Bharat Express DD Free Dish

Anti-Waqf bill resolution passed: وقف ترمیمی بل کے خلاف کرناٹک اسمبلی میں قرارداد منظور،بی جے پی ممبران نے کیا واک آوٹ

ہریش راوت نے مرکزی حکومت پر زور دیا کہ وہ آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ (اے آئی ایم پی ایل بی) کے مجوزہ وقف (ترمیمی) بل 2024 پر اٹھائے گئے اعتراضات کو قبول کرے، اور “کم سے کم اتفاق رائے” تک پہنچنے کی کوشش کی جائے۔

کرناٹک اسمبلی نے بدھ کو وقف (ترمیمی) بل کے خلاف ایک قرارداد منظور کی۔ خبر رساں ایجنسی اے این آئی کے مطابق ریاست کے وزیر قانون ایچ کے پاٹل نے بل پیش کیا۔ اس دوران اپوزیشن پارٹی بی جے پی واک آؤٹ کر گئی۔ قبل ازیں، ایچ کے پاٹل نے ایک بیان میں کہا کہ ایوان نے وقف (ترمیمی) بل 2024 کو متفقہ طور پر مسترد کر دیا کیونکہ یہ ریاست کے لوگوں کی عالمی امنگوں کے خلاف ہے اور مرکز سے اس قانون کو واپس لینے پر زور دیاگیا ہے۔انہوں نے کہاکہ یہ ایکٹ ملک کے تمام طبقات کے لوگوں کی امنگوں اور مواقع کی عکاسی نہیں کرتا ہے۔ یہ ایوان متفقہ طور پر وقف ایکٹ میں ترمیم کو مسترد کرتا ہے کیونکہ یہ ایک ایسا قانون ہے جو کرناٹک کے عوام کی عالمی امنگوں اور سیکولر اصولوں کے خلاف ہے۔

دوسری طرف، بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) نے اپوزیشن جماعتوں پر وقف ایکٹ میں مجوزہ ترامیم پر مسلمانوں کو “گمراہ” کرنے کا الزام لگایا اور دعویٰ کیا کہ اگر یہ بل پارلیمنٹ سے منظور ہو جاتا ہے تو بھی واضح ملکیت والی وقف املاک کا “ایک انچ” (زمین) نہیں لیا جائے گا۔ حکمراں بی جے پی نے یہ الزام ایسے وقت  میں لگایا ہے جب آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ کی قیادت میں کئی مسلم تنظیمیں وقف (ترمیمی) بل کے خلاف احتجاج کر رہی ہیں اور کئی ممبران پارلیمنٹ بھی ان کی حمایت میں احتجاج میں شامل ہوئے ہیں۔

وہیں دوسری جانب بی جے پی کے ممبران اسمبلی نے بل کی مخالفت کی اور اسے خوشامدی کی بلندی قرار دیا۔ بی جے پی کے ایک ایم ایل اے نے کہاکہ ہم قرارداد کی مخالفت کرتے ہیں۔ یہ حکومت پاکستان کے حق میں ہے اور یہ مسلمانوں کی خوشنودی کا دورعروج ہے۔اسمبلی میں قائد حزب اختلاف آر اشوکا نے حکمراں کانگریس پر الزام لگایا کہ وہ ان کسانوں کے دکھوں سے آنکھیں چرا رہی ہے جن کے اراضی ریکارڈ کو وقف بورڈ کے حق میں تبدیل کیا گیا تھا۔اس سے قبل کانگریس کے سینئر لیڈر ہریش راوت نے مرکزی حکومت پر زور دیا کہ وہ آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ (اے آئی ایم پی ایل بی) کے مجوزہ وقف (ترمیمی) بل 2024 پر اٹھائے گئے اعتراضات کو قبول کرے، اور “کم سے کم اتفاق رائے” تک پہنچنے کی کوشش کی جائے۔

بھارت ایکسپریس۔



بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

Also Read