چھتیس گڑھ کے رائے گڑھ ضلع میں جندل کوئلہ کان کے خلاف جاری دیہاتیوں کا احتجاج ہفتے کے روز پرتشدد ہو گیا۔ مظاہرین نے پولیس ٹیم پر حملہ کر دیا، جس میں تھانہ انچارج کملا پُسام شدید زخمی ہو گئی ہیں اور انہیں علاج کے لیے اسپتال میں داخل کرایا گیا ہے۔ غصے میں بھرے مظاہرین نے موقع پر کھڑی ایک بس اور ایک کار میں بھی آگ لگا دی۔ واقعے کی اطلاع ملتے ہی ایس پی موقع پر پہنچنے کے لیے روانہ ہو گئے۔ صورتحال کے پیش نظر علاقے میں بڑی تعداد میں پولیس اہلکار تعینات کر دیے گئے ہیں۔ فی الحال علاقے میں تناؤ والا ماحول برقرار ہے۔
گرفتاری کے بعد احتجاج پرتشدد ہو گیا
اطلاعات کے مطابق، رائے گڑھ ضلع میں 8 دسمبر کو جندل کوئلہ کان کے حوالے سے قانون کے خلاف ہونے والی عوامی سماعت کے خلاف دیہاتیوں نے پیر سے تمانار علاقے کے تمانار CHP چوک پر احتجاج شروع کر رکھا تھا۔ گزشتہ رات سے مقامی باشندوں نے علاقے کی دیگر کوئلہ کانوں سے نکلنے والے کوئلے کے ٹرکوں کو روک دیا تھا۔ اس کے بعد آج دوپہر کے وقت پولیس نے کچھ دیہاتیوں کو حراست میں لے لیا۔ پولیس کی اس کارروائی پر دیہاتی احتجاج کرنے لگے اور مظاہرہ پرتشدد ہو گیا۔
دیہاتیوں اور پولیس کے درمیان جھڑپ
اسی دوران جب پولیس نے کوئلہ لاریوں کو جانے کی اجازت دینے کی کوشش کی تو دیہاتیوں میں غصہ بڑھ گیا اور پولیس اور دیہاتیوں کے درمیان شدید تلخ کلامی اور ہاتھاپائی شروع ہو گئی۔ تقریباً دوپہر 2 بجے دیہاتیوں نے علاقے میں ہنگامہ مچانا شروع کر دیا۔
تھانہ انچارج کملا پُسام کو شدید چوٹیں
پولیس کی سختی کے بعد مظاہرین نے بس اور کار میں آگ لگا دی۔ اس دوران دیہاتیوں کے حملے میں تھانہ انچارج کملا پُسام شدید زخمی ہو گئی ہیں۔ واقعے کی اطلاع ملتے ہی انتظامیہ نے اضافی فورس طلب کی اور حالات پر قابو پانے کی کوششیں تیز کر دی گئیں۔ اطلاعات کے مطابق، قریبی اضلاع سے بھی پولیس فورس تعینات کی جا رہی ہے۔ پولیس نے سماجی کارکن رادھے شیم شرما سمیت سیکڑوں دیہاتیوں کو گرفتار کر لیا ہے۔ فی الحال پولیس پورے واقعے کی تحقیقات کر رہی ہے۔ انتظامیہ کا کہنا ہے کہ قانون و نظم خراب کرنے والوں کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

