Bharat Express DD Free Dish

Kagaz mitao, Adhikaar churao: ’کاغذ مٹاؤ، حقوق چھین لو‘ — چھتیس گڑھ کے سرکاری ریکارڈ میں ہزاروں جنگلاتی حقوق کے ٹائٹل اچانک ’غائب‘، راہل گاندھی کا بی جے پی پر حملہ

راہل گاندھی نے کہا کہ کانگریس نے قبائلیوں کے جنگل، پانی اور زمین کے تحفظ کے لیے جنگلاتی حقوق قانون نافذ کیا تھا، لیکن بی جے پی اسے کمزور کر کے ان کے بنیادی حقوق چھین رہی ہے۔

کانگریس کے رکن پارلیمنٹ اور لوک سبھا میں اپوزیشن لیڈر راہل گاندھی نے جمعرات کو الزام لگایا کہ بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) بہوجن طبقے کے حقوق ’’چرانے‘‘ کے لیے یا تو ان کے نام ووٹر لسٹ سے حذف کر رہی ہے یا پھر آدیواسیوں (قبائلیوں) کے جنگلاتی حقوق کے دستاویزات ’’غائب‘‘ کر رہی ہے۔ انہوں نے ایک نعرہ دیا: ’’کاغذ مٹاؤ، حقوق چھین لو — بی جے پی کا بہوجن پر ظلم کا نیا ہتھیار‘‘۔

چھتیس گڑھ میں ہزاروں ریکارڈ غائب

ایک انگریزی روزنامے کی خبر کا حوالہ دیتے ہوئے راہل گاندھی نے کہا کہ چھتیس گڑھ کے سرکاری ریکارڈ میں ہزاروں جنگلاتی حقوق کے ٹائٹل اچانک ’’غائب‘‘ کر دیے گئے ہیں۔ ان کے مطابق بَستر میں 2,788 اور راجناندگاؤں میں کل ریکارڈ کا نصف سے زیادہ حصہ مٹایا گیا ہے۔

 کانگریس نے بنایا، بی جے پی کمزور کر رہی ہے

راہل گاندھی نے کہا کہ کانگریس نے قبائلیوں کے جنگل، پانی اور زمین کے تحفظ کے لیے جنگلاتی حقوق قانون نافذ کیا تھا، لیکن بی جے پی اسے کمزور کر کے ان کے بنیادی حقوق چھین رہی ہے۔ انہوں نے قبائلیوں کو ملک کے ’’پہلے مالک‘‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ کانگریس ہر حال میں ان کے حقوق کا تحفظ کرے گی۔

 جنگلاتی حقوق قانون کیا ہے؟

شیڈولڈ ٹرائبز اینڈ ادر ٹریڈیشنل فاریسٹ ڈویلرز (ریکگنیشن آف فاریسٹ رائٹس) ایکٹ 2006، جسے فاریسٹ رائٹس ایکٹ (FRA) بھی کہا جاتا ہے، اس کا مقصد جنگلات میں رہنے والے شیڈولڈ ٹرائبز اور دیگر روایتی برادریوں کے قانونی حقوق کو تسلیم کرنا ہے۔ اس قانون کے تحت انہیں جنگلاتی زمین اور وسائل کی ملکیت اور استعمال کا حق دیا گیا۔ یہ قانون نوآبادیاتی دور کی اُن تاریخی ناانصافیوں کو درست کرنے کے لیے بنایا گیا تھا جن میں آدیواسیوں اور دیگر روایتی باشندوں کو جنگلاتی وسائل کے استعمال پر مجرم قرار دیا جاتا تھا۔

بھارت ایکسپریس اردو۔



بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

Also Read