Bharat Express DD Free Dish

Rahul Gandhi expressed disagreement: اطلاعات کمشنروں کے ناموں پر راہل گاندھی نے عدم اتفاق  کا کیا اظہار، مرکز نے اعداد و شمار کر دیے پیش ؛ اپوزیشن کا احتجاج بے اثر

ملک کے نئے چیف انفارمیشن کمشنر اور آٹھ دیگر انفارمیشن کمشنروں کے انتخاب کے لیے منعقدہ اجلاس میں وزیراعظم نریندر مودی، وزیر داخلہ امت شاہ اور لیڈر آف اپوزیشن راہل گاندھی نے شرکت کی۔

نئے چیف انفارمیشن کمشنر کے انتخاب کے لیے بدھ کو منعقدہ اہم میٹنگ میں وزیراعظم نریندر مودی، مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ اور لوک سبھا میں لیڈر آف اپوزیشن راہل گاندھی نے شرکت کی۔ اس دوران 8 انفارمیشن کمشنروں کے ناموں پر فیصلہ لیا گیا، جن میں سے کچھ ناموں پر راہل گاندھی نے عدم اتفاق کا اظہار کیا۔ تاہم بعد میں ثابت ہوا کہ راہل گاندھی کے پیش کیے گئے دلائل حقائق پر مبنی نہیں تھے۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق، انفارمیشن کمشنر منتخب کرنے کے لیے ہوئی میٹنگ میں لیڈر آف اپوزیشن راہل گاندھی نے اعتراض درج کراتے ہوئے الزام لگایا کہ شارٹ لسٹ میں ایس سی، ایس ٹی، او بی سی اور ای بی سی کمیونٹی کے نام شامل نہیں تھے۔ میڈیا کے مطابق، انہوں نے دعویٰ کیا کہ آئینی اور خودمختار اداروں میں تقرریوں کے دوران ایس سی، ایس ٹی، او بی سی، ای بی سی اور اقلیتوں کو منظم طریقے سے نظرانداز کیا جاتا ہے۔

یو پی اے دور میں ایک بھی تقرری نہیں ہوئی

لیکن حقائق اس کے برعکس ہیں۔ مرکزی اطلاعاتی کمیشن کی بنیاد 2005 میں رکھی گئی تھی۔ 2005 سے 2014 تک یو پی اے حکومت کے دور میں ایس سی یا ایس ٹی کمیونٹی کے کسی بھی فرد کو نہ تو کمیشن کا رکن بنایا گیا اور نہ ہی چیئرمین۔ یہ این ڈی اے حکومت تھی جس نے 2018 میں پہلی بار ایس ٹی کمیونٹی کے رکن سریش چندر کو کمیشن میں شامل کیا۔

راہل گاندھی کا دعویٰ غلط ثابت ہوا؟

غور طلب ہے کہ ہیرا لال سمریا گزشتہ چیف انفارمیشن کمشنر تھے، جنہوں نے 65 سال کی عمر مکمل ہونے کے بعد 13 ستمبر کو عہدہ چھوڑ دیا۔ انہیں 2020 میں انفارمیشن کمشنر اور 2023 میں چیف انفارمیشن کمشنر بنایا گیا۔ وہ ایس سی کمیونٹی سے آنے والے پہلے سی آئی سی تھے۔ بدھ کے اجلاس میں انفارمیشن کمشنر کی آٹھ خالی آسامیوں پر غور کیا گیا۔ ذرائع کے مطابق مرکزی حکومت نے ایک ایس سی، ایک ایس ٹی، ایک او بی سی، ایک اقلیتی نمائندے اور ایک خاتون کے ناموں کی سفارش کی ہے۔ یعنی کل آٹھ ناموں میں سے پانچ محروم طبقات سے تھے۔ان حقائق کی روشنی میں راہل گاندھی کے اعتراضات حقیقت کے برخلاف ثابت ہوئے ہیں۔

بھارت ایکسپریس اردو۔



بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

Also Read