ میں 10 لاکھ سے زائد بچے تعلیم حاصل کر رہے ہیں، جب کہ ودیا بھارتی کے 20,000 اسکولوں میں 30 لاکھ طلبہ زیرِ تعلیم ہیں۔ وہیں وویکانند کیندر، ونواسی کلیان آشرم اور لغو ادیوگ بھارتی جیسے ادارے بھی دوردراز کے علاقوں تک اپنی خدمات پہنچا رہے ہیں۔

مہاتما گاندھی، پنڈت نہرو، اندرا گاندھی اور پرنب مکھرجی تک کر چکے ہیں سنگھ کی تعریف

انھوں نے یاد دلایا کہ آر ایس ایس پر تین بار پابندی لگی—1948 میں گاندھی جی کے قتل کے بعد، 1975 میں ایمرجنسی کے دوران اور 1992 میں بابری مسجد کے بعد۔ لیکن ہر بار سچ اور انصاف کی جیت ہوئی۔ انھوں نے اس حقیقت کی طرف بھی اشارہ کیا کہ مہاتما گاندھی نے وردھا میں سنگھ کے نظم و ضبط کی تعریف کی تھی، پنڈت نہرو نے 1963 کی یومِ جمہوریہ پریڈ میں سنگھ کو مدعو کیا، اندرا گاندھی نے وویکانند راک میموریل کے افتتاح میں شرکت کی اور سابق صدر پرنب مکھرجی نے ناگپور میں آر ایس ایس کو ’’قوم سازی کی تجربہ گاہ‘‘ کہا۔

سنگھ مٹے گا نہیں، بلکہ بڑھے گا: ڈاکٹر راجیشور سنگھ

کانگریس پر تنقید کرتے ہوئے ڈاکٹر سنگھ نے سوال اٹھایا کہ کیا سب سے بڑی قوم پرست تنظیم کو ختم کرنے کی دھمکی دینا آپ کی سیاست کی مایوسی کو ظاہر نہیں کرتا؟ کیا وراثتی سیاست اب اس حد تک بےبس ہو چکی ہے کہ اسے سنگھ کی خدمت اور قربانی سے خوف محسوس ہونے لگا ہے؟ اپنے بیان کے آخر میں انھوں نے کہا کہ ’’جو آر ایس ایس پر پابندی کی بات کرتا ہے، وہ بھارت کی خدمت، سلامتی، ثقافت اور خودداری پر حملہ کرتا ہے۔ سنگھ مٹے گا نہیں، بلکہ بڑھے گا۔ سنگھ رہے گا تو بھارت بنے گا!‘‘

بھارت ایکسپریس اردو



بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

Also Read