جموں و کشمیر: کانگریس کے سینئر لیڈر راہل گاندھی کو حال ہی میں 272 ریٹائرڈ ججوں، بیوروکریٹس اور اعلیٰ سرکاری افسروں نے ایک مشترکہ خط لکھا ہے۔ اس خط پر دستخط کرنے والوں میں جموں و کشمیر کے سابق ڈائریکٹر جنرل آف پولیس ایس پی وید بھی شامل ہیں۔ اس خط کے سلسلے میں ایس پی وید نے آئی اے این ایس سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ خط لکھنے والے تمام افراد ملک کے وفادار اور تجربہ کار ذہین لوگ ہیں، جن میں ہائی کورٹ کے سابق جج، فوج اور سکیورٹی ایجنسیوں سے وابستہ اعلیٰ افسران اور پولیس افسران شامل ہیں۔ ان کے مطابق اس خط کا مقصد کسی سیاسی جماعت کی حمایت نہیں بلکہ ملک کے مفاد کی حفاظت ہے۔
انہوں نے کہا کہ ہم چاہتے ہیں کہ ملک میں اپوزیشن مضبوط ہو، تاکہ صحیح معنی میں جمہوریت قائم رہے۔ لیکن جب اپوزیشن کا رہنما آئینی اداروں پر حملہ کرے اور قومی معاملات پر غیر ذمہ دارانہ بیانات دے تو یہ افسوسناک ہے۔ ایس پی وید نے الزام لگایا کہ راہل گاندھی ماضی میں بھی بھارت کے سکیورٹی فورسز کو نشانہ بناتے رہے ہیں، جو کہ قابلِ مذمت ہے۔ انہوں نے کہا کہ سکیورٹی فورسز ملک کی حفاظت کیلئے کام کرتی ہیں، وہ کسی حکومت کی جاگیر نہیں ہیں۔ ان کی کارکردگی پر سوال اٹھانا ملک کی توہین کے برابر ہے۔
ایس پی وید نے مزید کہا کہ راہل گاندھی ہر بار سوال کرتے ہیں کہ کتنے جہاز گرے؟ انہیں یہ پوچھنے کے بجائے یہ پوچھنا چاہیے تھا کہ پاکستان کے کتنے جہاز مار گرائے گئے۔ ماہرین نے واضح طور پر بتایا ہے کہ پاکستان کو بھاری نقصان ہوا، تو کیا راہل گاندھی کو ماہرین کی بات نظر نہیں آتی؟ آپ اپنی ہی فوج سے سوال کرتے ہیں جبکہ سوال پاکستان سے ہونا چاہیے۔
انہوں نے یہ بھی کہا کہ راہل گاندھی سپریم کورٹ کی شفافیت پر بھی انگلی اٹھاتے ہیں، جبکہ سپریم کورٹ پورے ملک کا ادارہ ہے، نہ کہ کسی حکومت کا۔ فیصلے ہمیشہ حکومت کے حق میں نہیں جاتے لیکن حکومت کبھی عدالت کی توہین نہیں کرتی بلکہ قانونی طریقے سے فیصلوں کو چیلنج کرتی ہے۔ اسی طرح وہ پارلیمنٹ اور الیکشن کمیشن پر بھی حملے کر رہے ہیں۔ الیکشن کمیشن کا کام جعلی ووٹرز کی نشاندہی اور انہیں ہٹانا ہے، کیونکہ ملک کا مستقبل بنگلادیشیوں، روہنگیا یا بیرونی عناصر کے ہاتھ میں نہیں دیا جا سکتا۔
انہوں نے کہا کہ کانگریس نے 60 سے 65 سال حکومت کی، اس زمانے میں بہار میں قتل و غارت، بووتھ کیپچرنگ اور دھاندلی عام تھی، لیکن حالیہ انتخابات میں بغیر کسی تشدد کے پرامن پولنگ ہوئی، جس کی تعریف ہونی چاہیے۔ مگر راہل گاندھی اس کی تحسین کے بجائے الیکشن کمیشن پر سوال کھڑے کر رہے ہیں۔ آخری میں انمول بشنوئی کو بھارت لانے پر انہوں نے کہا کہ یہ بھارتی ایجنسیوں کی بڑی کامیابی ہے اور اس سے ہماری سکیورٹی ایجنسیوں کا وقار بڑھا ہے۔
بھارت ایکسپریس اردو
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔
