Urdu Conclave 2026

Pappu Yadav Receives Death Threat: پورنیہ کے رکن پارلیمنٹ پپو یادو کو جان سے مارنے کی دھمکی، پولیس نے شروع کیں تحقیقات

رکن پارلیمنٹ کے دفتر کی جانب سے نئی دہلی کے ڈپٹی کمشنر آف پولیس کو بھیجے گئے خط کے مطابق 28 جولائی کو پپو یادو ڈاٹ او آر جی کے شکایتی پورٹل پر دو الگ الگ شکایات درج کی گئیں، جن میں پپو یادو کو گولی مار کر قتل کرنے اور ان کے پورے خاندان کو بم سے اڑانے کی کھلی دھمکی دی گئی۔

پورنیہ کے رکن پارلیمنٹ پپو یادو۔

نئی دہلی: بہار کے پورنیہ سے آزاد رکن پارلیمنٹ راجیش رنجن عرف پپو یادو اور ان کے اہلِ خانہ کو ان کی آفیشل ویب سائٹ کے ذریعے جان سے مارنے کی دھمکی دی گئی ہے۔ اس معاملے میں پپو یادو نے دہلی پولیس کے سینئر افسران سے فوری طور پر مقدمہ درج کرنے اور ملزم کی گرفتاری کا مطالبہ کیا ہے۔

ویب سائٹ کے شکایتی پورٹل پر دھمکی

رکن پارلیمنٹ کے دفتر کی جانب سے نئی دہلی کے ڈپٹی کمشنر آف پولیس کو بھیجے گئے خط کے مطابق 28 جولائی کو پپو یادو ڈاٹ او آر جی کے شکایتی پورٹل پر دو الگ الگ شکایات درج کی گئیں، جن میں پپو یادو کو گولی مار کر قتل کرنے اور ان کے پورے خاندان کو بم سے اڑانے کی کھلی دھمکی دی گئی۔

ملزم نے اپنی شناخت بھی ظاہر کی

خط میں کہا گیا ہے کہ دھمکی بھیجنے والے نے اپنا نام مکیش مشرا بتایا ہے۔ شکایت میں اس کا موبائل نمبر، ای میل پتہ، آدھار نمبر اور بہار کے ضلع مدھوبنی کا پتہ بھی درج کیا گیا ہے۔ رکن پارلیمنٹ کے دفتر نے خط میں لکھا کہ معاملے کی سنگینی اور حساسیت کو دیکھتے ہوئے اسے براہِ راست ڈپٹی کمشنر آف پولیس کی سطح پر بھیجا گیا ہے تاکہ فوری تحقیقات اور کارروائی یقینی بنائی جا سکے۔

فوری مقدمہ اور گرفتاری کا مطالبہ

خط میں مطالبہ کیا گیا ہے کہ دستیاب معلومات کی بنیاد پر متعلقہ تھانے میں فوری طور پر مقدمہ درج کیا جائے، ملزم کی شناخت کر کے اسے گرفتار کیا جائے اور تحقیقات کی پیش رفت سے رکن پارلیمنٹ کے دفتر کو باخبر رکھا جائے۔ اس کے ساتھ ہی پپو یادو اور ان کے اہلِ خانہ کی حفاظت کو مدنظر رکھتے ہوئے ضروری حفاظتی اقدامات کرنے کی بھی درخواست کی گئی ہے۔ خط میں کہا گیا ہے کہ کسی عوامی نمائندے اور اس کے خاندان کو اس نوعیت کی کھلی دھمکیاں ملنا انتہائی تشویش ناک ہے اور یہ ان کی سلامتی کے حوالے سے سنگین سوالات کھڑے کرتا ہے۔

سائبر سیل کی تکنیکی جانچ جاری

پورنیہ سے آزاد رکن پارلیمنٹ پپو یادو گزشتہ کچھ عرصے سے بہار اور قومی مسائل پر کھل کر اظہارِ خیال کرتے رہے ہیں، جس کے باعث وہ اکثر خبروں میں رہتے ہیں۔ پولیس سائبر سیل کی مدد سے آئی پی ایڈریس اور دیگر ڈیجیٹل شواہد کی جانچ کر رہی ہے۔ فی الحال ویب سائٹ کے سرور لاگز، شکایتی پورٹل پر درج تفصیلات اور فراہم کیے گئے موبائل نمبر کی تکنیکی تحقیقات شروع کر دی گئی ہیں۔

بھارت ایکسپریس۔



بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔