اوڈیشہ کے دارالحکومت بھونیشورمیں چل رہے کسانوں کے آندولن کے درمیان ایک بڑا معاملہ سامنے آیا ہے۔ پولیس نے کسان لیڈرراکیش ٹکیٹ کواس وقت حراست میں لے لیا، جب وہ آندولن میں شامل ہونے اورکسانوں کوحمایت دینے کے لئے پہنچ رہے تھے۔ اس حادثہ کے سامنے آنے کے بعد یوپی کے کئی علاقوں میں بھارتیہ کسان یونین (بی کے یو) کے لوگوں نے آندولن اور دھرنا شروع کر دیا ہے۔

کیا ہے پورا معاملہ؟

بھونیشورمیں کسانوں کا یہ آندولن 22 مارچ سے مسلسل جاری ہے۔ کسان اپنے مختلف مطالبات سے متعلق احتجاجی مظاہرہ کررہے ہیں۔ اس آندولن کاورمزید مضبوط کرنے کے لئے متحدہ کسان مورچہ نے پیر کے روز بڑی تعداد میں کسانوں سے متحد ہونے کی اپیل کی تھی۔ اس اپیل کے بعد الگ الگ علاقوں میں کسان بھونیشورپہنچے اورآندولن میں شامل ہوئے۔  اسی دوران بھارتیہ کسان یونین کے قومی ترجمان راکیش ٹکیٹ بھی آندولن کی حمایت میں بھونیشورکے احتجاج والے مقام پرپہنچ رہے تھے۔ تاہم جیسے ہی وہ وہاں پہنچے، پولیس نے انہیں آگے بڑھنے سے روک دیا۔ اس کے بعد پولیس نے انہیں حراست میں لے لیا۔

پولیس نے کیوں کی کارروائی؟

بتایا جا رہا ہے کہ انتظامیہ نے لاء اینڈ آرڈر بنائے رکھنے کے لئے یہ قدم اٹھایا۔ آندولن میں بڑی تعداد میں کسانوں کی موجودگی کو دیکھتے ہوئے پولیس پہلے سے ہی محتاط تھی اورکسی بھی طرح کی افراتفری سے بچنے کے لئے سخت نگرانی رکھی جارہی تھی۔ حالانکہ راکیش ٹکیٹ کو حراست میں لئے جانے سے کسانوں کی ناراضگی میں مزید اضافہ ہوگیا ہے۔ ان کی حراست کی خبر سننے کے بعد کسانوں نے جم کرنعرے بازی کی۔

 کسان کیوں کررہے ہیں احتجاج؟

کسانوں کی یہ تحریک کئی مسائل سے متعلق جاری ہے۔ کسانوں کی بڑی شرکت واضح طورپران کے سنگین خدشات اورحکومت کی طرف سے ان کی آوازسننے کی خواہش کو ظاہرکرتی ہے۔ راکیش ٹکیٹ کی گرفتاری کے بعد سیاسی اورسماجی حلقوں میں اس تحریک (آندولن) کے چرچے تیزہو گئے ہیں۔ یہ دیکھنا اہم ہو گا کہ آنے والے دنوں میں یہ آندولن کیا رخ اختیارکرتا ہے اور انتظامیہ حالات کوکس طرح سنبھالتی ہے۔

بھارت ایکسپریس اردو-