نئی دہلی: قومی ترانے ’وندے ماترم‘ کے 150 سال مکمل ہونے کے موقع پر پارلیمنٹ میں خصوصی بحث کا سلسلہ جاری ہے۔ پیر کے روز لوک سبھا میں اس موضوع پر تفصیلی گفتگو کے بعد اب منگل کو راجیہ سبھا میں بھی اس تاریخی ترانے پر خصوصی بحث ہوگی۔
راجیہ سبھا میں بحث کا شیڈول
معلومات کے مطابق راجیہ سبھا میں یہ بحث منگل کو دوپہر یک بجے شروع ہوگی۔ بھارتیہ جنتا پارٹی کی جانب سے بحث کا آغاز مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ کریں گے۔ وہ بحث کے دوران ’وندے ماترم‘ کی تاریخی پس منظر، اس کے قومی شعور اور آزادی کی تحریک میں اس کے کردار پر اپنی بات رکھیں گے۔ بحث کا اختتام بی جے پی کے قومی صدر جے پی نڈا کریں گے، جو ترانے کی 150 سالہ تاریخی سفر کا خلاصہ پیش کریں گے۔ اس دوران بی جے پی کے دیگر رہنما، جن میں رادھا موہن داس اگروال، کے لکشمن، گھنشیام تیواری اور ستپال شرما شامل ہیں، اپنے خیالات پیش کریں گے۔
لوک سبھا میں ہوئی بحث اور وزیراعظم کا خطاب
پیر کے روز لوک سبھا میں بھی قومی ترانے کے موضوع پر خصوصی بحث ہوئی جس کا آغاز وزیراعظم نریندر مودی نے دوپہر 12 بجے کیا۔ ان کے بعد مختلف جماعتوں کے نمایاں رہنماؤں نے اپنی رائے پیش کی۔ وزیراعظم مودی نے اپنے خطاب میں کہا: ’’یہ ہمارے لیے فخر کا لمحہ ہے کہ ہم ’وندے ماترم‘ کے 150 سال پورے ہونے پر پارلیمنٹ میں اجتماعی گفتگو کر رہے ہیں۔ یہ وہ نعرہ ہے جس نے ملک کی آزادی کی جدوجہد کو حوصلہ، توانائی اور سمت دی۔‘‘ انہوں نے مزید کہا: ’’یہ لمحہ ہماری تاریخ کی بے شمار یادوں کو تازہ کرتا ہے۔ یہ بحث نہ صرف پارلیمنٹ کی وابستگی کو ظاہر کرتی ہے بلکہ آنے والی نسلوں کے لیے رہنمائی کا ذریعہ بھی بنے گی۔‘‘
آزادی کی تحریک میں وندے ماترم کا کردار
’وندے ماترم‘ بھارت کی آزادی کی لڑائی میں ایک جذباتی اور انقلابی ترانہ رہا ہے۔ یہ قومی یکجہتی، قربانی، جدوجہد اور حریت فکر کی علامت سمجھا جاتا ہے۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔


