ایم این ایس کے سربراہ راج ٹھاکرے نے جمعرات کو مہاراشٹر میں قومی تعلیمی پالیسی (این ای پی) 2020 کے ایک حصے کے طور پر اسکولوں میں ہندی کو تیسری لازمی زبان کے طور پر نافذ کرنے کی مخالفت کرتے ہوئے کہا کہ ان کی پارٹی ہر چیز کے ’’ہندی کرن‘‘ کی مرکز کی کوششوں کو کامیاب نہیں ہونے دے گی۔ واضح رہے کہ اس سے قبل مہاراشٹر کے وزیر اعلی دیویندر فڑنویس نے اپنی حکومت کے فیصلے کا دفاع کیا ہے۔ انھوں نے کہا کہ مہاراشٹر میں مراٹھی بولنا ضروری ہے، لیکن ’’ہمیں باقی ملک سے جڑنے کے لیے ہندی بھی سیکھنی چاہیے۔‘‘
راج ٹھاکرے نے کہا کہ ہم ہر چیز کا ’’ہندی کرن‘‘ نہیں ہونے دیں گے
ریاستی اسکول پلان 2024 کے مطابق مہاراشٹر میں پہلی جماعت سے ہندی کو لازمی قرار دیا گیا ہے۔ مہاراشٹر حکومت کے اس فیصلے کی مخالفت کرتے ہوئے اپنی سوشل میڈیا پوسٹ میں راج ٹھاکرے نے کہا ’’میں صاف الفاظ میں کہتا ہوں کہ مہاراشٹر نو نرمان سینا اس جبر کو برداشت نہیں کرے گی۔ ہم مرکزی حکومت کی ہر چیز کے ’ہندی کرن‘ کی موجودہ کوششوں کو اس ریاست میں کامیاب نہیں ہونے دیں گے۔ ہندی قومی زبان نہیں ہے۔ یہ ملک کی دیگر زبانوں کی طرح ایک سرکاری زبان ہے۔ اسے پہلی جماعت سے ہی مہاراشٹر میں کیوں پڑھانا ہے؟ آپ کا سہ لسانی فارمولہ جو بھی ہو اسے حکومتی امور تک محدود رکھیں، اسے تعلیم تک نہ لائیں۔ یہ ملک لسانی خطوں میں بٹا ہوا تھا اور اتنے سالوں تک قائم رہا۔ لیکن اب مہاراشٹر پر دوسرے صوبے کی زبان کو مسلط کرنے کا سلسلہ کیوں شروع ہو رہا ہے؟ لسانی علاقائیت کے اصول کو پامال کیا جا رہا ہے۔‘‘
राज्य शालेय अभ्यासक्रम आराखडा २०२४ नुसार महाराष्ट्रात पहिलीपासूनच हिंदी ही भाषा अनिवार्य करण्यात आली आहे. मी स्वच्छ शब्दांत सांगतो की ही सक्ती महाराष्ट्र नवनिर्माण सेना खपवून घेणार नाही.
केंद्र सरकारचं सध्या जे सर्वत्र ‘हिंदीकरण’ करण्याचे प्रयत्न सुरू आहेत, ते या राज्यात आम्ही…
— Raj Thackeray (@RajThackeray) April 17, 2025
انھوں نے مزید کہا کہ ہر زبان خوبصورت ہوتی ہے اور جس ریاست کی زبان ہو وہاں اس کا احترام کیا جانا چاہیے۔ انھوں نے کہا کہ ہمارا اصرار ہے کہ دوسری ریاستوں میں رہنے والے مراٹھی لوگ بھی اس ریاست کی زبان کو اپنی زبان سمجھیں لیکن اگر آپ اس کو نظر انداز کرتے ہوئے اس ملک کی لسانی روایت کو برباد کرنے کی کوشش کر رہے ہیں تو ہم اسے قبول نہیں کریں گے۔
ہم ہندو ہیں، لیکن ہندی نہیں: ٹھاکرے
ٹھاکرے نے اپنی طویل پوسٹ میں مزید کہا کہ ’’ہم ہندو ہیں لیکن ہندی نہیں۔ اگر آپ مہاراشٹر کو ہندی کے رنگ میں رنگنے کی کوشش کریں گے تو یقیناً ایک جدوجہد ہوگی۔ کیا یہ سب آنے والے انتخابات میں مراٹھی اور غیر مراٹھی کے درمیان پریشانی پیدا کرنے اور اس کا فائدہ اٹھانے کی کوشش ہے؟ اس ریاست کے غیر مراٹھی بولنے والوں کو بھی حکومت کے اس منصوبے کو سمجھنا چاہیے۔ ایسا نہیں ہے کہ انھیں آپ کی زبان سے کوئی خاص محبت ہے۔ وہ وہ بس سیاست کر رہے ہیں۔‘‘
ہر شخص کو کرنی چاہیے اس فیصلے کی مخالفت: راج ٹھاکرے
انھوں نے لوگوں سے اس فیصلے کے خلاف آواز اٹھانے کی درخواست کرتے ہوئے کہا ’’میں مہاراشٹر میں اپنی تمام مراٹھی ماؤں، بہنوں اور بھائیوں کے ساتھ ساتھ مراٹھی اخبارات اور مراٹھی نیوز چینلز میں کام کرنے والے اپنے تمام بھائیوں اور بہنوں سے بھی درخواست کرتا ہوں کہ وہ بغیر کسی بحث کے اس کی مذمت اور مخالفت کریں۔ اور ہاں اگر مہاراشٹر کی دوسری سیاسی پارٹیوں کو مراٹھی زبان سے تھوڑی سی بھی محبت ہے تو وہ بھی اس کی مخالفت کریں گی۔ آج وہ زبانوں کو لے کر زبردستی کر رہے ہیں، کل دوسرے احکامات جاری کریں گے۔‘‘
بھارت ایکسپریس اردو
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔


