نئی دہلی: پارلیمنٹ کا بجٹ اجلاس 2026 مسلسل ہنگامہ آرائی کی نذر ہو رہا ہے۔ اب تک ایوان کی کارروائی کسی بھی دن خوش اسلوبی سے نہیں چل سکی۔ اپوزیشن کا الزام ہے کہ حکومت انہیں ایوان میں اپنی بات رکھنے کا موقع نہیں دے رہی۔ لوک سبھا میں قائدِ حزبِ اختلاف راہل گاندھی کو بولنے کی اجازت نہ ملنے پر تمام اپوزیشن جماعتیں متحد ہو کر احتجاج کر رہی ہیں اور ایوان میں ہنگامہ ہو رہا ہے۔اسی دوران منگل کو راہل گاندھی نے سابق بھارتی آرمی چیف جنرل ایم ایم نروَنے کی یادداشتوں پر مبنی کتاب ‘فور اسٹارزآف ڈیسٹنی’ کو لے کرحکومت اور پبلشر پرشدید حملہ کیا۔ انہوں نے کتاب کے ناشر پینگوئن رینڈم ہاؤس انڈیا پر جھوٹ بولنے کا الزام لگایا اور دعویٰ کیا کہ یہ کتاب فروخت کے لیے دستیاب ہے۔ واضح رہے کہ پبلشر نے کہا تھا کہ جنرل نروَنے کی کتاب ابھی شائع نہیں ہوئی اور اس کی کوئی بھی کاپی، چاہے پرنٹ ہو یا ڈیجیٹل، شائع، تقسیم یا عوام کے لیے دستیاب نہیں کرائی گئی ہے۔
#WATCH | On Delhi Police files FIR to investigate alleged circulation of former Army chief General MM Naravane’s (Retd) unpublished book, LoP Lok Sabha Rahul Gandhi says,” Here is a tweet from Mr Naravane which says -“Just follow the link to my book”. The point I am making is -… pic.twitter.com/zeHbtzJpjJ
— ANI (@ANI) February 10, 2026
پارلیمنٹ کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے راہل گاندھی نے جنرل نروَنے کی 2023 کی سوشل میڈیا پوسٹ کا حوالہ دیا۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ یہ یادداشت آن لائن فروخت کے لیے دستیاب ہے۔ راہل نے جنرل نروَنے کے ایکس پر کیے گئے پوسٹ کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ اس میں لکھا ہے، ’’ہیلو دوستو، میری کتاب اب دستیاب ہے، لنک فالو کریں، ہیپی ریڈنگ، جے ہند۔‘‘ راہل گاندھی نے کہا کہ یہ خود جنرل نروَنے کا پیغام ہے، یا تو وہ جھوٹ بول رہے ہیں، جس پر انہیں یقین نہیں، یا پھر پینگوئن جھوٹ بول رہا ہے۔ دونوں ایک ساتھ سچ نہیں ہو سکتے۔
راہل گاندھی نے کہا کہ پینگوئن کا دعویٰ ہے کہ کتاب شائع نہیں ہوئی، لیکن یہ کتاب ایمیزون پر دستیاب دکھائی دے رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ جنرل نروَنے نے خود 2023 میں ٹوئٹ کر کے لوگوں سے کتاب خریدنے کی اپیل کی تھی۔ راہل نے کہا کہ انہیں پینگوئن کے مقابلے میں جنرل نروَنے پر زیادہ بھروسہ ہے۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ آخر کس پر یقین کیا جائے، سابق آرمی چیف پر یا پبلشر پر۔ راہل گاندھی کا کہنا تھا کہ ان کے خیال میں جنرل نروَنے نے اپنی کتاب میں کچھ ایسی باتیں لکھی ہیں جو بھارت کی حکومت اور وزیراعظم کے لیے مناسب نہیں ہیں، اسی لیے تنازع کھڑا ہوا ہے۔
Hello friends. My book is available now. Just follow the link. Happy reading. Jai Hind pic.twitter.com/VCiLiZOWIi
— Manoj Naravane (@ManojNaravane) December 15, 2023
اس سے پہلے پیر کو پینگوئن رینڈم ہاؤس انڈیا نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر ایک بیان جاری کیا تھا۔ بیان میں کہا گیا تھا کہ حالیہ عوامی بحث اور میڈیا رپورٹس کے پیش نظر یہ واضح کیا جاتا ہے کہ جنرل منوج مکوند نروَنے کی کتاب ‘فور اسٹارز آف ڈیسٹنی’ کے واحد اشاعتی حقوق پینگوئن کے پاس ہیں اور کتاب ابھی تک شائع نہیں کی گئی ہے۔ پبلشر نے کہا کہ کتاب کی کوئی بھی کاپی، پرنٹ یا ڈیجیٹل صورت میں، شائع، تقسیم، فروخت یا عوام کے لیے دستیاب نہیں کرائی گئی ہے۔
پینگوئن رینڈم ہاؤس انڈیا نے مزید کہا کہ اگر کسی بھی پلیٹ فارم پر کتاب کی کوئی کاپی گردش میں ہے تو وہ کاپی رائٹ کی خلاف ورزی ہے اور اسے فوری طور پر روکا جانا چاہیے۔ پبلشر نے کہا کہ وہ کتاب کے غیر قانونی اور بغیر اجازت پھیلاؤ کے خلاف قانونی کارروائی کرے گا۔ یہ بیان پبلشر کی جانب سے اپنا موقف ریکارڈ پر رکھنے کے لیے جاری کیا گیا ہے۔
بھارت ایکسپریس اردو
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔




