Bharat Express DD Free Dish

Ranchi JPSC JSSC Students Protest: رانچی طلبہ تحریک کا 16واں دن: مظاہرین آر یا پار کے موڈ میں، جانیے آج کی بات چیت سے حل نہ نکلا تو کل کیا ہوگا؟

رانچی میں JPSC-JSSC امیدواروں کی تحریک کے 16ویں روز وزرا کی کمیٹی کے ساتھ بات چیت جاری ہے۔ مطالبات تسلیم نہ کیے جانے کی صورت میں طلبہ نے 10 اگست کو اسمبلی کے گھیراؤ کی وارننگ دی ہے۔

جھارکھنڈ میں JPSC اور JSSC امتحانات میں مبینہ دھاندلی کے خلاف جاری طلبہ تحریک اب ایک انتہائی نازک موڑ پر پہنچ گئی ہے۔ اتوار کو احتجاج کا 16واں دن ہے۔ وزیر اعلیٰ کی ہدایت پر تشکیل دی گئی اعلیٰ سطحی کابینہ کمیٹی کے رکن وزرا رانچی کی سرکاری گیسٹ ہاؤس میں طلبہ تنظیموں سے مسلسل بات چیت کر رہے ہیں اور کسی درمیانی راستے تک پہنچنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔

آج کی بات چیت پر نظریں

’JPSC-JSSC امیدوار انصاف منچ‘ کے بینر تلے جاری اس تحریک میں طلبہ رہنما دیویندر ناتھ مہتو غیر معینہ مدت کی بھوک ہڑتال پر بیٹھے ہیں۔ دیویندر مہتو کی قیادت میں طلبہ کا ایک نمائندہ وفد اتوار کی دوپہر سرکاری گیسٹ ہاؤس پہنچا، جہاں وزرا کی کمیٹی کے ساتھ تحریک کی آئندہ حکمت عملی پر بات چیت ہونی ہے۔تاہم طلبہ کا الزام ہے کہ حکومت اصل تحریک کاروں کے بجائے دیگر تنظیموں سے بات چیت کرکے وقت ضائع کر رہی ہے۔ دوسری جانب احتجاج کرنے والے گروپوں کے درمیان بھی کچھ باہمی اختلافات نظر آ رہے ہیں، لیکن اہم مطالبات پر سبھی متفق ہیں۔ JLKM کے صدر جے رام مہتو نے بھی طلبہ کی حمایت میں ایک روزہ ’نرجلا اپواس‘ یعنی پانی کے بغیر روزہ شروع کر دیا ہے۔

کیا ہیں طلبہ کے اہم مطالبات؟

احتجاج کرنے والے طلبہ کا مطالبہ ہے کہ 14ویں JPSC PT امتحان میں ہوئی مبینہ دھاندلی اور بے ضابطگیوں کی فوری طور پر CBI سے جانچ کرائی جائے۔ اس کے ساتھ ہی متنازع امتحان کو منسوخ کرکے شفاف طریقے سے دوبارہ منعقد کیا جائے۔اس کے علاوہ طلبہ نے JPSC اور JSSC کی مکمل بھرتی اور انتخابی عمل میں سخت اصلاحات نافذ کرنے کا بھی مطالبہ کیا ہے۔

کل اسمبلی کا گھیراؤ کریں گے طلبہ؟

طلبہ نے واضح انتباہ دیا ہے کہ اگر اتوار کی بات چیت میں کوئی ٹھوس تحریری یقین دہانی یا مقررہ وقت کی حد طے نہیں کی گئی تو تحریک مزید شدت اختیار کرے گی۔ پیر، 10 اگست کو ہزاروں امیدوار سڑکوں پر اتر کر جھارکھنڈ اسمبلی کا گھیراؤ کریں گے۔اس احتجاج کو بی جے پی سمیت ریاست کی اہم اپوزیشن سیاسی جماعتوں اور سماجی تنظیموں نے بھی کھلی حمایت دی ہے۔

بھارت ایکسپریس اردو۔



بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

Also Read